احتساب کوسیاسی نعرہ نہ بنایا جائے
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 30 / ستمبر / 2023
نواز شریف کی طرف سے2017 میں اپنی حکومت کے خلاف مبینہ سازش میں ملوث سابق جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد مسلسل یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیا کوئی سیاسی پارٹی اسٹبلشمنٹ کے سابق اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرکے ملکی سیاست میں متحرک رہ سکتی ہے۔ اب یہ واضح ہورہا ہے کہ نواز شریف اپنے اس بیانیے پر اصرار نہیں کریں گے اور مسلم لیگ (ن) مستقبل کی طرف توجہ مبذول کرے گی۔ تاکہ انتقام کے بارے میں سوچنے کی بجائے عوامی بہبود اور ملکی مسائل پر کام کیا جاسکے۔
عام طور سے قیاس کیا جاتا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی اسٹبلشمنٹ کی مرضی و منشا کے بغیر سیاست نہیں کرسکتی۔ اس طرح احتساب کا معاملہ ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ ہفتہ عشرہ قبل دیڈیو لنک پر پارٹی کارکنوں سے خطاب میں نواز شریف نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سپریم کورٹ کے دو سابقہ سربراہان اور چند ججوں کے خلاف کارروائی کو اہم قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے 2017 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف سازش کی اور 2018 کے انتخابات میں دھاندلی سے تحریک انصاف کو جتوا کر عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا گیا۔ نواز شریف کا مؤقف ہے کہ اس ’سازش‘ کی وجہ سے ملک عدم استحکام کا شکار ہؤا اور معاشی ترقی کا سفر تباہی کا راستہ بن گیا۔ اس لئے ان عناصر کا احتساب کرکے ہی مستقبل کی طرف قدم بڑھایا جاسکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہبر کا یہ مؤقف اصولی طور سے غلط نہیں ہے لیکن ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کا احتساب کرنے کے لئے محض سیاسی نعرے بازی یا انتخابی سلوگن اختیار کرکے معاملات درست نہیں کیے جاسکتے۔ ملک میں احتساب کو مؤثر بنانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے اور سیاسی پارٹیوں اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان مختلف سطح پر جاری غیر رسمی اور غیر قانونی گٹھ جوڑ ختم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا احتساب صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر عدلیہ مضبوط ہو اور جج حضرات اپنے ان ساتھیوں کی گرفت کرنے پر آمادہ ہوں جو کسی بیرونی اثر و رسوخ کی وجہ سے حکم جاری کرتے ہیں یا عدالتی فیصلے لکھتے ہیں۔ یہ سب اقدامات ایک ہی ہلے میں نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کوئی انتخابی مہم جوئی اس مقصد کے لیے میدان ہموار کرسکتی ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے بدعنوانی کے بارے میں ایک واضح نظریہ پر اتفاق ضروری ہوگا۔ اس کے بعد ملک کے آئینی، سیاسی و انتظامی ادارے اس اصول کو نافذ کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کریں۔ تب ہی دھیرے دھیرے یہ مزاج استوار ہوسکے گا کہ کسی شخص کو اپنے عہدے کی بنیاد پر ملکی سیاست میں غیر قانونی مداخلت کرنے کا حوصلہ نہیں ہونا چاہئے۔
یہ کام البتہ محتاط منصوبہ بندی اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ عسکری و عدالتی قیادت میں افہام و تفہیم کے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ نواز شریف اگر اپنی خواہش کے مطابق بعض سابقہ جرنیلوں یا ججوں کے خلاف کارروائی کروانے میں کامیاب ہو بھی ہوجائیں تو اس سے یہ اصول طے نہیں ہوسکے گا کہ ملکی معاملات کیسے اور کہاں طے کیے جائیں ۔ البتہ یہ ضرور ہوگا کہ ایک وقت میں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو کرپشن کے الزامات عائد کرکے سیاسست سے باہر کرنے اور جیل میں بند کر نے کا اہتمام کیا گیا اور اب چند سابقہ جرنیلوں اور ججوں کو سزا دلوا کر ایک فرد کی مجروح انا کی تسکین کا اہتمام کرلیا جائے۔ اس طرح نظام میں خرابی تو اسی طرح موجود رہے گی لیکن انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ دراز ہوجائے گا۔ اور جن ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد سازی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، ان کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کواس وقت ایسے تصادم سے گریز اور اس سے باہر نکلنے کی شدید ضرورت ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے لیڈر جاوید لطیف نے چند روز پہلے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے تئیں احتساب کے بارے میں نواز شریف کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ ہم جنرل باجوہ اور فیض حمید کے احتساب کی بات نہیں کرتے لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ 9 مئی کو عسکری تنصیبات پر حملے کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے والے عناصر کو معاف نہ کیا جائے‘۔ دیکھا جائے تو سابق فوجی قیادت نے مبینہ طور پر ملکی سیاست میں مرضی کی پارٹی کو حکومت میں لانے کے لیے جو اقدامات کیے تھے اور جو نتائج سامنے آئے، ان کی نوعیت اور مضمرات سانحہ 9 مئی سے بالکل مختلف تھی۔ یوں بھی دو مختلف جرائم کو ملا کر دیکھنا درست نہیں ہوسکتا۔ اس بیان سے یہی قیاس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عسکری قیادت کو یہ اشارہ دے رہی ہے کہ اگر تحریک انصاف کو میدان سے نکال باہر کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی مدد کی جائے تو پھر پارٹی سابقہ فوجی لیڈروں کے احتساب کا مطالبہ نہیں کرے گی۔
