سانجھ کی روایت کو کس کی نظر کھا گئی؟
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 25 / ستمبر / 2023
کوئی بھی معاشرہ، ملک یا قوم ہو اس کی سب سے قیمتی چیز اور آگے بڑھنے کی راہ سانجھ پن میں ہوتی ہے۔ برصغیر ہند و پاک کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ یہ خطہ سانجھ میں سب سے آگے تھا۔ سانجھا ہماری تہذیب کا مرکز تھا۔ ہمارے رسم و رواج، ہمارا خاندانی نظام جو اب بھی کسی حد تک قائم ہے۔ ہمارے رہن سہن کے طریقے میں سے سانجھ ہی کی جھلک نظر آتی ہے۔ لیکن پچھلی چند دہائیوں سے ہمارے ملک سے سانجھے کا نظام بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اب کسی بھی علاقے یا کسی بھی شعبے میں اپنائیت کا فقدان نظر آتا ہے۔
راقم لاہور کے فلیٹی ہوٹل میں منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمنار میں مدعو تھا۔ گزشتہ دو روز سے لاہور میں ہی ہے اور شہر کے اندر کافی گشت کیا ہے۔ لاہور دنیا کا انیسواں بڑا شہر ہے جس میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی خاص نظام نہیں ہے۔ یہ خیال بھی مجھے سانجھداری کی طرف لے گیا کیونکہ راقم کو اوسلو کی بسوں کے پیچھے لکھا یہ جملہ شدت سے یاد آیا کہ "جب ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں تو پھر کیا وجہ کہ آپ میرے اندر نہیں بیٹھے؟" یا یوں سمجھ لیں کہ " جب ہم نے ایک ہی راستے پر جانا ہے تو پھر اکٹھے ہو کر کیوں نہیں چلتے؟"
لاہور میں سابق وزیر اعلی شہباز شریف کی کوششوں سے ایک بس سروس اور ایک مقامی ریل سروس کا اجرا ہوا جو بہت ہی اچھے منصوبے تھے۔ (یار لوگوں نے اس کی مخالفت کی، مذاق اڑانے اسے جگلا بس کا نام دیا) لیکن یہ ایک اچھا منصوبہ تھا جسے بعد میں دوسرے شہروں میں بھی شروع کیا گیا۔ راقم شاید وہ پہلا شخص ہوگا جس نے لندن ملاقات میں شہباز شریف صاحب کو یہ مشورہ دیا تھا کہ لاہور کی ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے کسی غیر ملکی فرم کی شراکت سے میٹرو منصوبے پر کام کیا جائے۔ اب یہ بات میاں صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ میرے مشورے کا نتیجہ تھا یا کہ بعد میں کسی اور نے اس منصوبے میں کوئی چمک دکھائی تھی۔
یہ جو پبلک ٹرانسپورٹ ہوتی ہے یہ بھی باہمی تعاون کا بڑا ذریعہ ہوتی ہے۔ جب ایک ہی بس یا ٹرین میں ایک ہی منزل کی طرف بہت سارے مسافر روزانہ یا اکثر سفر کرتے ہیں تو پھر ایک دوسرے کی شکلوں کی پہچان کے ساتھ ساتھ جان پہچان بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام بڑے شہروں میں ایک علاقہ اندرون شہر کہلاتا تھا، جہاں لوگوں میں اشتراک عمل ایسا ہوتا تھا جیسے ایک ہی خاندان کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے۔ اب ذرا دیہاتوں کی طرف چلتے ہیں۔ دیہات تو سانجھ میں بہت زیادہ آگے تھے. کیونکہ کم آبادی اور زیادہ رشتہ داریوں کی وجہ سے ہر بندہ دوسرے سے جڑا ہوتا تھا۔ اور وہاں کے کام اور رسم و رواج ایسے تھے کہ ہم سب ایک دوسرے کے مرہون منت ہوتے تھے۔ بالخصوص شمال مغربی پنجاب اور کشمیر میں تو سارے کام ہی مل کر ہوتے تھے۔
