لتان کےسات اخبارات کے ابتدائی دنوں کی کہانیاں
- تحریر رضی الدین رضی
- ہفتہ 30 / ستمبر / 2023
صحافتی زندگی کے حوالے سے اپنی یادوں کوقلمبند کرنے بیٹھا تو گویا دبستاں کھل گیا۔ کون سی خبر کب بنائی؟ کس ادارے میں کس کے ساتھ کام کیا؟ کس نے کتنی تنخواہ ہضم کی ؟ کون اب کس حال میں ہے؟ اور کون اب حال میں ہے نہ مستقبل میں صرف ماضی بن چکا ہے ؟
ایک ایسا ماضی جوہمیں ناسٹلجیا میں لے جاتا ہے اور معطر رکھتا ہے ۔ خیالوں کے اسی تسلسل میں سب کچھ ایک فلم کی صورت میں نظروں کے سامنے گھومنے لگا۔ پھرخیال آیا کہ سب سے پہلے ان اداروں کا ذکر کیا جائے جن کے اجرا میں خود ہم نے حصہ لیا۔ جن کا پہلا شمارہ ہمارے سامنے یا ہماری کوششوں سے تیارہوا اور جن کی اشاعت کا پہلا دن ہمیں آج بھی محبوبہ کے پہلے بوسے کی طرح یاد ہے ۔
بعد کے دنوں میں یہ اخبار ایک بڑے اخبار کی صورت اختیارکرگئے یا اپنا تسلسل جاری نہ رکھ سکے لیکن ہماری یاد میں تو ہمیشہ محفوظ رہیں گے ۔ یہ سب کچھ ضبطِ تحریر میں لانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم بہت کچھ بھول چکے ۔ اور یہ بھی مکمل نہیں بچی کھچی یادیں ہیں جنہیں محفوظ کر دینا بہت ضروری ہے ۔ کسی بھی کام کا آغاز ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جب ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کام کی تکمیل میں کون سی رکاوٹیں ہمیں درپیش ہوں گی۔ کون سی چیزیں درکارہوں گی، افرادی قوت کتنی ہو اور دفتر کیسا ہونا چاہیے یہ سب باتیں انہی لمحات میں سوچی جارہی ہوتی ہیں جب ہم کسی کام کا آغاز کرنے جارہے ہو تے ہیں ۔ اوربات جب اخبارکی ہو تو پھر اس میں کچھ اور چیزیں بھی بہت ضروری ہوجاتی ہیں۔
مثال کے طورپر اخبار کی اشاعت میں سب سے اہم مرحلہ وقت کا ہوتا ہے۔ ایک ڈیڈ لائن ہوتی ہے جس میں رہتے ہوئے آپ نے کام مکمل کرناہوتا ہے۔ اگر آپ وقت پراخبارتیار نہیں کرتے، ڈیڈ لائن کامقابلہ نہیں کرتے اوربروقت اخبارمارکیٹ میں نہیں پہنچتا توپھر آپ نے جتنی بھی محنت کی ، اخبار جتنا بھی خوبصورت بنایا سمجھیں سب کچھ ضائع ہوگیا۔ سو اخبارشروع کرنے سے پہلے اس کی ڈمی شائع کی جاتی ہے۔ ڈمی ایک طرح کی ریہرسل ہوتی ہے جس میں روزانہ اخبارتیار کیاجاتا ہے ۔ اسے چھاپا بھی جاتا ہے۔ لیکن مارکیٹ میں نہیں بھیجاجاتا۔ سووہ اخبارڈمی کہلاتا ہے۔ ہم نے ڈمی حکومتوں ، ڈمی وزرائے اعظم اورڈمی سیاستدانوں سے کہیں پہلے ڈمی اخبارات کا ذکرسناتھا۔
ڈمی سیاستدان اورحکمران تیارکرنے والے توشاید اتنی محنت نہیں کرتے ہوں گے ورنہ اچھی ڈمیاں تیارہوجاتیں لیکن ڈمی اخبار کی تیاری ہم بہت محنت سے کرتے تھے۔ اور ہم اس لیے محنت کرتے تھے کہ ہم ڈمی کوبھی اصل سمجھ کر ہی تیارکرتے تھے کہ آنے والے دنوں میں ہم نے اسے مارکیٹ میں بھیجنا ہوتا تھا۔ اب تو کمپیوٹر کا زمانہ ہے ، جب کتابت کا دور تھا اورخوش نویسوں نے پورا اخبار تیارکرنا ہوتا تھا تو اس دور میں خوش نویس اخبار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ خوش نویسوں کی تعداد سب ایڈیٹروں کی تعداد سے زیادہ ہوتی تھی اورتنخواہوں کے معاملے میں بھی بعض خوش نویس ایڈیٹر کے ہم پلہ اوربسا اوقات اس سے بھی باہر ہوتے تھے۔ پھرکمپیوٹرسیکشن آئے تو ٹیکنالوجی اہم ہوگئی۔ کمپوزر ، کمپیوٹر کا ماڈل، پرنٹر اورٹونراخبار کی تیاری میں استعمال ہونے لگے۔
