نگران وزیر اعظم کسی نئے طوفان کو دعوت نہ دیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 16 / ستمبر / 2023
یوں تو انوار الحق کاکڑ محض نگران وزیر اعظم ہیں جنہیں آئینی طور سے انتخابات کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے لیکن ان کی مصروفیات اور میڈیا کے ساتھ روابط دیکھتے ہوئے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابات کے علاوہ وہ دنیا کے ہر معاملہ پر بے تکان بولنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ جب کوئی صحافی انتخابات پر جواب طلب کرے تو اسے پیار بھرے انداز میں یوں متنبہ کیا جاتا ہے کہ ’ اگر میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردوں تو یہ غیر قانونی کام ہوگا۔ صحافی کے طور پر آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ اگر آپ ہمیں کوئی غیر قانونی کام کرنے کی طرف دھکیلتے ہیں اور ایسے سوال کرتے ہیں جو ہمیں قانون توڑنے پر مجبور کریں تو سوچئے کہ میرا ردعمل کیا ہوگا‘۔
یعنی ہمارا نگران وزیر اعظم اتنا معصوم اور سیدھا سادا ہے کہ کوئی صحافی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے سوال پوچھے گا تو نگران وزیر اعظم اسے قانون شکنی پر آمادہ کرنے کے جرم کا مرتکب قرار دیں گے ۔ اس کے بعد اس صحافی کے ساتھ جو ہو سکتا ہے ، اس کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ملک میں اختلاف رائے کرنے والے صحافیوں یا تجزیہ نگاروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر غور کرلیا جائے تو ’اطمینان بخش‘ جواب مل سکتا ہے۔ اس قسم کا دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس ملک میں پانچ سال کا مینڈیٹ لے کر اقتدار سنبھالنے والے وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہیں کرپاتے ، وہاں ایک نگران کی کیا حیثیت ہے کہ وہ خدائی لب و لہجہ میں صحافیوں سے مخاطب ہورہا ہے۔
نگران وزیر اعظم کی سرگرمیاں اور بات کرنے کا انداز غیر ذمہ دارانہ اور تحکمانہ ہے۔ انہیں انتخابات کے مقصد سے وزیراعظم کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ اس بارے میں ہر سوال کا ان کے پاس یا تو شافی جواب ہونا چاہئے یا اگر وہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انہیں اپنی بے بسی پر شرمسار ہونا چاہئے۔ اس کی بجائے صحافی پر یہ الزام دھرنا شرمناک اور اشتعال انگیز ہے کہ انتخابات کے بارے میں سوال سے معصوم وزیر اعظم کوئی ’غیر قانونی‘ کام کرنے پر مجبور ہوجائیں گے اور قانون شکنی کی ساری ذمہ داری اس صحافی پر ہوگی جو روٹین میں ملک کے اہم ترین مسئلہ کے بارے میں سوال کررہا ہے۔ انوار الحق کاکڑ کے پاس اگر انتخابات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں تو اوّل تو اسے ان کی ناہلی سمجھنا چاہئے کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو درحقیقت جو اس عہدے پر فائز رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ دوسرے ایک وزیر اعظم کی طرف سے محض سوال کرنے پر ایک بھری پریس کانفرنس میں دھمکی آمیز انداز میں سوال کے جواب میں سوال کرنے پر ان کی جواب دہی ہونی چاہئے۔ یہ تو درست ہے کہ موجودہ بحرانی دور میں ملک کا کوئی بھی ادارہ وہ کام نہیں کررہا جو اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ لیکن بہر حال صحافی تنظیموں اور سول سوسائیٹی کے نمائیندوں کو نگران وزیر اعظم کے اس متکبرانہ طرز عمل کا نوٹس لینا چاہئے تاکہ ملک میں آزاد صحافت کا رہا سہا ڈھونگ بھی ختم نہ ہوجائے۔ اور یہ احساس راسخ ہونے لگے کہ ملک میں کسی جمہوری و آئینی عمل کے نتیجے میں کوئی قانونی نظام وجود میں نہیں آیا بلکہ ایک سخت گیر آمرانہ حکومت قائم کی گئی ہے جسے نہ تو عوام کو مسلسل مہنگائی کا نشانہ بنانے پر کوئی پریشانی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ صحافیوں کو دھمکانے میں کوئی حجاب محسوس کرتی ہے۔
