انتخاب یا احتساب !

ضیاالحق کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد خان عبدالولی خان نے پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگا کر آمر کو موقع دیا کہ وہ اس بہانے اپنے اقتدار کو طول دے لے۔ سو ضیا الحق نے 90 دن میں الیکشن کروا کے فوج کے واپس بیرکوں میں جانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ طاقِ نسیاں کی زینت بن گیا۔

اور ضیا الحق  فضل الہی چوہدری کی مدت صدارت پوری ہونے پر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی طاقت سے منصبِ صدارت پر قابض ہو گئے۔ اس حیثیت میں خود کو بطور آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع پر توسیع دیتے رہے جبکہ صدر کے منصب کے ناجائز قبضے کو جائز قرار دینے کے لئے مشہور زمانہ ریفرنڈم کا ڈھونگ رچایا، جس کے بارے میں حبیب جالب نے معرکہ آرا نظم کہی :
شہر میں ہو کا عالم تھا
جن تھا یا ریفرنڈم تھا
مرحومین شریک ہوئے
 سچائی کا چہلم تھا

 جنرل ضیا الحق نے جس احتساب کے نعرے پر اپنے اقتدار کو طول دیا اس کا حاصل حصول کچھ نہ ہوا کیونکہ جس بھٹو کا احتساب کرنا تھا وہ تو بطور وزیراعظم صرف ایک روپیہ ٹوکن تنخواہ قومی خزانے سے  لیتا تھا۔ اس کی مالیاتی بدعنوانی یا کرپشن کا سراغ لگانے کے لیے جن مارشل لا حکام کو ایک ڈیڈ لائن دے کر کام سونپا گیا تھا، وہ تمام تر کوششوں کے باوجود بھٹو کی کرپشن کا کوئی سراغ لگانے سے معذور رہے۔ مجبوراً انہیں بھٹو صاحب کو کلین چٹ دینا پڑی  جس کے بعد سب کو تسلیم کرنا پڑا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سرانجام دیے۔ ان کے دامن پر مالی بدعنوانی کا کوئی معمولی سا الزام بھی عائد نہ کیا جا سکا۔

جس پر ضیا الحق اور اس کے ساتھی پریشان ہوئے تو ایسے میں آرائیں برادری کے ناطے ضیا کے ماموں کہلانے کے دعوے دار امیر جماعت اسلامی مولانا طفیل محمد آگے آئے اور ضیا الحق کو تھانہ اچھرہ میں بھٹو صاحب کے خلاف درج قتل کی وہ ایف آئی آر کھولنے کا مشورہ دیا جو نواب محمد احمد خان  کی ہلاکت پر اس کے بیٹے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نواب زادہ احمد رضا خان قصوری نے اپنے وزیر اعظم کے خلاف لکھوائی تھی۔ جسے بھٹو کے دانشور وزیر اعلی پنجاب حنیف رامے نے شاہ سے زیادہ شاہ پرست بنتے ہوئے سیل کروا دیا تھا۔
میاں طفیل محمد نے یہ مشورہ اپنی اس بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے دیا تھا جو مبینہ طور پر ملک غلام مصطفی کھر نے ان کے ساتھ جیل میں اخلاق باختہ طرز عمل سے کی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے ۔ ایک ایسی ہولناک تاریخ جس کے سیاہ باب کی تیرگی ابھی تک پاکستان کی تقدیر بنی ہوئی ہے۔ ضیا کے ریفرنڈم سے مشرف کے ریفرنڈم تک  اور ضیا دور میں منعقدہ غیر جماعتی انتخابات کے ڈھونگ سے لے کر 2018  کے انتخابات تک ہر جمہوری ڈرامہ اس قوم کے مصائب و آلام میں اضافہ کرتا چلا گیا۔ مگر اس طرح کے ڈرامے سٹیج کرنے والوں کے وارے نیارے رہے۔

کیونکہ ان کے سکرپٹڈ ڈراموں کے لئے مطلوبہ کردار ادا کرنے کے لئے رضاکار  بآسانی دستیاب رہے۔ مگر آخری دستیاب کردار ہدایت کار و پیش کاروں کے لئے باقاعدہ مصیبت بن گیا اور اس مصیبت کو ٹالنے یا اس سے جان چھڑانے کے لیے منصوبہ سازوں کو ایک بار پھر انہی عطار کے لونڈوں سے رجوع کرنا پڑا، جن کے سبب بیمار ہوئے تھے۔ مگر افسوس کہ ابھی چارہ ساز غمگساری کے لئے مناسب الفاظ کی تلاش میں سرگرداں تھے کہ ایک طرف سے  90 روز میں انتخابات کا ڈھونگ رچانے کا غلغلہ ہوا تو اسی ہنگام سے احتساب کے نعرے کی گونج صورِ اسرافیل کی صورت کانوں کے پردے پھاڑتی ہوئی بہت سوں کے پردے چاک کرنے کو لپکی پڑ رہی ہے۔

یہ لپکا کس کس کو لپکتا ہوا شورِ قیامت کا سماں باندھتا ہے، اس کے لئے اب کی بار شاید زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑے کہ ٹھنڈے کمرے سے چوبی ہتھوڑے کی ضرب سے ابھرتی صدا کے آہنگ سے کوئی دھیمے لہجے میں پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے پورے وثوق سے آئین و قانون کی پاسداری اور اس کی بالادستی قائم رکھنے کا یقین دلا رہا ہے۔ مدتوں سے فریب کاری کے سراب زاروں میں بھٹکنے والوں کو احساس محرومی کے ازالے کا گمان، نویدِ مسرت بن کر عجیب عالمِ کیف سے سرشار کرتا ہوا گھپ اندھیرے سے ابھرنے والی امید کی کرن کا اشارہ دے رہا ہے۔ اللہ کرے کہ طویل رات کے بعد طلوع ہونے والے اجالے کو کوئی سورج گرہن، گہن زدہ نہ کردے آمین ثم آمین۔