کتابت کے زمانے میں اگرمطالبات منوانے کے لیے کارکنوں کو خوش نویسوں کی مدد لیناپڑتی تھی تو ٹیکنالوجی آنے کے بعد کمپیوٹرسیکشن والوں کی جانب سے ہڑتال کی دھمکی پر مالکان چاروں شانے چت ہوجاتے تھے اورباقی کارکنوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیتے تھے یا ان کے بقایاجات ادا کردیتے تھے۔ سو قارئین محترم اس کتاب میں آپ کو صحافت کی زندگی کے مختلف زاویے دکھائی دیں گے جن میں مختلف شخصیات کی جھلک بھی ہوگی۔ مختلف بریکنگ نیوز کااحوال بھی پڑھنے کوملے گا اورکس اخبار کااجرا کیسے ہوا یہ مزے مزے کی کہانیاں بھی اس کتاب میں آپ کواپنی جانب متوجہ کریں گی۔ سو سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں ان اخبارات کا جن کی بانی ٹیم کا ہم حصہ رہے۔ یہ ایک سرسری جائزہ ہے تمام اخبارات کا۔ آنے والے صفحات میں ہم آپ کو ہر اخبار کے اجراءکی الگ کہانی سنائ یں گے۔
1985 میں لاہور سے رفیق ڈوگر صاحب نے پندرہ روزہ دید شنید کا اجرا کیا تو ڈاکٹر انور سدید صاحب نے مجھے اس کی تاسیسی ٹیم کا رکن بنا دیا اور میں اس پندرہ روزہ جریدے کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ دید شنید میں کالم اور فیچر لکھنا ہوتے تھے اور اس کی تیاری کے لیے ہمارے پاس پورے پندرہ روز ہوتے تھے۔ یوں کسی میگزین کی تاسیسی ٹیم کا حصہ بننے کا تو مجھے1985 میں ہی موقع مل گیا تھا۔
یہ1988 کی بات ہے جب مجھے لاہور سے ملتان بلایا گیا کہ یہاں سے ایک نئے اخبار کا اجرا ہونے جا رہا تھا اور وہ اخبار روزنامہ قومی آواز تھا۔ قومی آواز کے ایڈیٹر ایثار راعی تھے۔ ایثار راعی ملتان میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبار روزنامہ مشرق کے نمائندے ہوتے تھے۔ روزنامہ مشرق ایک سرکاری اخبارتھا۔ راعی صاحب نے اس اخبار کی نمائندگی سے جو کچھ بھی حاصل کیاتھا ، ایڈیٹر بننے کی خواہش میں اپنے نئے اخبار میں جھونک دیا۔ روزنامہ قومی آواز میں اسلم جاوید ، رانا اکرم خالد ، نذر بلوچ ، رفعت عباس اور اشرف شیخ بھی ہمارے ساتھ کام کرتے تھے۔ اسلم جاوید نیوز ایڈیٹر، رانا اکرم خالد چیف رپورٹر، نذر بلوچ سٹاف رپورٹر، رفعت عباس ادارتی صفحے کے انچارج اوراشرف شیخ ڈپٹی ایڈیٹرتھے۔ روزنامہ قومی آواز وہ پہلا اخبارتھا جس کے اجرا میں میں شامل ہوا۔ اسی اخبار میں میں نے پہلے شمارے سے اخبارکی تیاری دیکھی اورکاتبوں کی پہلی ہڑتال دیکھنے کا بھی یہیں موقع ملا ۔ یہ بہت شاندار تجربہ تھا ۔
