مس پاکستان حرام، مسٹر پاکستان حلال؟

کہتے ہیں کہ جب بغداد پر حملہ ہوا تو اُس وقت علمائے کرام یہ بحث کرنے میں مصروف تھے کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں، میں نے اِس لیے لکھا کہ اِس واقعے کی صحت پر مجھے شبہ ہے۔

لیکن اگر اِس واقعے کو ڈینگی بھی ہے تو کام چل جائے گا کیونکہ یہ واقعہ اب ضرب المثل بن چکا ہے اور محض اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی غرض سے سنایا جاتاہے۔ سقوط بغداد کو آٹھ سو سال گزر گئے مگر ہم وہیں کھڑے ہیں، آج بھی ہمارے علما، لکھاری اور دانشور وہی لکیر پِیٹ رہے ہیں۔ ہم یہ تعین ہی نہیں کر سکے کہ ہمارے اصل مسائل کیا ہیں، حل تو بہت بعد کی بات ہے ۔ ایک تازہ مثال دیکھ لیں۔ پانچ پاکستانی خواتین کو عالمی مقابلہ حسن میں شرکت کے لیےنامزد کیا گیا ، اُن میں سے ایریکا روبن نامی خاتون مِس پاکستان منتخب ہوئیں اور اب وہ ال سلویڈور میں عالمی مقابلے میں شرکت کریں گی۔

اِس پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے ٹویٹ کیا کہ  ’پانچ دوشیزائیں عالمی مقابلہ حسن میں پاکستان کی ’نمائندگی‘ كريں گی۔ اگر یہ سچ ہے تو ہم کہاں تک نیچے کریں گے؟ حکومت اس خبر کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے اور کم ازکم ملک کی ’نمائندگی‘ کا تاثر زائل کرے‘۔

اصول کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو آئین اور قانون کے مطابق اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ مفتی صاحب چونکہ پاکستان کے شہری ہیں اِس لیے انہیں بھی پورا حق ہے کہ وہ اپنا نقطہ نظر رکھیں اور اسے لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ یہ حق انہوں نے استعمال کرلیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مفتی صاحب کی بات میں کتنا وزن ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کم از کم اِس وقت مفتی صاحب کو یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ ملک میں جس قسم کے معاشی حالات ہیں، اُن میں کسی کو ہوش نہیں کہ عالمی مقابلہ حسن کس چڑیا کا نام ہے اور اُس میں کون شرکت کررہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقات اِس وقت بدترین صورتحال سے دوچار ہیں اور انہیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ ایسے میں اگر چند پاکستانی لڑکیاں مقابلہ حسن میں شرکت کے لیے چلی گئیں تو اُس سے برپا ہونے ولی قیامت کچھ عرصے کے لیے ملتو ی بھی کی جا سکتی تھی۔ اور یہ بحث کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھی جا سکتی تھی۔

سچی بات یہ ہے کہ اِس دلیل میں اتنا وزن نہیں۔ یہ دلیل اُسی قسم کی ہے کہ جس ملک کی چوبیس فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہو اُس ملک میں سڑکیں بنانے پر پیسے خرچ نہیں کرنے چاہئیں ۔ لہذایہاں تک تو میں مفتی صاحب کے ساتھ ہوں ، اب دیکھتے ہیں کہ جو بات مفتی صاحب نے کی وہ کس حد تک منطقی ہے ۔

مفتی تقی عثمانی پاکستان کے آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہیں اور اُس کے دائرے میں رہ کر اپنا زاویہ نگاہ پیش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی آئین ہے جو ہر شہری کو اپنی مرضی سے جینے کا حق دیتا ہے ۔اب اگر اپنی مرضی سے اِس حق کو استعمال کرکے کچھ خواتین عالمی مقابلے حسن میں شرکت کی متمنی ہیں تو اِس میں مفتی صاحب، میں یا کوئی بھی اور شخص کیوں کر معترض ہوسکتا ہے؟ اِس کا جواب یہ آئے گا کہ کسی کو کھلی چھٹی نہیں دی جاسکتی کہ وہ اِس قسم کی حیا باختہ سرگرمیوں میں حصہ لے کر ملک کا نام بدنام کرے۔ یہ منطق عجیب ہے۔

اِس ملک کے طول و عرض میں تن سازی کے مقابلے ہوتے ہیں، مرد باڈی بلڈر بالشت بھر کا جانگیہ پہن کر اُن میں حصہ لیتے ہیں۔ میڈیا پر اُن کی خبریں چلائی جاتی ہیں مگر یہ مقابلے کبھی ہمارے مفتیان  کرام کو نہیں کھٹکے، کیوں؟ اِس لیے کہ اِن مقابلوں میں مرد حصہ لیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں سطر پوشی کا جو معیار مردوں کے لیے مقرر ہے، اِن مقابلوں میں اُس کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ کسی عالم دین، مفتی یا لکھاری نے اِس کے بارے میں مضمون نہیں لکھا ، ٹویٹ نہیں کی اور اعتراض نہیں جڑا ، کیوں؟

