پی ٹی آئی کی قیادت ٹکراؤ نہیں، مصالحت چاہتی ہے: محمد علی درانی

  • اتوار 24 / ستمبر / 2023

پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے سیکریٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت ٹکراؤ نہیں، مصالحت چاہتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں اینکر پرسن نادر گرامانی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ محمد علی درانی سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں وفاقی وزیر اطلاعات رہ چکے ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ وہ ان دنوں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے پی ٹی آئی کے وفد سے بھی ملاقات کی تھی۔

ان ملاقاتوں کے حوالے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری ملاقاتوں کا ایجنڈا وہی ہے جو عوام کی خواہش ہے، میں اس وقت جہاں بھی جاتا ہوں، وہاں عوام کی پریشانی دیکھتا ہوں۔ عوام کی خواہش دیکھتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ عوام یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ٹکراؤ کی کیفیت کم ہو اور عوام سمجھتے ہیں کہ ان کی مشکلات میں کمی بھی اس ٹکراؤ کی کیفیت میں کمی سے ہی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں میں نے جتنی بھی ملاقاتیں کی ہیں، یہ ملاقاتیں صدر مملکت، پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران اس چیز کا احساس ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت ٹکراؤ نہیں چاہتی، وہ مصالحت چاہتے ہیں۔ ایک مثبت سوچ موجود ہے جس کے نتیجے میں مجھے امید ہے وہ راستے نکلیں گے جو ملک کو اس وقت درپیش مسائل سے نکالیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن جن لوگوں کی چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات ہوئی، ان کے مطابق عمران خان ہر ایک سے ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ہر ایشو پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ عمران خان یہ نہیں چاہیں گے کہ کسی کو لکیر مار کر باہر نکال دیا جائے۔ عمران خان یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی مائنس ون کیا جائے، یہ ظاہر ہے کوئی بھی جماعت ایسا نہیں چاہے گی۔

محمد علی درانی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کرنے والوں نے جو مجھے بتایا ہے، اسے مجھے ان کا ذہن یہی لگا ہے کہ وہ یہ سب چاہتے ہیں۔ عمران خان ایسی مفاہمت چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک اور جمہوریت آگے بڑھے۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ٹکراؤ والے جو لوگ تھے وہ تو چلے گئے ہیں۔