چوک ڈیرہ اڈہ کے قریب ایک چوبارے پر قومی آواز کا دفتر تھا۔ پچیس اپریل 1988 کو قومی آواز کا اجرا ہوا اور اس میں” روزنامہ قومی آواز اور میری آواز “ کے نام سے میرا پہلا کالم شائع ہوا۔ قومی آواز کے بعد مجھے روزنامہ اعلان حق کی تاسیسی ٹیم کا حصہ بننے کا بھی موقع ملا ۔ انہی دنوں شاید 1986 میں ممتاز طاہر صا حب نے مجھے ملتان سے لاہور بلایا۔ روزنامہ آفتاب کو وہ نئی آب و تاب کے ساتھ شائع کرنا چاہتے تھے۔ یہ اخبار ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت کے ترجمان کے طور پر ایک طرح سے نیا جنم لے رہا تھا۔ لکشمی چوک لاہور میں آفتاب کے دفتر میں ہی میری پہلی بار شوکت اشفاق صاحب سے ملاقات ہوئی تھی جو ایک نوجوان کی حیثیت سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنا کیریئر شروع کر رہے تھے۔ یہ 1990 کا عشرہ تھا جب ملتان سے ” اعلان حق “ کا اجرا ہوا۔ اس کا اجرا سینئر فوٹو گرافرشیخ امین صاحب کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ ان کے ماموں محمد علی انصاری امریکہ میں مقیم تھے جنہیں شیخ صاحب نے اخبار اور ایڈیٹری کے ثمرات سے اسی طرح آگاہ کیا جیسے فی زمانہ بعض لوگ چینل والوں کو اخبار اور اخبار کے ثمرات سے آگاہ کرکے اخبار شروع کراکے خود ایڈیٹربن جاتے ہیں۔ لیکن شیخ امین خود اس اخبار کے ایڈیٹر نہ بنے اور اس کے لئے انہوں نے نام ور صحافی اقبال ساغر صدیقی کی خدمات حاصل کیں۔
اخبار کا پہلا شمارہ 14 اگست 1990 کو منظر عام پر آیا اور یہ پہلا اخبار تھا جہاں ہم نے پہلی بار خوش نویسوں کی بجائے کمپیوٹر پر کمپوزروں کو کام کرتے دیکھا تھا۔ اس اخبار میں امروز سے اکمل فضلی اور نوائے وقت سے عبدالقادر یوسفی صاحب بھی جزوقتی خدمات فراہم کرتے تھے۔ یہیں میں نے محمودچوہدری کے ساتھ پہلی بارکام کیا اوراسی اخبار میں رﺅف مان ایک نوجوان صحافی کی حیثیت سے سب ایڈیٹر کے طورپر میرے پاس آئے اور میں نے انہیں بتایا کہ اچھا صحافی بننے کے لیے سگریٹ نوشی بہت ضروری ہے۔ رﺅف مان جب کوئی خبر یا سرخی بناتے ہوئے مشکل کاشکارہوتے تو میں انہیں اپنا سگریٹ پیش کرتا تھا، بالکل اسی طرح جیسے بعد کے دنوں میں نوائے وقت کے نیوزایڈیٹر عاشق علی فرخ مجھے اپنے سگریٹ پلا کر مجھ سے نواز شریف کے حق میں اخبار کی سرخیاں بنواتے تھے۔
اعلان حق کا دفتر پل شوالہ پر تھا ، اسی اخبار سے مجھے یوسفی صاحب نوائے وقت میں لے گئے تھے جہاں سے مجھے چوتھے اخبار کی بانی ٹیم کا رکن بننے کے لیے اصغر زیدی کے ہمراہ دسمبر 1999 میں روزنامہ نیا دن کی طرف جانا تھا۔ مظہر جاوید ، محسن نواز ، شکیل انجم، ظفر آہیر ، عمران عثمانی ، الیاس دانش ، مظہر حنیف ، گوہر جاوید ، سمیت بہت سے دوست اس اخبار کے اجرا کا حصہ بنے اس اخبار نے ملتان کی صحافت پر دیر پا نقوش چھوڑے۔ عارف معین بلے اس کے ایڈیٹر تھے۔ وہ بھی میری طرح نوائے وقت چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔ نوائے وقت چھوڑنے کے لیے ہمیں باقاعدہ ایڈوانس تنخواہیں دی گئی تھیں اورمجھے یاد ہے کہ میں 20ہزار روپے ایڈوانس لے کرنیا دن اخبار میں گیا تھا اوراس اخبار نے پہلی مرتبہ مجھ سمیت بہت سے کارکنوں کوخوش حال کردیا تھا۔ لیکن یہ اخبار مالکان کے باہمی اختلافات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اسی اخبار سے چوہدری یونس الگ ہو کر نیا دور کے ایڈیٹر بن گئے اور یوں ایک ہی ٹیم دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ چوہدری یونس کے ساتھ عارف معین بلے اوربہت سے دوسرے کارکن بھی” نیا دور“ میں چلے گئے۔
