عراق: شادی کی تقریب میں ہولناک آتشزدگی، دلہا دلہن سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک
عراق کے صوبے نینویٰ میں شادی کی تقریب کے دوارن آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں دلہا دلہن سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک اور 150 افراد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ضلع ہمدانیہ کے مرکزی ہسپتال میں ایمبولینسیں آرہی ہیں اور درجنوں افراد خون کے عطیات دینے کے لیے جمع ہیں۔ دیگر افراد ٹرک کے قریب موجود ہیں اور لاشوں کے سیاہ بیگ ٹرک میں لوڈ کر رہے ہیں۔
عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی این اے‘ کے مطابق ہلاکتوں کی ابتدائی تعداد کے حوالے سے نینویٰ صوبے کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ہمدانیہ کے شادی ہال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 100 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 150 سے زائد زخمی ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر کی جانب سے ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمی افراد میں سے اکثریت جھلسنے اور دم گھٹنے کی شکایت کررہے ہیں۔ جائے وقوع پر ہجوم کی جانب سے کچلنے کے واقعات بھی ہوئے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ منگل کی رات مقامی وقت کے مطابق تقریباً 10:45 پر جب عمارت میں آگ لگی تو اس وقت ہال میں موجود سینکڑوں لوگ جشن منا رہے تھے۔ سول ڈیفنس حکام نے ایک بیان میں بتایا کہ ایونٹ ہال کے اندر پہلے سے موجود تیار شدہ پینلز انتہائی آتش گیر اور ناقص حفاظتی معیارات کے تھے۔ پینلز کے ساتھ منسلک مادے کی وجہ سے زہریلی گیسوں کے اخراج کے سبب خطرہ مزید بڑھا، جہاں پلاسٹک بھی موجود تھا۔
آگ لگنے کے سبب چھت کے کچھ حصے گر گئے، کیونکہ انتہائی آتش گیر اور کم لاگت کا تعمیراتی سامان استعمال کیا گیا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ آتش بازی کو قرار دیا گیا۔
دوسری جانب ہمدانیہ ڈسٹرکٹ کے حکام نے شادی ہال کے مالک کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔ قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق شادی ہال کا مالک ملک سے فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ عراق کی وزارت صحت کی جانب سے بیان میں اموات کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق زخمیوں میں سے اکثریت کی حالت نازک ہے۔