کیا نواز شریف فوجی قیادت اور ججوں کا احتساب کرواسکیں گے؟

مسلم لیگ (ن) کے صدر  شہباز شریف نے  واضح کیا ہے کہ نواز شریف اعلان شدہ پروگرام کے مطابق 21 اکتوبر کو پاکستان واپس پہنچیں گے اور  پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔   شہباز شریف  واپس  آکر اڑتالیس گھنٹے کے اندر دوبارہ لندن روانہ ہوگئے تھے۔  شہباز شریف کی اچانک واپسی سے یہ چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ شاید نواز شریف کی واپسی  ایک بار پھر ملتوی  کی جارہی ہے۔

اس  قسم کی آرا کی ایک وجہ منگل کوپارٹی کارکنوں سے  نواز شریف کا   ویڈیو لنک کے ذریعے  خطاب  بھی تھا۔ اس موقع پر انہوں نے  سابق فوجی و عدالتی  قیادت پر شدید نکتہ چینی کرتے  ہوئے انہیں پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور ان کے احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔  پاکستان میں اگرچہ سیاسی  لیڈروں کو  احتساب کے نام پر متعدد مشکلات اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا  پڑا ہے لیکن   کسی فوجی  لیڈر یا اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کا کبھی احتساب نہیں ہؤا۔

نواز شریف نے اپنے سابقہ دور  حکومت میں  1999 میں اپنی حکومت کا تختہ الٹنے والے پرویز مشرف کا احتساب کرنے کے لیے خصوصی عدالت قائم کی تھی۔ اس عدالت کی کارروائی کے دوران   نواز شریف ہی کی حکومت کو پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی  ’اجازت ‘ دینا پڑی تھی۔   دسمبر 2019  میں خصوصی عدالت  نے  آئین شکنی کے الزام میں پرویز مشرف کو سزائے موت  دی لیکن  وہ اس سال فروری میں اپنی رحلت  تک دوبئی میں ہی مقیم رہے۔ البتہ لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو ’غیر قانونی‘ قرار دے کر اس معاملہ کو ختم کردیا تھا۔ اس وقت ملک میں تحریک انصاف کی حکومت تھی جس نے خصوصی عدالت کے فیصلہ کو مسترد کیا تھا اور اس کے سربراہ مرحوم جسٹس وقار سیٹھ کی کردار کشی بھی کی گئی تھی۔

مبصرین یہ بحث کرتے رہے ہیں کہ  پاناما کیس میں نواز شریف کی نااہلی اور 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے لئے راہ ہموار کرنے  کی بنیادی وجہ  نواز شریف سے فوج کی ناراضی تھی۔ البتہ تحریک انصاف کے ساڑھے تین  سالہ دور حکومت میں معاشی مشکلات کی وجہ سے فوجی قیادت میں بے چینی پیدا ہوئی ۔ اس کے علاوہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  اور عمران خان کے درمیان اختلافات  بڑھنے لگے۔ اسی لئے  گزشتہ سال اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت ختم  کردی گئی اور  شہباز شریف کی قیادت میں کثیر الجماعتی اتحاد نے 16 تک ملک  پر حکومت کی۔  اگرچہ شہباز شریف کو یہ کہتے ہوئے وزیر اعظم بنایا گیا تھا کہ  اتحادی حکومت تحریک انصاف کی پیدا کردہ معاشی خرابیوں کا علاج کرے گی،  البتہ اس دوران حالات دگرگوں ہوتے گئے اور اگست میں قومی اسمبلی  توڑنے تک ملکی معیشت  اپریل 2022 کے مقابلے میں مسلسل زوال پزیر رہی ۔ اسحاق ڈار کی کوششوں کے باوجود نہ تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مستحکم ہوسکی اور نہ ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں یا مہنگائی پر قابو پایا جاسکا۔ اس کے برعکس ملک ایک مرحلے پر دیولیہ  ہونے کے قریب پہنچ  گیا تھا ۔ تاہم شہباز شریف کی ذاتی بھاگ دوڑ کی وجہ سے   اس سال جولائی میں آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت 3 ارب ڈالر  مل گئے تھے جس کی وجہ پاکستان کے فوری ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل گیا ۔ تاہم عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اس معاہدے کی شرائط کے مطابق  روپے  کو  ڈالر کے مقابلے میں کھلا چھوڑنے  کے علاوہ پیٹرولیم اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ان اقدامات سے  ملک میں  شدید سیاسی بے چینی پیدا ہوئی ہے۔

