امجد حیات کے پرسے کا انتظار

امجد حیات جب تک حیات تھا، مجھے دکھ کے لمحوں میں پرسہ دیتا تھا۔ رانا اعجاز کی وفات ہو، اقبال ارشد ، حسین سحر ، طاہر اوپل یا کسی اور عزیز کی، امجد حیات کا فون دکھ کے ان لمحوں میں ضرور آتا تھا۔

مجھے یاد ہے امجد اسلام امجد کی وفات پر بھی امجد حیات نے مجھے تعزیت کے لیے فون کیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ بس رضی یہ دوسرا امجد بھی جانے والا ہے۔ میں امجد حیات کی اس بات پر لرز گیا تھا۔ میں نے اسے ہمیشہ کی طرح لمبی حیاتی کی دعا دی لیکن میں جانتا تھا امجد یہ سب کیوں کہہ رہا ہے۔ وہ بھی زندگی اور موت کی آنکھ مچولی سے تنگ آ چکا تھا اور وہ یہ آنکھ مچولی کوئی آج سے تو نہیں کھیل رہاتھا۔ فیس بک کی ٹائم لائن پر میں نے امجد حیات کو تلاش کرنا شروع کیا تواپنے ساتھ اس کی پہلی تصویریں 1979کی دکھائی دیں جن میں سے ایک تصویر تووہ گروپ فوٹو ہے جوہم نے سکول چھوڑتے وقت میٹرک کے امتحان سے پہلے بنوایا تھا۔ کچھ تصویریں ہیڈسدھنائی کی ہیں جہاں ہم پکنک منانے گئے تھے ۔ ایک تصویرمیں انتہائی بائیں جانب امجد حیات ، اس کے ساتھ سلیم اختر ، سلیم کے ساتھ سرسعادت ، ان کے عقب میں طاہر محمود اورسرسعادت کے ساتھ ضمیر موجودہیں۔

اسی موقع پر ایک تصویر میں خود میں بھی موجود ہوں اورہم سب پانی میں کھڑے ہیں ۔ یہ ہمارے سکول کے زمانے کے یادگار دن تھے۔ امجد حیات جب میرے ساتھ سکول میں پڑھتا تھا تو اس وقت اپنے نام کے ساتھ سدوزئی نہیں لکھتا تھا۔ ہم صرف دبلے پتلے ، کمزور سے امجد حیات کو جانتے تھے جس نے میٹرک تک ہمارے ساتھ فیڈرل پبلک سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ آپ نے اخباری تراشے والی امجد کی وہ تصویر بھی دیکھی ہوگی جو میں اکثر اپنی ٹائم لائن پر لگاتارہا۔ یہ سکول کے زمانے کاوہ اخباری تراشا ہے جس میں ہم نے اپنے دوستوں کی آرا پر مشتمل ایک سروے روزنامہ امروز میں شائع کروایا تھا۔ شاید 1979 کی بات ہے، ہم اس زمانے میں نویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ ہم سکول کی مختلف تقریبات میں بھی اکٹھے شریک ہوتے۔ پکنک پربھی اکٹھے گئے۔ پھر سکول کے بعد ہم سب عمل زندگی میں مصروف ہوگئے۔

امجد حیات نے تدریس کاشعبہ اپنایا اور مستقل طورپراپنے آبائی شہر ڈیرہ اسماعیل خان چلاگیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں امجد حیات گورنمنٹ مڈل سکول نمبر 2 اور گورنمنٹ پرائمری سکول بستی درکھان والی سے منسلک رہا اوران دونوں سکولوں میں ہیڈ ماسٹر کے فرائض بھی انجام دیے۔ لیکن امجد کارابطہ میرے ساتھ کبھی بھی منقطع نہ ہوا۔ امجد شعروادب کے ساتھ بھی دلچسپی رکھتا تھا۔ میری کوئی بھی نئی کتاب آتی اورمیں اسے ارسال کرنا بھول جاتا تو امجد تقاضا کرکے مجھ سے وہ کتاب منگواتا تھا۔ رابطے کا ایک اوربہانہ بھی تھا اور وہ یہ کہ امجد کبھی کبھار مجھے فون کرکے کسی موضوع پر تقریر لکھنے کی فرمائش کرتا تھا۔ یہ تقریر اس کی بیٹی نے یا کسی شاگرد نے کسی تقریری مقابلے میں کرنا ہوتی تھی۔

دوست جانتے ہیں کہ میرے لیے فرمائشی مضامین لکھنا ممکن نہیں ہوتا اورتقریریں تو میں بالکل نہیں لکھ سکتا۔ وہ بھی ایسے موضوعات پر جو خالصتاً نصابی ہوں۔ ایسے موقع پر میں نوازش علی ندیم کی منت کرتا تھا کہ بھائی مجھے ایک تقریر لکھ دو۔ نوازش کی اپنی مصروفیت ہوتی تھیں ، ادھر امجد کا تقاضا بڑھتاجاتاتھا ، تقریری مقابلے کے دن بھی قریب ہوتے تھے۔ آخر نوازش چند صفحات لکھ کر مجھے واٹس ایپ کرتا اور میں امجد کو بھیج دیتا ۔ امجد نہال ہوجاتا، شکریے کا ٹیلی فون آتا، بچہ انعامی مقابلے میں جیت جاتا تو امجد مجھے باقاعدہ آگاہ کرتا، یہ رابطہ تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ اس دوران2021 میں ہمیں دومرتبہ ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا بھی موقع ملا۔ ویر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیراہتمام لوک میلے کا انعقاد ہوا تو میں نے امجد کوبتایا کہ میں تمہارے شہر آرہا ہوں۔ ان دو روز کے دوران امجد باقاعدگی کے ساتھ ہماری تمام تقریبات میں شریک ہوا۔

