انڈیا کینیڈا تلخی اور خالصتان کا مسئلہ

چندریان تھری اور جی 20 کی کامیابیوں کے فوری بعد لگتا ہے مودی جی کو جسٹن ٹروڈو کی نظر لگ گئی ہے۔ بھارت جو عالمی طاقت کی حیثیت حاصل کرتے ہوئے تیزی سے اوپر اٹھ رہا ہے حاسدوں سے دیکھا نہیں گیا۔

یوں چودھویں کا چاند گہنا سا گیا ہے لیکن اس میں سارا قصور حاسدوں یا غیروں کا نہیں ہے شاید کچھ دوش اپنا بھی ہے۔ کینیڈا کے جواں سال پرائم منسٹر اپنی پارلیمینٹ سے خطاب میں کھلے بندوں اظہار کررہے تھے کہ میں نے دہلی میں جی 20 سمٹ کے دوران پرائم منسٹر مودی سے اپنی اس تشویش کا اظہار کردیا تھا کہ ہماری ایجنسیوں کے پاس اس نوع کی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں انڈین ایجنٹس ملوث ہیں۔ ہم نے بھارت کے کینیڈا میں ہیڈ آف انٹیلی جنس (’را‘ چیف پون کمار) کو کینیڈا سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔ معاملات کی تحقیقات جاری ہیں کینیڈین سرزمین پر قتل میں غیر ملکی حکومت کا ملوث ہونا ہماری خود مختاری کے خلاف ہے۔ ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔  پرائم منسٹر جسٹن ٹروڈو کا

 کہنا تھا کہ یہ ایک تشویشناک سانحہ ہے لیکن وہ انڈیا کو اکسانے کی کوشش نہیں کر رہے، ہم اسے سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ انڈین حکومت کو بھی اسے اسی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

دوسری طرف انڈین وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم کینیڈین قیادت کے بیانات کو مسترد کرتے ہیں۔ کینیڈا میں تشدد کی کسی بھی کارروائی میں انڈین حکومت کے ملوث ہونے کے الزامات مضحکہ خیز ہیں۔ جواباً انڈیا نے بھی کینیڈین سفارت کار کی ملک بدری کے احکامات جاری کردیے جس کی کینیڈین حکومت نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بجائے تفتیش میں تعاون کرنے کے یہ الٹا قدم اٹھایا گیا ہے جبکہ بھارتیوں کا کہنا ہے کہ یہ کیسی تفتیش ہے جس میں فیصلہ پہلے ہی سنا دیاگیا ہے۔

 ‎بات محض کینیڈا تک نہیں رہی ہے امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے اتحادی انگلش سپیکنگ ممالک جنہیں انٹیلیجنس شئرنگ جیسی کوارڈینیشن کے ریفرنس سے فائیو آئیز قرار دیا جاتا ہے، نے بھی سکھ کینیڈین کے قتل میں انڈین حکومت کے ملوث ہونے کے الزام پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان سنجیدہ الزامات پر کینیڈین حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور معاملے کی تحقیقات کے لئے کینیڈین مطالبے کی حمایت کرتے ہیں ۔ جو بھی قاتل ہیں انہیں کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ کینیڈین حکومت نے اپنے شہریوں کے لئے ٹریول ایڈوائزری جاری کردی جس کے مطابق کینیڈین شہری آسام، منی پور، انڈین کشمیر اور پاک بھارت سرحد کے قریب سفر سےگریز کریں۔

یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ سکھ کمیونٹی کی بھاری تعداد کینیڈا میں آباد ہے جن میں خالصتانی ذہنیت بھی لاکھوں میں ہے۔ سکھ فار جسٹس کے چیف اور خالصتان تحریک کے بانی گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ خالصتان تحریک ریفرنڈم کی کامیابی پر بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ہم ہردیپ سنگھ نجرکے قتل کا بدلہ لیں گے۔ دوسری طرف بھارت سرکار نے بھی اپنے سفارتکا روں، شہریوں، بالخصوص سٹوڈنٹس کے لئے کینیڈا میں اسی نو کی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس کی کینیڈا نے مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ اس سال 18 جون کی شام خالصتانی سکھ لیڈر پین تالیس سالہ ہردیپ سنگھ نجر کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں گورونانک صاحب گورودوارے کی پارکنگ میں دو نقاب پوشوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

نجر 2017 میں انڈیا سے کینیڈا آگیا تھا جسے چند برس قبل انڈین حکومت نے خالصتانی تحریک میں سرگرم مہم چلانے پر دہشت گرد قرار دیا تھااور اس کے سر کی قیمت مقرر کی تھی۔ اس پر مختلف النوع کئی مقدمات بھی تھے۔ اس قتل پر مغربی ممالک میں مقیم سکھوں بالخصوص کینیڈا میں جہاں بڑی تعداد میں خوشحال سکھ آباد ہیں، خاصا احتجاج ہوا تھا ، بھارتی ترنگے کی بے حرمتی کرتے ہوئے شریمتی اندرا گاندھی کے خلاف بھی خاصی نفرت پھیلائی گئی تھی۔ خالصتانی لیڈروں نے اشتعال انگیز زبان استعمال کی تھی۔

