بھارت نے پاکستان کی امن کی کوششوں کا منفی جواب دیا: وزیر خارجہ

  • بدھ 20 / ستمبر / 2023

نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی سکھ برادری کے لیے ویزا فری آمد کے لیے کرتارپور راہداری کھولنے سمیت پاکستان کی جانب سے کیے گئے مثبت اور امن و آشتی کے اقدامات کا جواب بھارت کی جانب سے منفی انداز میں دیا گیا ہے۔

نیویارک میں منعقدہ ایشیا سوسائٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ پرامن اور باہمی تعاون پر مبنی ہمسایہ تعلقات کا خواہشمند ہے۔ یہ کانفرنس ان متعدد پروگرامز میں سے ایک ہے جن میں نگران وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر شرکت کر رہے ہیں۔ جلیل عباسی جیلانی اور نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ پاکستان کی نمائندگی کے لیے امریکا میں موجود ہیں۔

نگران وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور اس کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں معصوم کشمیریوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ بھارت میں مذہبی انتہا پسندی خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف بدتر ہوئی صورتحال نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

اس طرح کے پیچیدہ ماحول میں ملکی انتخابات کے لیے بھارت کی جارحیت اور پاکستان مخالف بیانیہ دونوں ممالک کو علاقائی امن و استحکام کے مقاصد سے مزید دور لے جا رہے ہیں۔ جب کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پرامن تعمیری بات چیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پرامن افغانستان میں سب سے زیادہ فائدہ ہے۔ اور جس کے اپنے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ پرامن تعلقات ہوں۔ افغان عبوری حکومت کے ساتھ براہ راست رابطے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے معاملے پر عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرنے کی ہماری کوششوں کا یہ مرکزی مقصد میں ہے۔

ہم پاکستان میں تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں۔ یہ کام ہم تقریباً چار دہائیوں سے کر رہے ہیں، افغان حکام اور عالمی برادری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ جب بھی حالات ٹھیک ہوں تو یہ افغان مہاجرین اپنے ملک افغانستان کی معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے واپس لوٹ جائیں۔ ہم بھی افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال خاص طور پر خواتین کے حقوق، لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمت سے متعلق مسائل پر عالمی برادری کی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

جلیل عباس جیلانی نے زور دے کر کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے مسئلے کو بعض ممالک، برادریوں، خطے اور مذہب سے جوڑ کر اسے سیاسی رنگ دینے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ افغانستان سے سرحد پار سے ہونے والے پرتشدد حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش سے ہے جب کہ یہ تنظمیں پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں۔

یوکرین کی جنگ پر بات چیت کرتے ہوئے نگران وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی مؤقف اس کے تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے اصولوں، علاقائی سالمیت و خود مختاری کے احترام پر یقین کے تحت ہے۔ ہم جنگ کے خاتمے اور یوکرینی عوام کے مصائب کو کم کرنے میں مدد کے لیے تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے۔ امید کرتے ہیں کہ امن قائم ہوجائے گا تاکہ روس اور یوکرین کے عوام کو اس کے فوائد سے لطف اندوز ہوسکیں۔