عمران ریاض کی واپسی سے نواز شریف کی واپسی تک

صحافی و اینکر  عمران ریاض تقریباً پانچ ماہ لاپتہ رہنے کے بعد واپس اپنے گھرپہنچ گئے ہیں لیکن نہ پولیس نے بتایا ہے اور نہ واپس آنے والے اینکر  نے خود، ان کے وکیل یا اہل خانہ نے یہ بتانے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ وہ کہاں تھے اور اگر انہیں اغوا کیا گیا تھا تو وہ کس کی تحویل میں تھے۔ واقعات  کی گرد میں یہ واقعہ بھی بھلا دیا جائے گا اور کچھ عرصہ بعد  کوئی نیا سانحہ لوگوں کی توجہ حاصل کرلے گا ۔

یہ فراموش کردیاجائے گا کہ   کسی شہری کو قانونی اختیار کے بغیر لاپتہ کرنے جیسے سانحات کا اس وقت تک خاتمہ ممکن نہیں ہے جب تک کسی  ہائی پروفائل معاملے میں سب متعلقین کھل کر بات کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔ عمران ریاض کو اپنے مقبول یوٹیوب چینل اور تحریک انصاف کی پر زور حمایت کی وجہ سے بہر حال  ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔  پولیس میں ان کے اغوا کی رپورٹ درج کروائی گئی تھی اور لاہور ہائی کورٹ  نے مئی سے لے  کر اب تک   اس معاملہ  پر متعدد سماعتیں کیں اور پولیس کو بار بار عمران ریاض کو بازیاب کروانے کا نوٹس دیا۔   گزشتہ بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس  محمد امیر بھٹی نے پنجاب پولیس کو آخری موقع دیتے ہوئے عمران ریاض کو 26 ستمبر تک بازیاب کروانے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ عدالت  کے صبرکا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے۔ یہ مہلت  ختم ہونے سے ایک  دن پہلے عمران ریاض اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ   لاہور ہائی کورٹ اسے اپنی کامیابی سمجھ کر  شاداں و فرحاں ہوگی یا اب  اس سوال کا جواب دریافت کیا جائے گا کہ  پولیس کو عمران ریاض کہاں سے اور کیسے ملے؟ اور ان لوگوں  کے خلاف کارروائی کا کوئی حکم جاری ہوگا جنہوں نے انہیں پورے ملک کے احتجاج کے باوجود 130 دن تک  لاپتہ رکھا تھا۔

 یوں تو ملک میں آئے دن لوگ اٹھا لیے جاتے ہیں اور لاپتہ افراد کے اہل خاندان سال ہا سال سے ان کی بازیابی کے لیے احتجاج  کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے  ہیں لیکن  کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ حتی کہ اعلی عدلیہ بھی دوسرے درجے کے افسروں کو ڈرانے  دھمکانے اور سخت کارروائی کی دھمکیاں دینے کے بعد اب یہ تسلیم کرچکی ہے  کہ اس ملک میں کچھ ایسے ’گرے ایریاز ‘ ہیں ، جن پر ملکی  قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس لیے شاید عدالتوں کا اس پر خاموش رہنا ہی بہتر رویہ ہے۔ شاید عمران ریاض کے معاملہ میں بھی لاہور ہائی کورٹ کے فاضل ججوں کو ایسی  مصلحت  آمیز خاموشی اختیار کرنا پڑے۔

ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی بے بسی دیکھتے ہوئے اگر  ایسی ہی المناک صورت حال کا شکار ہونے والا کوئی شخص کسی ’ڈیل، افہام و تفہیم یا حادثاتی‘ طور سے رہا ہونے کے بعد خاموش رہنے پر مجبور ہوتا ہے  اور کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتا ہے تو اسے قابل فہم ہونا چاہئے۔ لیکن یہ صورت حال  ملک کی  عمومی  شہرت اور قانون کی عملداری کے حوالے سے ایک سنگین سوال کے طور پر موجود رہے گی۔ اس سوال کا جواب جانے بغیر یہ  طے نہیں کیا جاسکتا کہ  پاکستانی نظام  میں کب اور کیسے کوئی  اصلاح ممکن ہوگی۔ یہ سوال اس ملک کے شہریوں کی بنیادی آزادیوں کے حوالے سے ہے۔ اسی حق کی دہائی دیتے ہوئے سیاسی جماعتیں ملک میں انتخابات  کامطالبہ کرتی ہیں  تاکہ عوام اپنے نمائیندوں کے ذریعے امور مملکت چلانے کے اہل سمجھے جائیں۔

