ہمیں اللہ واسطے کے کام کی کیا ضرورت ہے؟

ہمارے معاشرے میں یہ جو ہر بندہ بڑھ بڑھ کر اللہ واسطے کے کام کرتا ہے، اس کی کیوں ضرورت ہے۔ اور یہ کام کرنے والوں کی منشا کیا ہوتی ہے؟ ایک مثال دیکھیے کہ ہمارے ہاں جب کوئی بندہ اپنے پیسوں سے کوئی چیز خریدنے لگتا ہے

تو وہ اس چیز کے اصلی ہونے کی تحقیق کرتا ہے، یا یوں سمجھ لیں کہ اصل اور نقل کا فرق، سمجھنے کی جستجو کرتا ہے۔ ایسا کیوں کرنا پڑتا ہے۔ جب ہم یورپ کے کسی ملک سے چیز خرید کرتے ہیں تو ہم نے کبھی تحقیق نہیں کی کہ اصلی ہے یا جعلی ہے۔ نہ ہی کسی دکان پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس اصلی یا ایک نمبر مال ہے۔ ہم چیز کا برانڈ دیکھتے ہیں اس کے اوپر لگی قیمت کو دیکھتے ہیں اور اپنی جیب کا حساب لگا کر چیز خرید لیتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہاں چیز کی اوپر جو لکھا ہے وہ درست ہے اور یہاں نقلی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

اب دوبارہ سوچتے ہیں کہ ہم اللہ واسطے کے کام کیوں کرتے ہیں۔ اللہ اپنے کام خود کیوں نہیں کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے متعلق ہمارا ایمان یہ ہے کہ وہ خالق کائنات ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ پھر ہمیں یہ ضرورت کیوں کر پڑتی ہے کہ اللہ واسطے کام کرتے پھریں؟ ویسے تو پوری دنیا میں غیر سرکاری تنظیمیں کام کرتی ہیں لیکن ان کا طریقہ مختلف ہے اور وہ بڑے مقاصد کو سامنے رکھ کر کام کرتی ہیں۔ ان کا منشا ثواب سمیٹنا ہوتا ہے، نہ داد وصول کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بغیر کسی نظام اور بغیر کسی ترتیب کے ہر کوئی اپنے ہاتھ سے اپنی مرضی کے بندوں کی مدد کر کے داد وصول کرنے کے علاوہ اپنی آخرت سنوارنے کا خواہاں ہوتا ہے۔

ویسے میں سوچتا ہوں کہ جس معاشرے میں ہر دوسرا بندہ خیرات کا حقدار ہو یا مانگتا ہو، کیا اس معاشرے کے لوگ بھی جنت میں جائیں گے کیا؟ یہ خاکسار اصل بات جو کرنا چاہتا ہے، وہ یہ کہ جب ہم مسلمان ہیں تو پھر ہمارا نظام بھی بمطابق اسلام ایسا ہونا چاہیے کہ یہاں کوئی کسی کا محتاج ہی نہ ہو۔ جن لوگوں کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ مال آ جاتا ہے، وہ بیت المال میں جمع کروا سکتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں تو باقاعدہ بیت المال اور زکوٰۃ و عشر کے محکمے موجود ہیں۔ (انہی محکموں سے ہمارے حکمرانوں کے بیرون ملک علاج معالجے بھی ہوتے ہیں۔ اور چئیرمینوں کو گاڑیاں، تیل اور ملازمین بھی ملتے ہیں) جس ملک کا نظام ہی اللہ کے احکامات کے مطابق ہو اس میں پھر ہمیں کیوں کر اللہ واسطے کے کام کرنا پڑتے ہیں؟

ہمارے اوپر کہاں یہ فرض ہے کہ ہم بیماروں کا علاج کروائیں، ہم بھوکوں کو کھانا کھلائیں، ہم راستے بنوائیں اور غریب لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی مدد کریں (اگر غریب نہ ملے تو پہلے کسی کو غریب کریں پھر اس کی مدد کریں) اگر کوئی قرآن و حدیث کے ان حوالہ جات کی بات کرتا ہے جو باقاعدہ ریاستی نظام سے پہلے کے ہیں تو اسے سوچنا چاہیے کہ ریاست کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ اسلامی ریاست سے پہلے تک تو قرآن پاک لونڈیاں اور غلام رکھنے کی اجازت بھی دیتا ہے لیکن اسلامی ریاست کے قائم ہو جانے کے بعد یہ سلسلہ بتدریج ختم ہو گیا تھا۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور ہی میں زکوۃ و عشر کا محکمہ قائم ہو گیا تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ زکوٰۃ درختوں کے ساتھ باندھنا پڑتی کیونکہ کوئی لینے والا نہ تھا۔

پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ راقم آپ کو نیک کام کرنے یا دوسروں کی مدد کرنے سے منع کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ میں تو خود روزانہ دوسروں کی مدد کرتا ہوں۔ اپنی ضرورتوں کو کم کر کے بھی دوسروں کی مدد کرتا ہوں۔ سوال مگر ریاست کا ہے کہ ایک اسلامی ریاست کے کیا فرائض ہیں. دوسرا یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم جب کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو ہمارا مطمع نظر کوئی ذاتی تشہیر، داد وصول کرنا یا آخرت سنوارنے سے زیادہ معاشرے کی بہتری، معاشرے میں اچھے کاموں کو فروغ دینے کی خواہش ہونا چاہیے۔ اور اس کے ساتھ ان کاموں کو باقاعدہ ایک نظام کے تحت سرانجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ریاست کے اندر ایک ایسا مربوط نظام ہونا چاہیے جس میں دینے والے کی تشہیر ہو نہ لینے والے کی عزت نفس مجروح ہو۔

اللہ تعالیٰ کے زیادہ تر احکامات کا تعلق انفرادی کے بجائے اجتماعیت سے ہے. اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو اسلام کے مطابق نظام دینا چاہتا ہے، جب معاشرے کا نظام اسلام کے مطابق ہوگا تو پھر انفرادی طور پر بھی افراد کا اپنی ریاست پر اعتماد بحال ہوگا اور وہ اپنے کردار کو درست رکھیں گے۔  پھر جہاں بھی آپ گاڑی کھڑی کریں گے گداگر آپ پر حملہ آور ہوں گے نہ دکانوں اور دفاتر کے اندر باہر مانگنے والوں کی قطاریں ہوں گی۔ جب ہم اپنے طور پر لوگوں کی مالی مدد کرتے ہیں تو پھر بہت سارے لوگ مانگنے کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں اور ہڈ حرام ہو کر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جس سے ملک کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ کام کر کے کمائیں گے اس حساب سے ملک میں معیشت کو فائدہ ہوگا۔ اور یہ کام سب سے پہلے ہمارے حکمرانوں کو کرنا چاہیے کہ دوسرے ممالک کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنے ملک کی پیداوار بڑھائیں دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی مقابلہ کریں۔

ہمارے حکمرانوں کو کئی بار دوست ممالک بھی یہ مشورے دے چکے ہیں کہ آپ ہمارے دوست ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھیک مانگنے کی بجائے کچھ کام کریں اور ملکی پیداوار بڑھا کر تجارت میں اضافہ کریں۔  پھر اللہ بھی آپ کی مدد کرے گا۔