بابر اعظم ،تم جیتو یا ہارو، ہم تمہارے ساتھ ہیں
- تحریر علی اصغر عباس
- ہفتہ 16 / ستمبر / 2023
پاکستانی قوم کی نفسیات سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کیونکہ اس کے ہرآن بدلتے رنگ کسی کو بھی اس قوم کے اجتماعی رویے یا طرز عمل کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کرنے دیتے۔
یہ قوم پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الااللہ کا نعرہ بھی لگاتی ہے ، پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہنے میں فخر محسوس کرتی ہے ، مذہبی تہوار ہمیشہ بڑے جوش و خروش سے مناتی ہے ۔ مگر اس نے آج تک کبھی کسی مذہبی جماعت کو عام انتخابات میں اتنی اکثریت نہیں دی کہ وہ وفاق میں حکومت بنا سکے ۔ ان کے لیڈر ہمیشہ ایسے سیاسی لوگ رہے جو انتخاب جیتنے کے لئے اپنی تقاریر میں اسلامی ٹچ تو ضرور دیتے تھے، ایک نے تو اس قوم کو پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کے دام فریب میں لے کر خوب الو بنایا۔
کرکٹ کے جواں سال کپتان اور ہیرو بابر اعظم کی ساری کامیابیوں کو حالیہ ایشیا کپ کی ناکامیوں کے غبار میں دھندلانے کی سازشیں کرنے والوں کے بچھائے جال میں دھنستی جارہی ہے۔
اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ بابر اعظم پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا ایسا عظیم کردار ہے، کہ کوئی ایک کھلاڑی تو کیا دنیا بھر کے عظیم کھلاڑیوں کے کھلاڑی بھی اس کی گرد کو نہیں پہنچ سکتے ۔ اس کے کھیل کے معترف ماضی اور عصر حاضر کے عظیم ترین کرکٹرز میں سبھی نام شامل ہیں ۔ پاک بھارت مقابلوں کی تاریخ میں ہمیشہ بھارت ہی پاکستان پر غالب آتا رہا ماضی کی ان سب تلخ شکستوں کا بدلہ بابر اعظم نے اپنی قیادت میں اپنے افتتاحی بلے باز ساتھی کے ساتھ مل کر ڈیڑھ سو رنز کی باری کھیل کر دس وکٹوں سے بھارت سے تاریخی میچ جیت کر لیا ۔ دس وکٹوں سے بھارت کو شکست دینے والی دنیا کی واحد ٹیم کا اعزاز بابر اعظم کے علاوہ کوئی دوسرا کپتان حاصل کرسکا ہے تو بتائیں؟
ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر فائز ہونے کا اعزاز پاکستان کو بابر اعظم کی کپتانی میں ہی ملا ہے۔ ایسا کپتان جس نے اپنی بلے بازی سے پاکستان کو کئی اعزازات دلوائے تو خود بھی دنیا کے کئی آل ٹائم گریٹ کرکٹرز کے اعزا ز اپنے نام کیے ۔ حالیہ ایشیا کپ میں افغانستان کے خلاف سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ کے دوران، بابر اعظم نے اپنی پہلی 100 ون ڈے اننگز میںسب سے زیادہ رنز (5142) بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ ایک قابل ذکر کارنامہ ہے کیونکہ یہ ریکارڈ رکھنے والے جنوبی افریقہ کے بیٹر ہاشم آملہ نے اپنی پہلی 100 ون ڈے اننگز میں 4946 رنز بنائے تھے جبکہ بابر اعظم اب 100 ون ڈے اننگز کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں سرفہرست آگئے ہیں۔ بھارت کے ویرات کوہلی بلاشبہ عظیم کھلاڑی ہیں۔ انہی ویرات کوہلی کی کپتانی میں بھارت نے بابر اعظم کی کپتانی میں دس وکٹوں سے شکست کھائی تھی۔ وہ بابر اعظم کے کھیل کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔
لیکن ایک ہمارے لوگ ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اول درجے کی ٹیم بنانے والے کپتان بابر اعظم کے خلاف محاذ آرائی پر تلے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ پوری قوم آنے والے ورلڈ کپ کے تناظر میں اس عظیم کھلاڑی کی بیک زبان حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نغمہ سرا ہو کہ ’تم ہارو یا جیتو ہم تمہارے ساتھ ہیں‘۔