طبیعت اس کی کافی عرصے سے خراب تھی لیکن ان دنوں وہ ہشاش بشاش دکھائی دے رہا تھا۔ اسی میلے کی آخری رات مشاعرے کے بعد وہ مجھے”ثوبت“ کھلانے لے گیا۔ ہم نے ایک ہی چارپائی پربیٹھ کر اس روایتی کھانے کا پہلی اورآخری بارلطف لیا۔ بیماری کی پہلی خبر ہمیں 2019 میں ملی تھی۔ جب امجد ملتان کے ہسپتال میں زیرعلاج تھا۔ میں سلیم اختر اور وحید بھٹی کے ساتھ امجدکی عیادت کے لیے گیاتھا۔ ہسپتال کے بیڈ پر بیٹھ کرامجد کے ساتھ ہم نے تصویر بنوائیں ۔ پڑھنے کے لیے اسے کچھ کتابیں دیں اور واپس آگئے۔ 2دسمبر 2020 میں امجد حیات دن بھر میرے ساتھ رہا۔ سلیم اختراورضمیر کو بھی میں نے آفس ہی بلوالیا۔ روانگی سے قبل ہم تینوں نے دفتر کے گیٹ پر ایک تصویر بنوائی اور دوبارہ ملنے کی خواہش کے ساتھ جدا ہوگئے۔ جون2021 میں امجد کا فون آیا کہ میں ملتان میں ہوں ۔ مجھے کچھ کتابیں بھیج دو۔ میرے پاس اپنی اور دوستوں کی جتنی کتابیں بھی دفتر میں دستیاب تھیں، میں نے وہ بنڈل تیار کرلیا ۔ امجد نے اپنے بھائی کے ذریعے کتابیں منگوالیں ۔17جون کو اس نے ایک طویل پوسٹ لکھی جس میں اس نے بتایا کہ میں بستر تک محدود ہوگیا ہوں ۔ زیادہ وقت ادویات لینے اور میڈیکل رپورٹس کو پڑھنے میں گزرجاتا ہے۔ باربار عزیزواقارب کوبھی بیماری کی تفصیل بتانا پڑتی ہے۔ ایسے میں رضی نے کتابیں بھیجیں توجیسے چپکے سے ویرانے میں بہارآگئی ۔ اب میرے بہت سے دن ان کتابوں کی رفاقت میں گزرجائیں گے۔

پھراس کی والدہ علیل ہوگئیں۔ 13جولائی 2022 کو وہ والدہ کے علاج کے لیے ملتان آیا ۔ کڈنی سنٹرمیں اس کی والدہ زیرعلاج رہیں۔ اسی برس18 اپریل 2023 کو اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ امجد نے یہ جدائی زیادہ عرصے برداشت نہ کی۔ اس کی طبیعت ان دنوں کافی خراب تھی۔ اس سے قبل 7مارچ2023 کو اس کے بھائی ظفرحیات کی جانب سے یہ پیغام موصول ہوا تھاکہ امجد کے لیے او پازیٹو خون کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے پلیٹلٹس بہت کم ہوچکے ہیں۔ اس روز شہزادعمران اور ہم سب اس کے لیے خون کا بندوبست کرنے کے لیے سرگرم رہے لیکن پھرہمارا دوبارہ رابطہ نہ ہوسکا۔ اذیت کے یہ دن بہت تکلیف دہ تھے۔ ایک مرتبہ ملتان سے واپس جاتے ہوئے امجد کی ویگن حادثے کا شکارہوگئی۔ امجد زخمی ہوگیا۔ پلیٹلٹس کم ہونے کی وجہ سے خون زیادہ ضائع ہوگیا۔

امجد نے بعد میں بتایا کہ بھائی تمہیں اندازہ نہیں کہ میں کس مشکل سے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا ہوں ۔ خون تو رک ہی نہیں رہا تھا۔ جیون میں ایک دو دوست ہی ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ پہلی ملاقات کا لمحہ بھی ہمیں یاد نہیں ہوتا۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ ازل سے ہمارے ساتھ ہیں اور ہماری خواہش ہوتی ہے کہ یہ ساتھ ابد تک برقراررہے۔ امجد حیات بھی ایسا ہی تھا۔ مجھے یہ تو یاد ہے کہ امجد کے ساتھ میرا نرسری کا ساتھ تھا لیکن یہ یاد نہیں کہ ہم پہلی بارکب اور کیسے ملے اورہم نے کیا گفتگو کی ۔ وقت کچھ اس تیزی سے گزرگیا کہ جیسے وقت کبھی تھا ہی نہیں۔ 21ستمبر کو امجد حیات کی زندگی کی ٹائم لائن ختم ہوگئی۔ اس سے ایک روز پہلے اس نے خاص دوستوں کے نام ایک نظم لگائی تھی کہ وقت کیسے چلاگیا۔ امجد کو اندازہ تھا کہ اس کا وقت اس کی مٹھی سے نکل چکا ہے۔ اس کی موت کی خبر نے مجھے جس صدمے سے دوچارکیا اسے ضبط تحریر میں لانا تو ممکن نہیں۔

امجد کی کمی تو میں ہمیشہ محسوس کروں گا لیکن 21ستمبر کو جب اس کی موت کی خبر آئی تو مجھے اس کی کمی اس روزاس لیے بھی زیادہ محسوس ہوئی کہ وہ جب تک حیات تھا مجھے دکھ کے لمحوں میں پرسہ دیتا تھا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ مجھے کوئی اس دکھ سے نکالے ، مجھے کوئی پرسہ دے لیکن اس روز شہزادعمران کے سوا مجھے میرے کسی دوست نے پرسہ نہ دیا۔ پرسہ دینے والا خود جوچلا گیا تھا۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)