کینیڈا ایک بڑا ملک ہے لیکن اس کی آبادی اس کے جثے یا حجم سے خاصی کم ہے، محض تین کروڑ ستاسی لاکھ۔ اس لئے کینیڈا دوسرے ممالک سے مائیگریٹ ہو کر آنے والوں کو سب سے بڑھ کر ویلکم کرتا ہے۔ بھارت سے سکھ کمیونٹی کی یہاں آمد بہت پہلے بالخصوص ساٹھ کی دہائی میں اچھی خاصی ہو چکی تھی جس طرح ہماری یہ ریت ہے کہ ایک گاؤں کےلوگ ویسٹ میں کہیں جگہ بنالیتے ہیں تو پھر وہ اپنے دیگر لوگوں کو بھی اپنی اس ترقی و خوشحالی کا بتا کر انہیں اپنے ساتھ سیٹل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے کہ منگلا ڈیم کی تعمیر کے وقت ہمارے میر پور کے لوگ بھاری تعداد میں انگلینڈ آباد ہوئے لیکن ان کے برطانیہ میں اس نوع کے مخصوص خطے یا گڑھ نہیں بن پائے جس طرح سکھ کمیونٹی کے کینیڈا میں بنے ہیں۔

برٹش کولمبیا (جو امریکا سے بہت قریب ہے) کے جس گردوارے میں خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کی ہلاکت ہوئی ہے، وہاں کینیڈین سکھوں کی تقریباً نصف کے قریب آبادی ہے، سکھ دھرم کی یہ کمیونٹی زیادہ تر کینیڈا کی نیوڈیموکریٹک پارٹی کی پرجوش حمایتی ہے جو حکومت میں کینیڈین پرائم منسٹر جسٹن ٹروڈو کو سپورٹ کرتی ہے۔ یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ موجودہ کینیڈین پرائم منسٹر کے والد بڑے ٹروڈو جب کینیڈا کے وزیراعظم تھے تو ان کے اگرچہ ابتداً انڈیا سے بڑے خوشگوار تعلقات تھے، انڈیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی کیلئے نیوکلیئر ری ایکٹر بھی انہی کے دور میں مہیا کیاگیا تھا لیکن 1974میں جب انڈیا نے ایٹمی دھماکہ کیا تو اس پر تلخی خاصی بڑھی تھی اور انڈیا نے چین کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے سیکیورٹی تحفؓظات واضح کئے تھے۔ آج بھی انڈیا کی کینیڈا سے تجارت کوئی آٹھ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے کوئی چھ سو کے قریب کینیڈین کمپنیاں بھارت میں کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اتنی بھاری تعداد میں جو انڈین کینیڈا میں آباد ہوئے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر نے کینیڈین نیشنلٹی لے رکھی ہے مگر وہ اپنی فیملیز کو انڈیا میں جو سرمایہ بھیجتے ہیں، وہ انڈین اکانومی کیلئے اضافے کا باعث ہے ۔

علاوہ ازیں حصول تعلیم کیلئے بھی لاکھوں کی تعداد میں انڈین کینیڈا جاتے رہتے ہیں جنہیں کینڈین سکالر شپ بھی دیے جاتے ہیں۔ اگرچہ حالیہ تناؤ میں انڈیا نے امیگریشن کے حوالہ سے ویزہ پابندیاں عائد کر دی ہیں اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھی ہر دو اطراف خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ کینیڈین حکومت کی طرف سے یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پرائم منسٹر جسٹن نے اپنی جی 20 دہلی یاترا کے دوران ہردیپ سنگھ نجار کی ہلاکت کے حوالے سے بات چیت کرنے کی خاطر پرائم منسٹر مودی کے ساتھ الگ سے ملاقات یا مذاکرات کی درخواست کی تھی اور پھر طیارہ خراب ہونے کے بعد ان کا بھارت میں جو اضافی دو روزہ قیام ہوا، اس میں بھی پرائم منسٹر مودی نے پرائم منسٹر جسٹن ٹروڈو کو نظر انداز کیا جو ایک طرح سے کینیڈا کیلئے بھارتی ناراضگی کا اظہار تھا ۔

اس سلسلے میں انڈین سرکار کا موقف یہ ہے کہ پرائم منسٹر جسٹن ٹروڈو اپنے سیاسی مفادات کیلئے ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے جو کینیڈا میں بیٹھ کر دھرم اور خالصتانی نعرے کی بنیاد پر انڈیا یا انڈین پنجاب میں وائیلنس یا دہشت پھیلاتے ہیں اور کئی مقدمات میں انڈیا کو مطلوب ہیں۔ پنجاب سے معروف بھارتی نوجوان گلو کار سدھو موسے والا کو پچھلے برس 28مئی کو جس طرح ہلاک کیا گیا، اس کا الزام خالصتانی سکھ انتہا پسند ہندوئوں پر دھرتے ہیں اور انڈین حکومت اسے خالصتانیوں کا کیا دھرا قرار دیتی ہے۔ حال ہی میں ایک اور خالصتانی لیڈر سکھدول سنگھ کی کینیڈین شہر ونیپک میں ہلاکت ہوئی ہے جس کا ایشو اس لیے نہیں اٹھا کہ اس کی ہلاکت کریمینل گینگز کے حوالے سے بیان کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اس کے متعلق انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ خالصتانی رہنما روشدیپ سنگھ کا قریبی ساتھی تھا اورپنجاب پولیس کی ملی بھگت سے کینیڈا فرار ہوا تھا اور وہ پولیس کو کئی مقدمات میں مطلوب تھا ۔ (جاری ہے )