ملک میں انتخابات کا انعقاد اہم ترین معاملہ ہے۔ ہر ذی شعور اس معاملہ پر پریشانی و بے چینی محسوس کرتا ہے۔ تحریک انصاف تو خیر ’دشمن ‘ سیاسی گروہ قرار پاچکا ہے جس کے مطالبے یا احتجاج کو کوئی اہمیت دینا ضروری نہیں سمجھا جاتا لیکن بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے بھی تسلسل سے بروقت انتخابات منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ملک کے بڑے سیاسی حلقے اور وکلا کی ایک معقول تعداد کا خیال ہے کہ الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کا پابند ہے۔ اس آئینی تقاضے کو مردم شماری کی وجہ سے حلقہ بندیوں کے عذر پر ٹالا نہیں جاسکتا۔ اسی تناظر میں صدر عارف علوی نے الیکشن کمشنر کے نام ایک تازہ خط میں 6 نومبر کو انتخابات منعقد کروانے کی تجویز دی ہے۔ صدر نے خود ہی واضح کیا ہے کہ چونکہ وزارت قانون یہ کہتی ہے کہ انہیں انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں ہے ، اس لیے وہ الیکشن کمیشن سے کہہ رہے ہیں کہ وہ صوبائی حکومتوں کے مشورے اور سپریم کورٹ کی رہنمائی سے مقررہ وقت میں اتخابات منعقد کرنے کا اہتمام کرے۔ صدر نے 6 نومبر کی تاریخ بھی اسی لیے تجویز کی ہے کہ 9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد سے یہ 89 واں دن ہوگا۔ اس تجویز کا مقصد الیکشن کمیشن کو ’غیر آئینی ‘ راستے پر چلنے سے باز رکھنا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز لاہور میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے۔ پیپلز پارٹی سرکاری طور سے اگرچہ یہی پوزیشن لے رہی ہے کہ انتخابات 90 دن کی مدت میں ہی ہونے چاہئیں لیکن وہ پھر بھی مردم شماری اور نئی حلقہ بندی کے عذر پر الیکشن کمیشن کو کچھ مہلت دینے پر آمادہ ہے۔ الیکشن کمیشن ایک اہم سیاسی پارٹی کے اس سخت مؤقف کے باوجود ٹس سے مس ہونے پر تیار نہیں ہے۔ اور انتخابات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی طرف سے مقررہ مدت میں انتخابات کروانے کی پٹیشن کو متعدد اعتراضات لگاکر واپس کردیا ہے۔ سبک دوش ہونے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تو ضرور معصومیت سے یہ سوال پوچھا کہ مقررہ مدت میں انتخاب کروانے پر کیا اختلاف ہوسکتا ہے لیکن انہی کے زیر نگرانی انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف کی پٹیشن کئی ہفتے انتظار کے بعد اعتراضات لگا کر واپس کردی گئی۔ یعنی انہوں نے اس قضیہ میں ’فریق‘ بننے سے گریز کیا۔
اب نگران وزیر اعظم انتخابات کے بارے میں سوال پر اشتعال انگیز رویہ کا اظہار کررہے ہیں۔ یہ صورت حال ملک میں آئینی جمہوری عمل کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کررہی ہے جس کا کہیں سے جواب دستیاب نہیں ہے۔ نگران وزیر اعظم کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیویارک جانے اور کشمیر کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کا تو بہت شوق ہے لیکن وہ پاکستانی عوام کو ان کے بنیادی حق کے حوالے سے کوئی معلومات دینے پر آمادہ نہیں ہیں ، جس کی نگرانی کے لیے انہیں یہ عہدہ تفویض کیا گیا ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے انوارالحق کاکڑ نے جس تواتر سے ٹاک شوز اور میڈیا کو انٹرویو دینے کا سلسسلہ شروع کیا ہے ، وہ ان کے منصب اور اس کی ذمہ داریوں سے میل نہیں کھاتا۔ انوار الحق کاکڑ ملک کے نگران وزیر اعظم بنائے گئے ہیں ۔ انہیں خود کو ’ مفکر اعظم اور دانشور اعلیٰ‘ بننے کی غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ پاکستان جس مشکل معاشی صورت حال کا سامنا کررہا ہے ، اس میں نگران سیٹ اپ میں کسی عہدیدار کو غیر ملکی دوروں کا قصد نہیں کرنا چاہئے۔ کجا وزیر اعظم صاحب خود بھاری بھر کم وفد کے ساتھ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جارہے ہیں۔ اس دورہ سے وہ نہ تو کشمیر کاز کی کوئی خدمت کرسکیں گے اور نہ ہی ملک و قوم کو اس کا کوئی فائدہ ہوگا۔ بلکہ وہ نیویارک میں پاکستان کا نام خراب کرنے اور مذاق بنوانے کا سبب بنیں گے۔
اس پر مستزاد یہ کہ ایک تازہ انٹرویو میں نگران وزیر اعظم نے پالیسی تسلسل کے لئے ایک پارٹی کی حکومت کا ’فلسفہ‘ پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ کسی ملک میں پالیسیوں کے تسلسل کے لئے تین چار دہائی تک ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونی چاہئے۔ ان کے الفاظ میں ’ پالیسی کا تسلسل لبرل جمہوری اور پارلیمانی نظام میں ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک پارٹی کی حکومت ضروری ہے جو تین چار دہائیوں تک اقتدار میں رہے تاکہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے خواہ وہ غلط ہوں یا درست۔ لبرل جمہوریت جس میں پارلیمانی نظام کام کرتا ہے، اس میں معاشی اور سیاسی چیلنجز کے تازہ بہ تازہ جائزے کے مطابق پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ پھر اسی بنیاد پر عوام حکمرانوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں اور حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں‘۔
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو سیاسی نظریات کے بارے میں اپنا ’فلسفہ‘ سنانے اور نظام حکومت کے بارے میں دانشوری جھاڑنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ وہ اگر ملک میں ایک پارٹی کی حکومت کے حامی ہیں اور ملک کے آئینی انتظام کو درست نہیں سمجھتے تو انہیں نگران وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کی بجائے کسی سیاسی تحریک کا آغاز کرنا چاہئے جو عوام کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ ایک پارٹی یا ایک فرد کو تیس چالیس سال تک ملک پر حکمرانی کا حق تفویض کردیں تاکہ پالیسیوں میں نام نہاد تسلسل سے بحران دور ہوسکے۔ موجودہ عہدے پر فائز ہوتے ہوئے جب وہ ایسی لایعنی اور بعید از قیاس باتیں کریں گے تو یہی گمان ہوگا کہ طاقت ور حلقوں کی طرف سے ایک بار پھر ملکی سیاست میں کوئی نیا تجربہ کرنے کے لیے میدان ہموار کیا جارہا ہے۔ یہ تاثر موجودہ بحران اور بے یقینی میں اضافہ کرے گا۔ مہنگائی اور بجلی و پیٹرول کی قیمتوں سے عاجز آئے ہوئے لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ان سے اب ووٹ کا حق چھیننے کی تیاری ہورہی ہے۔
یہ تاثر نگران حکومت اور وزیر اعظم ہی کے لیے نہیں بلکہ ملک کے امن و امان اور پورے ریاستی ڈھانچے کے لیے غیر معمولی طوفان کی بنیاد بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس وقت تمام تر مشکلات کے باوجود لوگوں کو یہ امید ہے کہ بالآخر انہیں اپنے نمائیندے چن کر فیصلوں میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ اگر یہ امید بھی چھین لی گئی تو ملک میں پیدا کیا گیا سناٹا کسی بڑے طوفان کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ نگران وزیر اعظم ایسی آگ کے ساتھ کھیلنے سے باز رہیں۔