ملک میں چونکہ مباحث کو خلط ملط کردیا جاتا ہے ، اس لیے   لوگوں کو لاپتہ کردینے کے واقعات اور جمہوری حکومت کے قیام میں تعلق کے حوالے سے غور کرنے  کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔  اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ملک میں یکے بعد دیگرے متعدد ’منتخب ‘ حکومتیں  لاپتہ افراد کے معاملہ پر زبانی جمع خرچ سے زیادہ کوئی اقدام نہیں کرسکیں۔ جس تحریک انصاف نے  عمران ریاض کے  لاپتہ ہونے کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا مسئلہ بنایا ہؤا تھا، اسی کے دور حکومت میں عمران خان نے بطور وزیر اعظم  بمشکل لاپتہ افراد کے اہل خاندان سے ملاقات کی تھی اور کوئی وعدہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔  وزارت عظمی میں ان کے جانشین شہباز شریف نے   دورہ کوئٹہ کے دوران ایک تقریب میں  یہ سوال سامنے آنے پر ہاتھ کھڑے کردیے تھے اور کہا تھا کہ میں ’متعلقہ  حکام ‘ تک آپ کی بات پہنچا دوں گا۔  سوچنا چاہئے کہ جس ملک کا وزیر اعظم  کھلی لاقانونیت کا نوٹس لینے کا اختیار نہ رکھتا ہو ، وہاں جمہوری عمل اور  آئینی بالادستی  کے دعوے اور مطالبے کیا حقیقت رکھتے ہیں؟

عمران ریاض کی رہائی پر ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’اللہ کے خاص فضل، کرم و رحمت سے اپنے شہزادے کو پھر لے آیا ہوں۔ مشکلات کے انبار، معاملہ فہمی کی آخری حد، کمزور عدلیہ و موجودہ غیر مؤثر سرعام آئینی و قانونی بے بسی کی وجہ سے بہت زیادہ وقت لگا۔ ناقابل بیان حالات کے باوجود اللہ رب العزت نے یہ بہترین دن دکھایا۔ اس وقت صرف بے پناہ شکر‘۔   اس پیغام کو عام فہم لفظوں میں سمجھنے کی  کوشش کی جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ  کچھ وعدے کرکے عمران ریاض کو رہا  کروالیا گیا  ہےجس پر اللہ کا شکر ہے لیکن ملک  کا قانون  اور عدالتیں اس قابل نہیں ہیں کہ وہ ایک ظلم کے خلاف کسی شہری کی داد رسی کرسکیں۔  ملک کے شہری اگر حالات کی اس تفہیم کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں تو فیصلے کرنے والے عناصر   کوجان لینا چاہئے کہ اداروں، حکام اور نظام پر عوام کا یقین متزلزل ہوچکا ہے۔ اب شنید ہے کہ اسی نظام کی بنیادپر ملکی معیشت  بحال کرکے پاکستان کو ترقی کی راہ  پر گامزن کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا گیا ہے۔ البتہ اگر ملک کے شہری اپنے جان و مال کی حفاظت کے بارے میں مطمئن نہیں ہیں تو حکمرانی کا ایسا نظام کامیاب ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس جعلی تحکم کے زیر سایہ معاشی  بحالی کا کوئی منصوبہ  کسی تبدیلی یا  بہتری کی نوید  بنے گا۔

 میدان صحافت میں تحریک انصاف کے ’شیر‘ عمران ریاض کی  گھر  واپسی تو ہوگئی لیکن  سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے ’شیر‘ نواز شریف کی واپسی کے اعلانات  کے بارے میں ایک بار پھر شکوک کے سائے  منڈلانے لگے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ  میاں نواز شریف نے  اپنی حکومت کے خلاف سازش  کرنے پر  سابقہ ججوں اور جرنیلوں کے خلاف احتساب   کا جو نعرہ بلند کیا ہے ، وہ ان کے پاؤں  کی زنجیر بن سکتا ہے اور ملک پر ایک بار پھر حکمرانی کا خواب  چکنا چور ہوسکتا ہے۔  یہ ایک بیان جو میرٹ کی بنیاد پر تو کوئی ناجائز یا اشتعال انگیز نہیں ہے کیوں کہ اس میں صرف اتنی بات کی گئی ہے کہ  ان عناصر  کی باز پرس ہونی چاہئے  جوملک کے فعال نظام اور آئینی حکومت کو کمزور کرکے  مرضی کی حکومت لانے کی منصوبہ بندی  کرتے رہے تھے۔ یہ  وہی  مطالبہ ہے  جو سانحہ 9 مئی   کے بعد  تواتر سے فوج کی طرف سے سننے میں آتا رہا ہے کہ  ان  عناصر   کو معاف  نہیں کیا جاسکتا  جنہوں نے عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں پر حملے کیے تھے خواہ ان کا تعلق کسی طبقے اور مرتبے سے ہو۔ یعنی ہر کسی کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔

اب سوچنا چاہئے کہ اگر عام شہری یا سیاسی لیڈروں کو ان کے  کردہ و ناکردہ جرائم کی سزا دینا جائز مطالبہ ہے تو  بعض جرنیلوں یا ججوں نے طاقت و اختیار کے نشے میں  اگر کوئی غلط  فیصلے کیے تو ان سے بھی جواب  طلب کرنا چاہئے۔  کسی ایک ملک میں دو افراد یا طبقوں کے لئے دو مختلف قانون نہیں ہوسکتے۔ اگر فوج و عدلیہ اپنے اپنے سابقہ لیڈروں کو بچانے کے لئے ڈھال کا کام کرتی رہے گی تو مان لینا چاہئے کہ ایسے  ادارے اور  نظام اصلاح کے قابل نہیں رہے۔ البتہ یہ اصول عمومی طور سے تسلیم کرنے کی ضرورت ہوگی کہ  الزام کی زد پر خواہ کوئی بھی ہو، اسے اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے جب تک  الزامات کسی مناسب قانونی فورم پر شواہد و دلائل کے ساتھ ثابت نہ  ہوجائیں۔ یہ حق  ذبردستی  محبوس رکھے گئے صحافی عمران ریاض  کو لاپتہ  کرنے والوں پر بھی لاگو ہونا چاہئے اور اگر کوئی سیاست دان سابق آرمی چیف یا چیف جسٹس کے خلاف کسی زیادتی  کا الزام عائد کرتا ہے تو انہیں بھی مناسب قانونی فورم پر اپنا دفاع کرنے اور نام پر لگے ہوئے داغ کو صاف کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ درحقیقت ایسا موقع ملنے سے   الزامات کی آڑ میں جھوٹی سچی افواہیں عام کرنے کا طریقہ ختم ہوگا اور متعلقہ  افراد اور ان اداروں کی شہرت  بحال ہوسکے گی جن سے وہ وابستہ رہے ہیں۔

تاہم پاکستانی سیاست میں یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ    سابق جرنیلوں و ججوں کے احتساب کے بارے میں نواز شریف کے بیان کو ان کے سیاسی سفر  کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جارہا ہے ۔  ایک طرف سوشل میڈیا  ان ’خبروں و اطلاعات‘ کا  مرکز بن چکا ہے کہ کیسے یہ بیان دے کر نواز شریف نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ تو دوسری  طرف  ساری زندگی میدان سیاست میں عوامی حکمرانی کا علم  بلند کرنے والے لیڈر بھی نواز شریف کو عقل کے ناخن لینے کے مشورے دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینئر لیڈر خورشید شاہ نے ایک روز پہلے نواز شریف کو انتقام کی بجائے مصلحت سے  کام لینے کا مشورہ دیا تھا اور اب ان کی  اپنی پارٹی  کے لیڈر سینیٹر مشاہد حسین نے   اپنے لیڈر سے کہا ہے کہ  وہ سابق فوجی جرنیلوں  کے حوالے سے ’سخاوت‘ کا مظاہرہ کریں ۔  وہ  بھول جانے اور آگے بڑھنے کے  اصول پر عمل کریں۔ 

ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں انٹرویو کے دوران سینیٹر مشاہد حسین نے کہا  کہ نواز شریف  آزمائے ہوئے اور ناکام فارمولے کا انتخاب نہ کریں۔  ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے  پرویز مشرف کو  تحفظ فراہم کیا  اور انہیں  ہماری اپنی حکومت کے دوران محفوظ راستہ دیا  گیااور آپ بے بس تھے۔’ پاکستان میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنے چیف کی حفاظت کرے گی۔ چاہے وہ کتنا ہی متنازع کیوں نہ ہو، اسے مکمل فوجی اعزازات دیے جائیں گے۔   وہ کسی باہر والے کو (شہری) اپنے فوجیوں کے ٹرائل کی اجازت  نہیں دیں گے۔ اس مرحلے پر اگر آپ  انتقام کے عمل میں پھنس گئے تو آپ حکومت نہیں کر پائیں گے۔  اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو پھر فوجی بغاوت ہوگی‘۔

یہ  علیحدہ بحث ہے کہ نواز شریف نے  دو اڑھائی سال تک  ’نابکار اسٹبلشمنٹ‘ سے ہتھ جوڑی  رکھنے کے بعد اب واپسی سے قبل بعض جرنیلوں کے احتساب کا نعرہ کیوں بلند کیا ہے ۔ البتہ اگر   آئینی و سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو  انتخابات سے پہلے یہ ایک مناسب اصولی سیاسی ایجنڈے کا معاملہ ہے جس میں طے ہونا چاہئے کہ  ملکی نظام میں کچھ مقدس  گایوں کو  باقی رکھنا ہے یا قانون  کی عمل داری کا  دائرہ ہمہ گیر ہونا چاہئے؟