فوج انتخابی نتائج میں گڑ بڑ نہیں کرے گی: نگراں وزیرِ اعظم
پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے امید ظاہر کی ہے کہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد نئے سال میں ہو جائے گا۔ انہوں نے اس امکان کو مسترد کیا کہ فوج انتخابات میں مداخلت کرے گی۔
امریکہ کے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کو دیے گئے انٹرویو میں نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ انتخابات کا انعقاد فوج کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی عمران خان نے خود کی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف الیکشن کمشنر عمران خان کے خلاف کیوں ہوں گے؟
عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا تھا۔ سابق وزیرِ اعظم کو رواں برس اگست میں مبینہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا جب کہ ایک عدالت نے ان کو تین برس قید کی سزا سنائی تھی۔ عمران خان کی سزا کو اعلیٰ عدالت معطل کر چکی ہے لیکن وہ اب بھی قید میں ہیں۔
انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ جب کمیشن انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کرے گا تو حکومت مطلوبہ امداد، فنڈز، سیکیورٹی اور دیگر وسائل فراہم کرے گی۔ اس سوال پر کہ کیا وہ ججز سے عمران خان کی سزا کالعدم کرنے کی سفارش کریں گے تاکہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کریں گے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہ کہا کہ عدلیہ کو سیاسی مقاصد کے لیے آلۂ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنا رہے۔ وہ یقینی بنائیں گے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ چاہے وہ عمران خان ہو یا کوئی اور سیاست دان، جو اپنے سیاسی برتاؤ سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرے گا، تو قانون کے نفاذ کو یقینی بنانا ہو گا۔ وہ اسے سیاسی امتیاز نہیں کہہ سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابات کا انعقاد عمران خان اور پی ٹی آئی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ عمران خان مئی میں ہونے والی گرفتاری کے بعد ہونے والی غیر قانونی حرکات کے سبب قید ہیں۔ عمران خان کی جماعت کے ہزاروں افراد جو کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے، سیاسی عمل کو آگے بڑھائیں گے اور وہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔
عمران خان کے کچھ حامیوں کا ماننا ہے کہ پاکستان میں حقیقت میں حکمران فوج ہے اور ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ انوار الحق کاکڑ کے بارے میں بھی عام تاثر ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
اس دوران روزنامہ ڈان نے رپورٹ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے 5 روزہ دورے کے اختتام کے بعد نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ گزشتہ روز لندن روانہ ہوگئے۔ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ وہاں ان کی سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف سے ’خفیہ ملاقات‘ ہو سکتی ہے۔ نیویارک میں جمعہ کی شام ایک نیوز کانفرنس میں انوارالحق کاکڑ نے عندیہ دیا کہ وہ وطن واپس لوٹ رہے ہیں تاکہ الیکشن کمیشن کے ساتھ معاونت کریں اور طویل مدتی تعلقات، مثلاً آئی ایم ایف کے ساتھ نئی شرائط پر بات چیت کی ذمہ داری نئی حکومت کو سنبھالنے دیں۔
نواز شریف سے ممکنہ ملاقات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اکتوبر میں نواز شریف کی پاکستان واپسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ پاکستان کے قوانین کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ نگران وزیر اعظم نے اس سوال کا بھی جواب نہیں دیا کہ کیا وہ پاکستان واپس جاتے ہوئے سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انوار الحق کاکڑ نیویارک جاتے ہوئے پیرس میں رکے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایفل ٹاور کا دورہ کیا۔ انہوں نے نیویارک میں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ کچھ پرسکون وقت بھی گزارا اور انہیں جمعرات کی رات ایک ترک ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے دیکھا گیا۔
دورے کے دوران ان کا شیڈول کافی مصروف رہا۔ کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات ہونی تھی تاہم یہ ملاقات کسی وجہ سے نہ ہو سکی۔ علاوہ ازیں انہوں نے امریکی وفد سے بھی علیحدہ طور پر کوئی ملاقات نہیں کی۔
نگران وزیر اعظم کے مطابق انہوں نے امریکا میں کاروباری اداروں سے ملاقات کی جنہوں نے نجکاری اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی بحالی کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی۔
جب ایک صحافی نے بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم کو بیان کرنے کے لیے لفظ ’نسل کشی‘ کے استعمال پر اعتراض کیا تو نگران وزیراعظم نے کہا کہ نسل کشی ایک موزوں لفظ ہے، اسے نسل کشی نہ کہنا جرم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس چیز کا کشمیریوں کو سامنا ہے اسے کسی دوسرے لفظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ وہ وہاں مارے جا رہے ہیں اور ان کا ریپ ہو رہا ہے، میں یہاں بیٹھ کر یہ نہیں سوچ سکتا کہ کیا نسل کشی کا لفظ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے یا نہیں۔
پاک امریکا تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی ایک خصوصی شناخت ہے اور اسے علاقائی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