ترک پارلیمنٹ کے قریب دھماکا، 2 پولیس اہلکار زخمی
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں پارلیمنٹ کے قریب ہونے والے دہشت گرد حملے میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں ’رائٹرز اور اے ایف پی‘ کی رپورٹس کے مطابق ترک وزارت داخلہ نے دہشت گرد حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے قریب ہونے والا دھماکا ایک دہشت گرد حملہ تھا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ترک دارالحکومت انقرہ میں پارلیمنٹ اور وزارتی عمارتوں کے قریب دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔
ترک میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں جب کہ ایمرجنسی سروسز جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں، نشریاتی اداروں نے وزارت داخلہ کی عمارت کے قریب سڑک پر بکھرے ملبے کی فوٹیج نشر کی۔ 2016 کے بعد انقرہ میں ہونے والا یہ پہلا دھماکا ہے جو ایسے وقت میں ہوا ہے جب کہ پارلیمنٹ کا نیا سیشن شروع ہونے والا تھا۔
وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دو دہشت گرد فوجی گاڑی میں صبح 9 بج کر 30 منٹ کے قریب وزارت داخلہ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے داخلی دروازے کے سامنے پہنچے اور بم حملہ کیا۔ ایک حملہ آور نے وزارت کی عمارت کے سامنے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور دوسرے حملہ آور کو غیر مؤثر کردیا گیا۔
وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس حملے میں دو پولیس اہلکار بھی معمولی زخمی ہوئے۔ انقرہ کے چیف پراسیکیوٹر نے اس دہشت گرد حملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جب کہ حکام نے حملے کے حوالے سے کسی مخصوص عسکریت پسند گروپ کے ملوث ہونے کی نشاندہی نہیں کی۔
ترک میڈیا کے مطابق دھماکا ترک پارلیمنٹ کے قریب ہوا جسے چند گھنٹے بعد آج صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرنا تھا۔ اس کے دوران نیٹو اتحاد میں سویڈن کی شمولیت کی توثیق کا معاملہ پیش ہونا تھا۔