نواز شریف نے البتہ  لندن میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر  شہباز شریف کی حکومت کے فیصلوں کا دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ ’ہم نے ملک بچانے کے لیے اپنا ووٹ بنک داؤ پر لگادیا‘۔ کیوں کہ عام طور سے قیاس کیا جاتا ہے کہ اس وقت ملک میں بجلی کے بلوں  اور مہنگائی کے حوالے سے جو عوامی بے چینی پائی جاتی ہے، اس کی سب سے زیادہ سیاسی قیمت مسلم لیگ (ن) کو ادا کرنا پڑی ہے۔  سانحہ 9 مئی کے بعد  عمران خان سمیت تحریک انصاف کی قیادت کو شدید انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا  ۔ پارٹی کے متعدد لیڈر بھی اسے چھوڑ گئے ہیں جبکہ وفاداری  نبھانے والے سب اہم لیڈر کسی نہ کسی بہانے سے گرفتار ہیں۔ اس ریاستی کریک ڈاؤن کی وجہ سے عمران خان اور تحریک انصاف  کو سیاسی فائدہ  ہؤا ہے اور قیاس کیا جارہا ہے کہ اگر پارٹی کو آئیندہ انتخابات میں مساوی بنیادوں پر  انتخابی مہم چلانے کا موقع  دیا گیا تو تحریک انصاف ملک کی بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔ تحریک انصاف نے  سانحہ 9 مئی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں اسٹبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ مستحکم کیا ہے جس کی وجہ سے اب پی ٹی آئی کو ایک ایسی پارٹی کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو ملک  کے سیاسی معاملات پر فوجی کی غیر آئینی دسترس سے نجات دلا سکتی ہے۔

دلچسپ پہلو البتہ یہ ہے کہ   تحریک انصاف کے دور میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے   سیاسی تحریک چلاتے ہوئے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کو یہی پوزیشن حاصل تھی اور   ’ووٹ کوعزت دو ‘ کے نعرے کی وجہ سے پارٹی کو یکے بعد دیگرے متعدد  ضمنی انتخابات میں کامیابی  حاصل  ہوئی تھی۔ البتہ اب پارٹی عوام میں  اس قدر افزائی سے محروم ہوچکی ہے اور اسے انتخابی مہم چلانے کے لیے نئے بیانیے اور  حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے  بارے میں جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اگر 21 اکتوبر  کو نواز شریف کی واپسی پر  مسلم لیگ (ن) کوئی بڑا سیاسی شو کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ایک بار پھر عوام  کی توجہ حاصل کی  جاسکتی ہے۔ البتہ نواز شریف کی واپسی  کے حوالے سے مسلسل یہ بے یقینی موجود ہے کہ عدالتوں میں ان  کے خلاف مقدمات کا کیا بنے گا۔ کیا  انہیں حفاظتی ضمانت مل جائے  گی اور کیا عدلیہ سنگین الزامات میں ملنے والی سزاؤں کو منسوخ کردے گی۔    سابق چیف جسٹس عمر عطابندیال نے جاتے جاتے  نیب آرڈی ننس میں کی گئی بیشتر ترامیم کو غیر آئینی قرار دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس عدالتی فیصلہ کے نتیجہ میں نواز شریف کے علاوہ متعدد  سیاسی لیڈروں کے خلاف  کرپشن کے پرانے مقدمے ایک بار پھر کھول دیے گئے ہیں۔

ان حالات میں عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نواز شریف کو کوئی ایسا سیاسی نعرہ درکار ہے جس کی بنیاد پر وہ عوام کی توجہ موجودہ معاشی صورت  حال سے ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں اور انہیں ایک بار پھر مزاحمتی سیاسی لیڈر کے طور پر قبول کرلیا جائے۔ اسی لیے وہ  اب  یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں ملک تیزی ترقی کررہا تھا، پیداواری صلاحیت بہتر ہوگئی تھی،  لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی تھی اور معاشی احیا کا کام تیزی سے جاری تھا۔  لیکن 2017  میں ان کی حکومت  کے خلاف سازش کی گئی جس میں سابق آرمی چیف جنرل باجوہ، آئی ایس کے سابق سربراہ  لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید  کے علاوہ   سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس  ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ،  سابق جج عظمت سعید اور موجودہ جج اعجاز الاحسن  شامل تھے۔ نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ یہ سب لوگ  پاکستان اور بائیس کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ جب تک 2017 میں کی جانے والی سازش کے تمام کرداروں کو انجام تک نہیں پہنچایا جاتا ، پاکستان آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

