جی 20: طاقتور ممالک کا عظیم الشان اکٹھ

بیس عظیم ممالک  کی دو روزہ  جی ٹونٹی کانفرنس نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔یہ کانفرنس ہندوستان کی میزبانی میں منعقد کی گئی جو ”ایک زمین۔ ایک خاندان ایک مستقبل“ کے خوبصورت موٹو کے تحت منعقد کی گئی۔

 بھارتی وزیراعظم نریندرہ مودی نے صدارت کی۔ گروپ 20میں 21ممبران ہیں جن میں 19ممالک اور افریقی و یورپی یونینز شامل ہیں۔ اس میں ارجنٹائنا، آسٹریلیا، برازیل،کینیڈا، چین، فرانس،جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو،جنوبی کوریا، روس، سعودی عرب، ساؤتھ افریقہ، ترکی، برطانیہ اور امریکہ سمیت مجموعی طور پر 19ممالک اور دویونینز یعنی یورپی یونین اور افریقین یونین شامل ہیں۔
گروپ 20 دنیا کی بڑی اور ترقی کرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل ہے جو دنیا کی تقریباً 80فیصد خام قومی پیدوار، 75فیصد عالمی تجارت، 2/3عالمی آبادی اور 60فیصد زمین رکھتے ہیں۔ یہ گروپ کئی عالمی اقتصادی بحرانوں کے بعد 1999میں تشکیل دیا گیا تھا۔2008 سے ہر سال اس کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں سربراہ مملکت، فنانس منسٹر یا وزیرخارجہ شریک ہوتے ہیں اس کے علاوہ دیگر اعلیٰ سطحی حکام بھی ہوتے ہیں۔ یورپی یونین کی نمائندگی، یورپی کمیشن کرتا ہے اور یورپی سینٹرل بینک بھی شریک ہوتا ہے اس کے علاوہ دیگر ممالک، بین الاقوامی آرگنائزیشنز اور غیر حکومتی تنظیمات کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔

حالیہ جی  20 کانفرنس میں وزیراعظم نریندرہ مودی نے افریقین یونین کو باضابطہ طور  پر گروپ کاممبر قرار دے کر ممبران کی تعداد 21کر دی۔ حالیہ کانفرنس میں روسی اور چینی صدور نے شرکت سے پرہیز کیا جبکہ ارجنٹائن کے صدر البرٹوفرنانڈیز، آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البلتیز، برازیلی صدر لراناشولولاڈاسلوا، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو، چینی وزیراعظم لی کوانگ، فرانسیسی صدر عمانئیل میکرون، جرمن چانسلر اولف شولز، بھارتی وزیراعظم نریندرہ مودی، انڈونیشی صدر جوکو ودودو، اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی، جاپانی وزیراعظم فومیوکشیدا، میکسیکو کی وزیرخزانہ راکویل بونیروسٹرو، جنوبی کوریا کے صدر یون سک پیول، روسی وزیرخارجہ سرگی لاوروف، سعودی کراؤن پرنس اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ساؤتھ افریقین صدر سرل راما فوسا، ترک صدر طیب اردگان، برطانوی وزیراعظم رشی سوناک اور امریکی صدر جوبائیڈن شریک ہوئے۔ یورپی یونین کی نمائندگی، یورپی کمیشن کی صدر اور یورپی کونسل کے صدر نے کی۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، مصری صدر عبدالفتح السیسی،  ماریطانیہ کے وزیراعظم پراوند جگناتھ، نیدرلینڈ کے وزیراعظم مارک روتی، نائیجریا کے صدر بولا تمبو، عمان کے ڈپٹی وزیراعظم اسد بن طارق، سنگاپوری وزیراعظم لی حسین لونگ، سپین کی ڈپٹی وزیراعظم نادیہ کلوینو، یو اے ای کے صدر محمد بن زید النہان اور کوموروس کے ضدر ازالی اسومانی، مہمانان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔
اسی کانفرنس میں گلوبل بائیوفیول الائنس کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی۔ نئی دہلی لیڈرز ڈیکلریشن جاری کیا گیا جو متفقہ طور پر تیار کیا گیا تھا ۔سب سے اہم بات،ممالک کے ایک گروپ نے مشترکہ معاہدے کے تحت انڈیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اکنامک کاریڈور تعمیر کرنے پر اتفاق کیا کہ زمینی اور بحری کاریڈور کے ذریعے ہندوستان کو مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سے جوڑا جائے گا۔ اس گروپ میں ہندوستان کے ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، اسرائیل اور یورپی یونین شامل ہوں گے۔

اس کانفرنس میں یوکرائن کی جنگ کے منفی اثرات کا خاتمہ، عالمی سطح پر صحت اور فنی تعلیم کی سہولیات کا فروغ، غربت کا خاتمہ، اجناس کی فراہمی، جنگ و جدل سے علیحدگی، عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے سرمایہ کاری کے حجم میں اضافہ، پلاسٹک آلودگی کا خاتمہ، تباہی کے خطرات کو کم کرنا اور محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر جیسے موضوعات زیر بحث لائے گئے یورپی یونین ممالک نے پیرس ایگریمنٹ کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیاکہ وہ نہ صرف اس معاہدے کے تحت موسمیاتی گرماؤ کو محفوظ سطح پر لائیں گے بلکہ یورپی یونین 2050 تک موسمیاتی طور پر معتدل ہو چکا ہوگا۔

جی 20 کے  متعلق ہمارے میڈیا میں بہت زیادہ گفتگو نہیں کی گئی ہم سرکاری و ریاستی سطح پر ہندوستان کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔ ہماری دفاعی اور خارجہ پالیسی ہندوستان دشمنی پر مبنی ہے۔ ہم قیام پاکستان سے لے کر ہنوز ہندوستان کو اپنا دشمن تصور کئے بیٹھے ہیں۔ اسی دشمنی میں ہم نے مشرقی پاکستان گنوا دیا، کشمیر گنوا بیٹھے،غربت و جہالت ہمارا مقدر بنی۔ گو ہم نے ایٹم بم بنا لیا لیکن آج ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہندوستان کہاں جا پہنچا ہے۔ جی 20  کا انعقاد ہندوستان کے عالمی سیاست و معیشت میں رعب و دبدبے میں اضافے کا باعث بنے گا۔ ہم سفارتی سطح پر شہزادہ محمدبن سلمان کو اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے چند گھنٹوں کے لئے پاکستان لانے کے لئے کاوشیں کرتے رہے  تاکہ ہمارا بھرم رہ جائے لیکن ہمیں اس حقیر کاوش میں بھی کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔

(روزنامہ پاکستان)