سکھ رہنما کے قتل پر کینیڈا اور بھارت میں کشیدگی، سفارت کار بے دخل
بھارت نے خالصتان کے حامی سکھ رہنما کے قتل میں نئی دہلی کے ملوث ہونے کے کینیڈا کے الزامات کو غیر منطقی قرار دیا ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو ملک بدر کیا ہے۔
کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بھارت پر الزام لگایا تھا کہ کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں نئی دہلی کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے اوٹاوا میں تعینات بھارتی سفارت کار کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے منگل کو جاری ایک بیان میں کینیڈا کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ’بے بنیاد الزامات کا مقصد خالصتانی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے توجہ ہٹانا ہے جنہیں کینیڈا میں پناہ دی گئی ہے۔ یہ عناصر بھارت کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ بننے کی کوشش کرتے ہیں‘۔ کینیڈا سے بھارت کے سینئر سفارت کار کی ملک بدری کے جواب میں نئی دہلی نے بھی ایک سینئر کینیڈین سفارت کار کو پانچ دن میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں کینیڈا کے ہائی کمشنر کو منگل کو طلب کر کے انہیں آگاہ کیا گیا کہ کینیڈا کے ایک سینئر سفارت کار کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کا اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسے کینیڈا کے سفارت کاروں کے بھارت کے اندرونی معاملات اور ان کے بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر تشویش ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق کینیڈا کی حکومت کی خالصتانی رہنماؤں کے خلاف عدم کارروائی ایک طویل عرصے سے خدشات کا سبب ہے۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم نے پیر کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی غیر ملکی حکومت کی کینیڈا کی سر زمین پر کسی کینیڈین شہری کے قتل میں ملوث ہونا نا قابلِ قبول ہے اور یہ کینیڈا کی خود مختاری کے بھی خلاف ہے۔
امریکہ نے کینیڈین وزیرِ اعظم کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے کینیڈین شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ کینیڈین تحقیقات کار آگے بڑھیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
واضح رہے کہ 18 جون کو کینیڈا کی ریاست برٹش کولمبیا کے ایک کلچرل سینٹر میں ہردیپ سنگھ نجر نامی ایک سکھ رہنما کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ہردیپ سنگھ نجر بھارت میں سکھوں کے لیے ایک خود مختار ریاست ’خالصتان‘ کے بھر پور حامی تھے۔ سکھوں کی آزاد ریاست ’خالصتان‘ کی تحریک پر بھارت میں پابندی ہے۔ بھارتی حکام اس تحریک اور اس سے منسلک گروہوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
خالصتان تحریک کو بھارت کی شمالی ریاستوں کے ساتھ ساتھ کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی کچھ حمایت حاصل ہے۔ ان ممالک میں سکھ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے الزامات پر بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں جیسے قاتلوں، انسانی اسمگلروں اور منظم جرائم پیشہ افراد کو کینیڈا میں دی گئی آزادی کوئی نئی بات نہیں۔ کینیڈا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان تمام بھارت مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو کینیڈا کی سر زمین سے اپنی سرگرمیاں سر انجام دیتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جون میں کینیڈا میں قتل ہونے والے ہردیپ سنگھ نجر 1997 میں بھارت سے کینیڈا منتقل ہوئے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ خالصتان کی آزادی کی حامی ’خالصتانی ٹائیگر فورس‘ کی بھارت میں قیادت کر چکے تھے اور قتل سے قبل وہ کینیڈا میں اسی خالصتانی ٹائیگر فورس سے منسلک ’سکھ فار جسٹس‘ نامی تنظیم چلا رہے تھے۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق رواں ماہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جی20 اجلاس کے موقع پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے سامنے ہردیپ سنگھ کی موت کا معاملہ اٹھایا تھا۔
واضح رہے کہ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ میلانی جولی نے پارلیمان کو آگاہ کیا ہے کہ کینیڈا میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سربراہ کو اس معاملے پر ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ ’را‘ کے جس عہدیدار کو کینیڈا سے بدر کیا گیا ہے وہ بھارت کے سفارتی مشن میں شامل تھا۔
کینیڈا اور بھارت میں کشیدہ ہوتے تعلقات کے دوران دونوں ملکوں میں تجارت پر مذاکرات بھی متاثر ہوئے۔ کینیڈا نے بھارت جانے والے تجارتی مشن منسوخ کر دیا ہے۔ کینیڈا کی آبادی میں سکھوں کا تناسب لگ بھگ دو فی صد ہے۔ یہ تعداد سات لاکھ 70 ہزار کے قریب ہے۔