البتہ اس مرحلے پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف کی یہ حکمت عملی صرف سیاسی نعرے بازی کی حد تک ہے اور وہ اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ افہام و تفہیم سے ایسی مہم جوئی کررہے ہیں تاکہ تحریک انصاف  کی بجائے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کو  اسٹبلشمنٹ مخالف قوت کے طور پر سامنے لایا جاسکے اور عوام کے ووٹوں کو متاثر کیا جاسکے۔  اس حکمت عملی میں ایک بات تو واضح ہے کہ  نواز شریف اور ان کے رفقا یہ بات مان رہے ہیں کہ  عوام میں فوج کے سیاسی کردار کے لیے قبولیت موجود نہیں ہے اور جو پارٹی بھی اس کے خلاف بات کرے گی، عوام اسی کو ووٹ دیں گے۔ یہ صورت حال  موجودہ عسکری قیادت کے لیے بھی پریشان کن ہونی چاہئے  جو پورے جتن سے ملکی معیشت کے احیا  کے لئے    بنیادی کردار ادا کرنے میں سرگرم  ہے۔ اگر عوام فوج کے ایسے کردار کو تسلیم نہیں کرتے تو فوجی قیادت کب تک  من مانی سے ملک کے اہم سیاسی و معاشی فیصلے کرتی رہے گی۔

نواز شریف کو  اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ  ایک طرف وہ ’اینٹی اسٹبلشمنٹ‘ جذبات کی بنیاد پر اپنی سیاست بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف  پارٹی کا صدر  ان کا بھائی ہے جس نے بطور وزیر اعظم فوجی قیادت کی کاسہ لیسی  کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے۔  شہباز شریف کو بدستور اپنا اہم ترین نائب قرار دیتے ہوئے نواز شریف اور ان کے ساتھی کس منہ سے اسٹبلشمنٹ مخالف سیاسی مہم چلاسکتے ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت نے اپنے آخری ہفتوں میں   ریاستی اداروں کے اختیارات میں اضافے اور عوامی حقوق محدود کرنے کے لیے متعدد قوانین نافذ کیے۔ پیپلز پارٹی بھی اس قانون سازی میں برابر شریک تھی لیکن اس کا زیادہ بوجھ  مسلم لیگ (ن) کو اٹھانا پڑا ہے۔ سوچنا چاہئے  کہ اب اسی فوج کے خلاف  سیاسی مہم جوئی سیاسی طور سے نواز شریف کو  کس سمت لے جاسکتی ہے۔  عملی طور سے جنرل باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع سے لے کر، عدم اعتماد اور پھر شہباز شریف کی وزارت عظمی  تک مسلم لیگ (ن) نے  ’سرکاری‘ پارٹی ہونے کا کر دار ادا کیا  ہے۔ نواز شریف اس کردار کی تائد کرتے رہے ہیں بلکہ وہ اب بھی اس  کے کارناموں کی وکالت کررہے ہیں۔ پھر عوام کیوں کر  یہ تسلیم کریں گے کہ  اب نواز شریف مزاحمتی سیاسی قوت بن کر  ووٹ مانگنے کے لیے آرہے  ہیں۔

البتہ اس سیاسی بحث سے قطع نظر سب سے اہم بات یہ ہے کیا فوج اور عدلیہ اپنے سابقہ   لیڈروں کے خلاف احتساب پر راضی ہوجائے گی؟ یا نواز شریف اقتدار ملنے کے بعد ایک بار پھر ان وعدوں سے منحرف ہوجائیں گے؟  قومی مفادات کے خلاف کام کرنے والے سب عناصر کا احتساب ہونا چاہئے لیکن یہ  خواب  سیاسی نعرے بازی سے پورا نہیں ہوسکتا ۔بلکہ اس نکتے کو سیاسی پارٹیوں کو اپنے منشور کا حصہ بنانا چاہئے اور مل کر ’سب کا احتساب‘ کے سلوگن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قانون سازی کرنے  کا عزم کرنا چاہئے۔ ورنہ انتخابی مہم میں ہر طرف سے  نعروں کی گونج تو سنائی دے گی لیکن جب  یہ وقت گزرنے پر ’مفاہمت کی سیاست‘ کے نام پر سب ’ایک پیج کی سیاست‘  کرتے دکھائی دیں گے۔