اِس لیے کہ ہم عورتوں اور مردوں کو برابر ہی نہیں سمجھتے اور یہی اصل مسئلے کی جڑ ہے ۔ ہمارے نزدیک مس پاکستان حرام ہے مگر مسٹر پاکستان حلال ہے۔ ہم زبانی کلامی تو عورتوں اور مردوں کی برابری کی باتیں کرتے ہیں مگر عملاً عورت کو کمتر ہی سمجھتے ہیں ۔ اگر مسئلہ سطر پوشی کا ہوتا تو ہمارے علما اور مفتیان کرام باڈی بلڈنگ اور کبڈی کے مقابلوں میں مردوں کی سطر پوشی کو یقینی بنانے کی بات بھی کرتے مگر انہیں یہ معیوب نہیں لگتا ۔ دوسری طرف، عالمی مقابلہ حسن ال سلویڈور میں منعقد ہوگا اور اتفاق سے اُس میں جو پاکستانی خاتون شرکت کر رہی ہے وہ غیر مسلم ہے، اِس سے ہمارے مفتیان کرام کا کیا لینا دینا؟ اوہ اچھا، پاکستان کی بد نامی ہوگی۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ پاکستان کی بدنامی اُس وقت نہیں ہوتی جب کسی مدرسے میں طالب علم کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آتا ہے ، پاکستان کی بدنامی اُس وقت نہیں ہوتی جب یہاں مسیحی برادری کے گھر اور گرجے نذر ِ آتش کیے جاتے ہیں ، پاکستان کی بدنامی اُس وقت نہیں ہوتی جب ہم گلی گلی کشکول لے کر گھومتے ہیں، پاکستان کی بدنامی اُس وقت نہیں ہوتی جب یہاں اقلیتوں کی قبروں سے کتبے اکھاڑے جاتے ہیں۔۔۔اُس وقت ٹویٹس میں کیا کہا جاتا ہے!

لیکن میں واقعی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ چند خواتین کے مقابلہ حسن میں شرکت کرنے سے پاکستان کی بدنامی کیسے ہوگی؟ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ حرکت شعار  اسلام کے منافی ہے یا ہماری مشرقی اقدار سے میل نہیں کھاتی یا جس انداز میں بکنی پہن کر مقابلہ حسن میں واک کروائی جاتی ہے، وہ نہایت بیہودگی ہے ۔ اِن باتوں سے تو میں بھی اتفاق کرتا ہوں بلکہ ایک قدم اور آگے جاکر یہ بھی کہتا ہوں کہ بکنی توکوئی لباس ہی نہیں، جس قسم کا لباس ومبلڈن میں عورتوں کے لیے گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے مخصوص تھا وہ بھی قابل اعتراض تھا جسے اب کہیں جا کر2023 میں تبدیل کیا گیا ہے۔

لیکن بات پھر وہی ہے کہ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے کسی مقابلے میں حصہ لیتی ہے تو یہ اُس کا ذاتی معاملہ ہے ، ہم اُس کے اعمال پر اعتراض کرنے والے کون ہیں؟ رہی بات پاکستان کی بدنامی کی تو چار اسلامی ممالک کے نام سُن لیں، مصر جو تہذیب کا مرکز ہے ، انڈونیشیا ، جو بلحاظ آبادی سب سے بڑا اسلامی ملک ہے، ملائشیا، جس کی ترقی کی مالا جپتے ہوئے ہم نہیں تھکتے اور ترکی، جو ہمارا رول ماڈل ہے ، اِن تمام ممالک میں مقابلہ حسن منعقد ہوتا ہے توکیا یہ اسلامی ملک دنیا میں بدنام ہوچکےہیں؟

آپ اپنا نقطہ نظر رکھیں، اِس کا آپ کو پورا حق ہے ، مگر لوگوں کو یاد دلانا ہماری ذمہ داری ہے کہ ماضی میں آپ نے ملالہ ، طالبان اور افغانستان کی فتح وغیرہ جیسے معاملات پر جو اظہار خیال فرمایا وہ کس حد تک درست ثابت ہوا۔ اگر وہ تمام باتیں حالیہ تاریخ نے غلط ثابت کردی ہیں تو پھر کیا ضمانت ہے کہ اِس مرتبہ آپ درست فرما رہے ہیں؟

کالم کی دُم: مجھے انداز ہ ہے کہ کچھ لوگ اب بھی وہی راگ الاپیں گے کہ اگر آپ مقابلہ حسن کے حامی ہیں تو اپنی ماں بہن کو اُس میں شرکت کے لیے بھیج دیں۔ اِس ذہنی افلاس اور پستی کا کوئی علاج نہیں کیونکہ اِن لوگوں کو یہ بات سمجھائی ہی نہیں جا سکتی کہ جب آپ اِس سطح کی ’دلیل ‘ دینے پر اتر آتے ہیں تو اِس کا مطلب ہوتا ہےکہ آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہا۔ آخر ہم یہ بات تسلیم کیوں نہیں کرلیتے کہ عورتیں اپنا بھلا برا خود سمجھ سکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے اُن کے بھائی یا بیٹے مسٹر پاکستان بننے کا فیصلہ خود کرسکتے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)