روزنامہ جنگ پانچواں اخبار تھا جس کا پہلا شمارہ شائع کرنے والی ٹیم کا میں بھی حصہ تھا۔ یہ اخبار دو اکتوبر 2002 کو شائع ہوا تھا۔ صادق جعفری اس کے پہلے ایڈیٹر تھے۔ ان کے بعد جمیل چشتی نے یہ منصب سنبھالا۔ 25 نومبر 2015 کو ملتان سے روزنامہ دنیا کا اجرا ہوا تو اس کا پہلا شمارہ تیار کرنے کا بھی مجھے موقع ملا۔ امجد بخاری دنیا ملتان کے پہلے ایڈیٹر تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ اس اخبار کا پہلا شمارہ میں تیار کروں۔ سو ان کی خواہش پر چند روز کے لیے میں اس کی تاسیسی ٹیم کا بھی حصہ بنا اور روزنامہ جنگ کی طرح دنیا اخبار کا پہلا میگزین بھی مجھے ہی تیارکرنے کاموقع ملا ۔ بعد کے دنوں میں کچھ عرصہ تک میں اس کے میگزین کے صفحات بھی تیارکرتارہا لیکن پھر مجھے محسوس ہوا کہ ادارے کو اپنے اجرا کے موقع پر صرف ایک بڑے نام کی ضرورت تھی اورنام بھی وہ جو اعتماد کی علامت ہو۔ مجھے مارکیٹنگ اورشعبہ اشتہارات سے وابستہ ایک سینئرکارکن مجاہد صاحب نے کئی برسوں بعد بتایا کہ جب وہ نیا دن کے پہلے شمارے کے لیے اشتہارات لینے کے لیے جاتے تھے تو اشتہاری پارٹیوں کی جانب سے یہ سوال بھی پوچھا جاتا تھا کہ کیا اس اخبار کی ٹیم میں رضی الدین رضی شامل ہیں ؟ اورجب وہ بتاتے تھے کہ جی وہ اسی ٹیم کا حصہ ہیں تو انہیں اشتہارلینے میں آسانی ہوجاتی تھی۔ بعد کے دنوں میں جب یہ کام نکل گیا اوراخبار کی اشاعت معمول پر آگئی تو اس اخبار کے لیے ہم بھی غیر ضروری ہوگئے۔ اگرچہ ہماری وہاں کوئی تنخواہ مقرر نہیں تھی اور ہم اعزازی طورپرہی اپنے شوق کی خاطر اور پرانی دوستی کے ناتے یہ خدمات انجام دے رہے تھے لیکن پھربھی اصل چیز عزت نفس ہوتی ہے ۔ جب ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارے قریبی دوست امجد بخاری اب ہمیں دوست کی بجائے ایڈیٹر کی حیثیت سے ملتے ہیں تو ہم نے اس اخبار کوبھی ایسا خیرباد کہا کہ بعدازاں کسی سے ملاقات کے لیے وہاں جانے کوجی نہ چاہا۔
قارئین محترم آج میں یہ ساری کہانی بیان کررہا ہوں تو سوچ رہا ہوں کہ کیسے اتنے بڑے بڑے اخبارات اب اپنا کام سمیٹ رہے ہیں ۔ چھاپہ خانے فروخت کیے جارہے ہیں۔ عملے کی چھانٹی ہوگئی ہے۔ کچھ اخبار پرنٹنگ اسٹیشن تک محدود ہوگئے۔ اوربہت سے اسٹیشنوں سے شائع ہونے والے بعض اخباروں نے اخراجات کم کرنے کے لیے ایک ایک کرکے بہت سے اسٹیشن بند کردیے اور آج جب میں نے روزنامہ دنیا کی کہانی پر اپنی کتاب کے اس پیش لفظ کو سمیٹ رہا ہوں تو عملی صورت یہ ہے کہ روزنامہ دنیا ملتان بھی اپنا پرنٹنگ پریس بند کرنے جارہاہے۔ ملتان اسٹیشن پر عملہ پہلے ہی بہت کم ہے ۔ یہاں چند لوگوں سے کام چلالیا جائے گا۔
جہاں پاکستان کا سب سے بڑا اخبار روزنامہ جنگ چھے صفحات پر آچکا ہو وہاں باقی اخبارات کا کیا مستقبل ہوگا یہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اخبارات کو چونکہ اب صحافیوں کی اور ایڈیٹروں کی ضرورت نہیں رہی اس لیے قارئین کے لیے بھی اب اخبار بے مصرف ہو چکے ہیں۔ ( زیر طبع کتاب کا پیش لفظ )