نیب مقدمات بحال، احتساب یا سیاسی انجینیرنگ؟

سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے بعد سے ملک میں ایک بار پھر احتسابی عمل شروع ہونے کی تیاریاں عروج پرہیں۔ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں نیب سینکڑوں کرپشن کیسز دوبارہ کھولنے جا رہا ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ کی احتساب عدالتوں میں سینکڑوں مقدمات واپس بھیج دئیے گئے ہیں۔مقامی احتساب عدالت کو بھیجے گئے مقدمات میں سابق صدر آصف زرداری کے خلاف پارک لین کیس، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر کے خلاف یونیورسل سروسز فنڈز کیس، قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور پروجیکٹ کیس، سابق چیئرپرسن فرزانہ راجہ کے خلاف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیس سمیت دیگر کیسز شامل ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنسزاور سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کے ڈائریکٹر کے خلاف جعلی اکاونٹس کیسز بھی بحال ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت (ن) لیگ کے کئی ایک رہنماؤں اور مولانا فضل الرحمان کے خلاف بھی کیسز کھل سکتے ہیں۔

 واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 15ستمبر کو کئی ایک نیب ترامیم کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب کو سات روز کے اندر مقدمات بحال کرنے کی ہدایات کی تھیں۔سپریم کورٹ نے عوامی عہدے رکھنے والوں کے حوالے سے نیب قانون پر لگائی گئی حد اور 50کروڑ کی حد ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کیے جاتے ہیں تاہم آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی۔علاوہ ازیں پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی ترمیم اور کرپشن اور بے ایمانی کی تعریف کے حوالے سے کی گئی ترامیم بھی کالعدم قرار دے دی گئی تھیں۔

  سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے حمایتی اور سیاستدانوں کو ہر معاملے میں قصوروار ٹھہرانے والے لوگ شاداں ہیں تو دوسری جانب سیاسی وصحافتی حلقے اس فیصلے سے اس لیے ناخوش ہیں کہ اس سے ملک میں ایک بار پھر احتساب کے نام پر " پولیٹیکل انجینیرنگ " کے روایتی کھیل کھیلے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کو دوبارہ کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ نیب کو ایک بار پھر سیاسی انجینیرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ "میرا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ نیب ایک پولیٹیکل انجینیرنگ کا ادارہ ہے، اسے ماضی میں بھی پولیٹیکل انجینیرنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور اب بھی ایسا لگ رہا ہے کہ اس کو پولیٹیکل انجینیرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔"  فرحت اللہ بابر نے یہ بھی کہا کہ پریکٹس ایک پروسیجر ایکٹ ابھی سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے اور اس ایکٹ میں یہ واضح طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ تین سینیئر ججوں کی مشاورت سے بینچ تشکیل دیا جائے گا لیکن نیب قانون میں ترمیم کے حوالے سے مقدمے میں جو بینچ تشکیل دیا گیا وہ تین سینیئر ججوں کی مشاورت سے تشکیل نہیں پایا تھا۔اگر اس بینچ کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے تو پھر دوبارہ سے کیسز کھولنے کے اس فیصلے کی کیا قانونی حیثیت ہو گی؟"

ابھی تک کھلنے والے مقدمات کو دیکھا جائے تو سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کی پولیٹیکل انجینیرنگ والی بات ہی سچ دکھائی دیتی ہے۔ابھی تک کھلنے والے زیادہ تر مقدمات پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اور رہنماؤں کے خلاف ہیں۔ ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں (ن) لیگ کے کچھ رہنماؤں کے خلاف بھی کچھ کیسز کھول دئیے جائیں لیکن بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ (ن) لیگ کو دیگر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی تھوڑی رعایت مل رہی ہے۔ واضح رہے کہ (ن) لیگ کو یہ رعایت وقتی طور پر ملی ہے اور اس کا کریڈیٹ شہباز شریف کی مفاہمانہ سیاست کو جاتا ہے۔مقتدر حلقوں کو جہاں یہ محسوس ہوا کہ (ن) لیگ ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہے تو وہ نیب ترامیم کالعدم ہونے کی لٹکتی تلوار کو اس کے خلاف بھی استعمال کر لیں گے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سابق ججز اور جرنیلوں کے احتساب کا عزم ظاہر کرنے کے بعد ایک طرف مریم نواز نے اپنے والد کے سخت جملوں کی تلخی کم کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف سابق وزیراعظم شہباز شریف اچانک لندن روانہ ہو گئے جہاں وہ ممکنہ طور پر اپنے بھائی کو لہجہ نرم کرنے پر راضی کریں گے۔جاننے والے جانتے ہیں کہ (ن) لیگ کو اقتدار کی راہ داریوں میں دوبارہ لانے والے شہباز شریف ہی ہیں۔(ن) لیگ میں اگر شہباز شریف نہ ہوتے تو پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے اور ڈان لیکس جیسے اقدام کے بعد پارٹی کو دیوار میں چن دیا جاتا لیکن یہ شہباز شریف کی مفاہمانہ سیاست ہی ہے کہ (ن) لیگ نہ صرف پی ٹی آئی کے دور میں اقتدار کی راہ داریوں میں واپس آئی بل کہ آنے والے انتخابات میں بھی حالات سب سے زیادہ اسی پارٹی کے حق میں ہی سازگار دکھائی دے رہے ہیں۔

 کوئی شک نہیں کہ تقریبا ًدنیا کے تمام ممالک میں ریاستی و حکومتی سطح پرایسے ادارے سرگرم عمل ہوتے ہیں جن کا مقصد حکومتی وسیاسی اورسماجی و انتظامی سطح پر کرپشن کی روک تھام کے لئے تسلسل سے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔جن ممالک میں احتسابی ادارے " احتساب سب کے لئے "کے عزم پر سختی سے عمل پیرا رہتے ہوئے کرپشن کے سدباب کے لئے کوششیں کرتے ہیں وہاں کرپشن کی شرح بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن جہاں ایسے ادارے "احتساب سب کا" کے اصول پرعمل پیرا ہونے کی بجائے احتساب کے دوہرے معیار کو فروغ دیں وہاں کرپشن میں کمی کی بجائے الٹااضافہ ہو جاتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان بھی ایسے کچھ ممالک میں شامل ہے جہاں احتساب کا دوہرا معیار رائج ہے۔پاکستان میں احتساب کے لئے کوشاں "ادارے"بارے عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ ادارہ سب کا یکساں احتساب کرنے کی بجائے ایسے مخالفین کے گرد احتساب کا گھیرا تنگ رکھتا ہے جو یا تو حکومت وقت کے سخت ناقد و ناپسندیدہ ہوں یا پھر جو ملک کی مقتدر قوتوں کی نظروں میں خار کی طرح کھٹکتے ہوں۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں احتساب کا شکنجہ یا تو کسی ناپسندیدہ سیاسی پارٹی کو کھڈے لائن لگانے یا کمزور کرنے کے لئے کسا جاتا ہے یا پھر کسی باغی سیاسی رہنما کو جھکانے یا سیاست سے بے دخل کرنے کے لئے احتسابی عمل کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ مخصوص مفادات کے تحفظ کے لئے ہونے والے احتسابی عمل سے سیاسی مخالفین کو ڈرا دھمکا کراپوزیشن کرنے سے وقتی طور پرتوروکا جا سکتا ہے لیکن ایسے امتیازی احتساب سے ریاستی و حکومتی اور انتظامی و سماجی سطح پر کرپشن میں قابل ذکر حد تک کمی لانا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوتا۔