اس وقت گھر گھر میں پانی کے نلکے نہیں ہوتے تھے اور سارے گاؤں کی بیبیاں ایک ہی کنوئیں سے پانی لاتی تھیں جس کے اوقات طلوع سورج اور ڈھلتے سورج کے قریب ہوتے تھے۔ اس طرح ہماری خواتین ٹولیوں میں جاتیں گھڑوں میں پانی بھرتے وقت دو دو یا تین تین خواتین کام کرتیں، زمینوں میں سارے کام مرد و خواتین مل کر کرتے تھے۔ ایسے بھی ہوتا تھا کہ ایک دن کئی لوگ مل کر کسی ایک کی فصل کی بوائی کرتے تو اگلے دن کسی دوسرے کی باری ہوتی اسی طرح فصل کی کٹائی کے موقع پر کیا جاتا اور اس دوران کھانا بھی ایک ہی گھر سے آتا جو سب مل کر کھاتے، پھر فصل کترائی کا مرحلہ آتا(آجکل کترائی کہتے ہیں کیونکہ یہ کام مشین کرتی ہے جبکہ اس وقت اسے گاہی یا گاہنہ کہتے تھے) چھوٹے دیہات میں مختلف جگہوں پر چند ایک میدان(کھلاڑے) بنائے جاتے تھے۔ جس طرح اب کرکٹ کے لیے پچ تیار ہوتی ہے اس طرح فصل سے دانے الگ کرنے کے لیے زمین میں ایک چھوٹا میدان تیار کیا جاتا تھا۔ اسی طرح جب کسی کا مکان بنتا تھا، دیواریں تو وہ اپنے خرچے پر بناتا لیکن چھت ڈالنے کی ذمہ داری سارے گاؤں کی ہوتی تھی۔ جسے ’لادی‘ کرنا کہا جاتا تھا۔
پھر کیا ہوا، ہمارے بہت سارے نوجوان پردیسی ہوئے پیسہ آیا، گھر گھر نلکے لگے، مکانوں کی چھتیں کنکریٹ کی ہونے لگیں، پھر مکان بنانے کے ٹھیکے دیے جانے لگے، بیبیوں نے برقعے پہنے، مردوں نے ایک دوسرے کو سلام کرنا چھوڑا، گھروں کے گرد چاردیواریاں بنیں اور گیٹ لگے۔ اب بنا کسی کام کے اور گھنٹی دیے بغیر کسی گھر داخل ہونے کو جہالت سمجھا جانے لگا، پہلے بہت سارے لوگ کسی ایک چوراہے میں یا کسی ایک کے گھر بیٹھ کر حقہ پیتے اور دوسرے کو باری دیتے، پھر سگریٹ آئے جس کی باری لینا بدتمیزی ٹھہرا۔ اس وقت زیادہ گھروں میں دودھ والے جانور ہوتے تھے۔ دودھ خریدنے والے کم ہی ہوتے تھے۔ جبکہ لسی محلے کے گھروں کو مفت میں دی جاتی تھی۔
اب ہم سب اپنی اپنی سواریوں پر گھروں سے نکلتے ہیں۔ 90 فیصد خواتین برقعہ پوش ہوتی ہیں۔ اپنی بیٹی یا بہن بھی پاس آ جائے تو پہچانی نہیں جا سکتی ہے۔ پرانے زمانے میں مذہبی رواداری ہوتی تھی۔ مسلمانوں میں تین ہی فرقے مشہور تھے۔ "سنی، وہابی، اور شیعہ" لیکن سب ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے اور سانجھے کام سب مل کر کرتے، اب ایک ایک فرقے سے 15/20 فرقے نکل چکے۔ سب سروں پر اپنی اپنی ٹوپی، پگڑی اور دلوں میں دوسروں کے لیے نفرت رکھتے ہیں۔
یہ خاکسار پکے مکانوں کے خلاف ہے، نہ گھر گھر پانی کی مخالفت کرتا ہے۔ میں ہر طرح کی جدید ٹیکنالوجی اور نئی ایجادات کا حمایتی ہوں لیکن ان کو سانجھ پن میں رکاوٹ نہیں بنانا چاہیے تھا۔ ترقی یافتہ ممالک جہاں جدید ٹیکنالوجی کی انتہا ہے اور ہر کوئی خود کفیل ہے۔ وہاں بھی سانجھ یا تعاون پورے ولولے کے ساتھ اب بھی موجود ہے۔ ہر رہائشی محلے یا بلڈنگ کے اندر ان کی اپنی تنظیم ہوتی ہے، جس کے باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں۔ ان کا اپنا آئین ہوتا ہے جس کی پابندی لازم ہوتی ہے۔ ان کے معاملات میں حکومت بھی مداخلت نہیں کر سکتی ہے۔ یہ کام ہم بھی کر سکتے ہیں۔ یہ خاکسار آئندہ کسی کالم میں اس کے پورے طریقہ کار کی وضاحت بھی کرے گا۔