اس سیاسی طرز عمل سے ملک میں احتساب کو ایک برائی کے طور پر تسلیم کرنے کی بجائے سیاسی ہتھکنڈا مان لیا جائے گا۔ اور یہ بھی طے ہوجائے گا کہ سیاسی پارٹیاں صرف اقتدار کے حصول کے لیے فوج کو استعمال کرتی ہیں ۔ اس میں کامیاب ہوکر فوج کی تحسین کی جاتی ہے اور اگر کوئی فوجی لیڈر کسی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرے تو پھر وقت آنے پر اس کے خلاف مہم جوئی کی جاتی ہے۔ یہی احتساب کو سیاسی نعرے بازی کا ذریعہ بنانے کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ اصولی طور سے اس خرابی کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔ یعنی اس بنیاد کو ختم کیا جائے جس کی وجہ سے ملکی فوج سیاسی امور میں دخل اندازی کرتی ہے۔ اگر تمام سیاسی پارٹیاں صرف اقتدار کے حصول کے لیے فوج کو اپنے ساتھ ملانے کا طریقہ ترک کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو فوج کو بھی سیاست دانوں کو مشورہ دینے اور جوڑ توڑ میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔ تاہم جیسا کہ جاوید لطیف کے بیان میں دیکھا جاسکتا ہے ، اس میں فوج کے ساتھ ’کچھ لو کچھ دو‘ کی بنیاد پر سودے بازی کی کوشش کی گئی ہے۔ یہی سیاسی حکمت عملی اس ملک میں تمام مسائل کی جڑ ہے۔
سابقہ جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کا نعرہ بھی درحقیقت سیاست دانوں کے خلاف کرپشن کا نعرہ لگا کر انہیں بدنام کرنے جیسا عمل ہی ہے۔ اس وقت ملک میں کسی کو معلوم نہیں ہے کہ کسی سیاست دان نے واقعی کوئی مالی جرم کیا ہے یا نہیں لیکن عوام کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ سیاست دان اقتدار ملتے ہی عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے قومی خزانہ لوٹنے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ عمران خان کی کل سیاست اسی ایک نکتہ پر مرکوز تھی اور انہوں نے اقتدار میں آنے، رہنے اور نکلنے کے بعد تک سیاسی مخالفین کے بارے میں اس مؤقف کو عام کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ حالانکہ کسی عدالت میں معاملات طے ہوئے بغیر کسی شخص پر ایسا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اقتدار سے محروم ہونے اور فوج سے تعلقات خراب ہونے کے بعد عمران خان کو مالی بدعنوانی ہی کے ایک مقدمہ میں سزا دلوادی گئی ۔
اس مزاج کو قومی سوچ سے نکالے بغیر ملک میں نہ تو سیاسی ہم آہنگی پیدا ہوگی، نہ مل جل کا کسی قومی مقصد کے لیے کام کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ اور نہ ہی واقعی ان عناصر کا احتساب ممکن ہوگا جو قانونی و آئینی اختیارات سے تجاوز کرکے ملکی سیاست میں اپنا نقش ثبت کرنا چاہتے ہیں۔ بعض نامزد جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کا نعرہ لگانا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک سیاسی پارٹی ، دوسری سیاسی پارٹی کی قیادت کے خلاف بدعنوانی کا الزام لگا کر اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہے۔ اس کے برعکس ضروری ہے کہ ملک میں احتساب کا نظام مضبوط کیا جائے، قانون سب کے لیے یکساں طور سے مؤثر ہو لیکن ایسے الزامات کو نعرہ بنانے سے گریز کیا جائے بلکہ ان کی قانونی طور سے ممانعت ہو۔ اس مقصد کے لیے ازالہ حیثیت عرفی کے قوانین بہتر بنائے جاسکتے ہیں تاکہ جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والے لیڈر خواہ وہ سیاست دان ہوں یا ان کا تعلق فوج و عدلیہ سے رہا ہو، عدالتوں سے دادرسی کی امید کرسکیں۔
جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کی بات کرنے کے بعد اب نواز شریف کو خاموش ہیں لیکن پارٹی قائدین اس حوالے سے وضاحتیں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب سابق ویز خزانہ اسحاق دار نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’نواز شریف نے اپنے خلاف سازش کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے‘۔ حالانکہ ملکی آئین و قانون کی خلاف ورزی کا معاملہ کوئی بھی ایک شخص کیسے معاف کرسکتا ہے ۔ جیسے قومی وسائل لوٹنے والے عناصر اللہ سے پہلے ملکی عدالتی نظام کو اپنے کارناموں کا جواب دینے کے پابند ہیں ، اسی طرح جن جرنیلوں یا ججوں نے ملی بھگت سے ملکی نظام میں نقب لگانے کی کوشش کی ہے، انہیں بھی ملکی قانون کے سامنے جواب دہ ہونا چاہئے۔ البتہ ملک کے سیاسی معاملات میں عسکری مداخلت کی طویل تاریخ اورمفاد پرستی کی وجہ سے فوج کو ملکی معاملات میں دخل اندازی کا موقع دینے کی درجنوں مثالوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ پائیدار اور حتمی حل کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جائے ۔ اور سیاسی ماحول آلودہ کرنے کے لیے خالصتاً الزام تراشی کی بنیاد پر نئے نعرے ایجاد کرنے کا طریقہ ترک کیا جائے۔
قانون کو بالادست کرنے کے لیے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا اور معاشرے کے تمام عناصر کو اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنے پر آمادہ کرنا ہوگا۔ تب ہی احتساب معاشرے کا ایک مؤثر اور فیصلہ کن عنصر بن سکے گا۔ بصورت دیگر احتساب بیورو بنادینے سے ناانصافی اور سیاسی انجیئنرنگ کا راستہ تو ہموار ہوگا لیکن عوام کے حقوق پامال کرنے والوں کی کبھی گرفت نہیں ہوسکے گی۔