عالمی امن کے بگاڑ میں بڑی طاقتوں کا کردار

دنیا کے تمام ممالک اور لوگوں میں امن کی کوششوں اور نظریات کو فروغ دینے کے لیے ہرسال 21ستمبر کو امن کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔تھامس ہابس کے مطابق انسانی فطری طور پر سفاک ہے اورگزشتہ ایک صدی کے دوران عالمی طاقتوں کی باہمی رسہ کشی کی وجہ سے متعدد ریاستوں کے مابین ہونے والی ہولناک جنگیں تھامس ہابس کے نظریے کو تقویت بھی دیتی ہیں۔

اگرچہ زمانہ قبل از مسیح،بعد از مسیح اور اسلامی دور میں بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرما رہنے سے امن مفقود ہی رہا تاہم ماضی کی نسبت گزشتہ ایک صدی کے دوران ہونے والی ہولناک جنگوں کو اس وجہ سے تشویش ناک کہا جاسکتا ہے کہ یہ جنگیں جدید ریاستی نظام کے بعد ہوئیں۔یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد مغربی اقوام نے سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کی تو انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور علوم کی بدولت پسماندہ اور کمزور اقوام کو فتح کرنے اور ان کے وسائل  پر قبضہ جمانے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں دنیا کا امن برباد ہوتا رہا۔

پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے لوگ سمجھتے تھے کہ انسان ایسی تباہ کن جنگ دوبارہ نہیں چھیڑے گا لیکن صرف دو دہائیوں بعد بڑی طاقتوں نے دوسری عالمی جنگ چھیڑ لی جس نے چھ کروڑ انسانوں کو نگل لیاجب کہ پہلی جنگ عظیم میں مرنے والے انسانوں کی تعداد چار کروڑ کے لگ بھگ تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپین نے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نہ ہونے کا عہد کرتے ہوئے نیٹو اتحاد قائم کیا جس کے نتیجے میں تقریباً گزشتہ پون صدی سے یورپ میں امن اور استحکام ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں اس اتحاد نے امریکہ کی جنگوں کا حصہ بن کر عراق اور افغانستان سمیت دنیا کے کئی ایک حصوں میں امن اور استحکام کو بری طرح تہس نہس کیا۔

آج سے چار دہائیاں قبل دنیا کی ایک بڑی طاقت(امریکہ) نے دنیاکی دوسری بڑی طاقت (سوویت یونین)کو شکست دینے کیلئے پاکستان اور سعودی عرب کی مدد سے دنیا بھر کے مذہبی جنگجوؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے جس "مقدس جہاد"کا آغازکروایا تھا،اس کے "سائیڈ ایفیکٹس"نے اب بھی خطے کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کا امن و امان داؤ پرلگا رکھا ہے۔اسی کی دہائی میں افغان سرزمین پر لڑی جانے والی افغان رشیا جنگ بنیادی طور پر روس کی افغانستان میں مداخلت کے خلاف افغانوں کی مزاحمت کے طور پر یاد رکھی جاتی ہے۔ تاہم حقیقت میں یہ افغانستان میں لڑی جانے والی امریکہ کی روس کے خلاف پراکسی وار تھی۔ اس جنگ میں اربوں ڈالر کا سرمایہ امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک نے روس کے خلاف برسرپیکار مجاہدین کو دیا۔ پاکستان نے اس جنگ میں کچھ ایسے حصہ لیا کہ اس کی سرزمین نہ صرف دنیا بھر کے مجاہدین کا تربیتی و بیس کیمپ بنی رہی بل کہ یہاں سے ہزاروں مجاہدین روس میں لڑنے کے لیے بھی گئے۔

س میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان میں سوویت مداخلت کے پیچھے سرخ انقلاب کے پھیلاؤ اور تقویت پہنچانے کی حکمت عملی ضرور کارفرما تھی تاہم اس مداخلت کا حتمی مقصد گرم پانیوں تک رسائی ہرگز نہیں تھی جس کا ہمارے ہاں ماضی میں حکومتی سطح پر بھی بہت ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا ہے۔سوویت انخلا کے بعد اگلی ایک دہائی میں افغانستان میں ایک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں افغان سوویت جنگ سے بھی زیادہ افغان شہری مارے گئے۔ مجاہدین کے مختلف گروہوں کی آپس کی خانہ جنگی کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی طالبان حکومت نے جہاں ایک طرف خطے کے ممالک کیلئے مسائل کھڑے کئے تو وہیں دوسری طرف سانحہ نائن الیون کے ذمہ داروں کو امریکی حکومت کے حوالے کرنے سے دوٹوک انکار کر کے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع کرنے کا امریکہ بہادر کو جواز فراہم کر دیا۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ جہاں ایک طرف امریکہ،روس،سعودی عرب، ایران، ترکی اور پاکستان کی اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر عراق، شام،افغانستان اور یمن میں لڑی جانے والی پراکسی وارزکے نتیجے میں کئی ایک اسلامی ملکوں میں امن و امان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہو ئی تو دوسری طرف فلسطین اور کشمیر جیسے علاقائی مسائل حل کرانے میں اقوام متحدہ کی ناکامیوں اور عالمی طاقتوں کی سیاسی مصلحتوں نے دنیا کا رہا سہا امن بھی داؤ پر لگا رکھا ہے۔اگرچہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے دنیا میں قیام امن کیلئے وقتا فوقتا کوششیں بھی ہوتی رہتی ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا امن بگاڑنے میں اقوام متحدہ کی جانب سے ماضی میں روا رکھے جانے والے غیر منصفانہ طرز عمل اور عالمی طاقتوں کی دنیا پر سیاسی،فوجی اور معاشی برتری کے حصول کیلئے اختیار کی گئی مفادپرستانہ پالیسیوں کا بلواسطہ یا بلاواسطہ ہاتھ رہا ہے۔پچھلی دو دہائیوں میں اگرافغانستان،عراق،شام،لیبیا،یمن اور صومالیہ میدان جنگ بنے رہے تو اس کے پیچھے عالمی اور علاقائی طاقتوں کے مالی،فوجی اور سٹریٹیجک مفادات ہی کارفرما  تھے۔امریکہ اور اس کے اتحادی 20سال افغانستان میں رہ کر اگر طالبان کو شکست نہیں دے سکے تواس کے پیچھے خطے کے علاقائی کھلاڑیوں اور بڑی عالمی طاقتوں کی جانب سے طالبان کو بلاواسطہ یابالواسطہ ملنے والا مالی و فوجی تعاون ہی تھا۔ اگرچہ دو سال قبل امریکہ افغانستان سے نکل چکا ہے لیکن افغانستان میں طالبان کی کمزور حکومت اور یہاں موجودعسکری و دہشت گرد تنظیمیں خطے کے امن کے لیے ہنوز خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

موجودہ وقت میں دنیا کے امن کو سب سے بڑا خطرہ رڈیڑھ سال سے جاری وس یوکرین جنگ سے لاحق ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں اب تک عسکری و سویلین ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔روس یوکرین جنگ بظاہر روس اور یوکرین کے مابین ہو رہی ہے لیکن دراصل یہاں بھی روسی اور امریکی بلاک آپس میں برسرپیکار ہیں اور بہت سی عالمی طاقتیں روس اور یوکرین کو فوجی، دفاعی اور معاشی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق ایلون مسک کا سٹار لنک سیٹلائٹ یوکرین جنگ میں سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اس کے علاوہ اس جنگ میں امریکہ نہ صرف خود یوکرین کو اربوں ڈالر کی دفاعی و سیکورٹی امداد چے چکا ہے بل کہ نیٹو سمیت دیگر اتحادیوں کو بھی یوکرین کی فوجی و تکنیکی امداد پر مجبور کر رہا ہے۔

دیکھا جائے تو روس یوکرین جنگ بھی افغان سوویت جنگ کی طرح امریکہ کی روس کے خلاف پراکسی وارہی ہے۔ ماضی میں یہی عالمی طاقتیں شام، عراق اور افغانستان جیسے کمزور ممالک کی سرزمین پر ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وارز لڑتی رہی تھیں جب کہ آج کم وبیش وہی عالمی طاقتیں اپنی ہی سرزمین پر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔روس یوکرین جنگ جہاں عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے وہیں اس کے بدترین معاشی اثرات دنیا بھر خاص طور پر پاکستان جیسے کمزورممالک کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