انڈیا کینیڈا تلخی اور خالصتان کا مسئلہ (2)
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 01 / اکتوبر / 2023
انڈیا اور کینیڈا کی حالیہ تلخی کو سمجھنے کے لیے ایک طائرانہ نظر خالصتانی تحریک پر ڈال لینی چاہیے جو تحریک پاکستان جتنی ہی پرانی ہے بلکہ اس سے بھی پہلے سکھ گرو مغلوں کے خلاف اکثر اٹھتے یا الجھتے رہے ہیں اور اذیتیں سہتے رہے ہیں۔
سکھ پنتھ کے پانچویں گرو ارجن دیو جی مہاراج جنہوں نے ہرمندر صاحب گولڈن ٹمپل کی تعمیر کی تھی کیونکہ اس کا آغازتو چوتھے گرو رامداس جی نے کیا تھا۔ گرو ارجن دیوجی کو بعمر محض 43 سال 30 مئی 1606 کو لاہور میں مغل بادشاہ جہانگیر نے سزائے موت دیتے ہوئے ان کا سر قلم کروا دیا تھا۔ اسی طرح نویں گرو تیغ بہادر مہاراج جن کی جدوجہد زندگی بھرپور رہی۔ ان کی عمر 54 برس تھی جب 24 مئی 1675 کو دہلی کے چاندنی چوک میں اورنگزیب عالمگیر کے حکم پر ان کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ انہیں بہت اذیتیں پہنچائی گئیں، مذہب بدلنے کا بھی کہا گیا مگر ان کی پامردی میں لغزش نہ آئی۔ چھٹے گرو ہرگوبند جی مہاراج نے گولڈن ٹیمپل کے سامنے اکال تخت تعمیر کروایا جس کی نشست مغلیہ دہلی تخت سے ڈھائی فٹ اونچی رکھی۔
دسویں گرو گوبند سنگھ صاحب مہاراج نے تخت سری پٹنہ، تخت سری دمدمہ اور تخت سری حضور تعمیر کرائے۔ انہی کے دور میں خالصتانی یا جہادی اپروچ زیادہ ابھری۔ یہ امر بھی واضح رہے کہ سکھ مت میں ’راج کرے گا خالصہ‘ کا نعرہ ہمیشہ اہم گردانا جاتا رہا جس کا نفسیاتی اثر یہ ہوا کہ ما بعد آنے والے سکھوں میں باوجود نئے آئینی و جمہوری ادوار یا تقاضوں سے روشنی لینے کے راج یعنی اقتدار کی کسک کم نہ ہو سکی۔ ہندو کی نسبت سکھوں میں اقتدار یا بادشاہی کی حسرت مسلمانوں جتنی ہی پائی جاتی رہی۔ ننکانہ صاحب میں آج بھی ہم بادشاہی کے یہ سمبلز ملاحظہ کر سکتے ہیں، چھٹی بادشاہی ساتویں بادشاہی دسویں بادشاہی وغیرہ۔
1940 میں جب جناح نے قرارداد لاہور منظور کروائی تو اس کے فوری بعد لاہور ہی میں ایک سکھ رہنما ڈاکٹر ویر سنگھ بھٹی نے خالصتان کے نام سے پمفلٹ تحریر کیا۔ یہ تو ماسٹر تارا سنگھ میں ایک نو کی سیاسی سوجھ بوجھ آگئی تھی جو انہوں نے بدلتے تقاضوں میں پنجاب اسمبلی کے سامنے کرپان لہراتے ہوئے کہا کہ ہم دیس کا بٹوارہ نہیں ہونے دیں گے۔ دراصل پنڈی میں ماسٹر تارا سنگھ کی ماں کو جس بے دردی سے گھر کو آگ لگاتے ہوئے مسلم فسادیوں نے زندہ جلا ڈالا تھا، شاید یہ اسی کا اثر تھا کہ جب جناح نے انہیں کورے یا خالی کاغذ پر دستخط کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کروانی چاہی کہ جو شرائط آپ لوگ مناسب سمجھتے ہیں، وہ لکھ لیں لیکن انہوں نے اعتماد و اعتبار نہیں کیا۔ شاید یہ سمجھتے ہوئے کہ کل کو یہ تمام سبز باغ سراب ثابت ہوں گے یا یہ کہ مسلم مغلیہ دور حکمرانی میں ان کے گرو صاحبان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا، سکھ کمیونٹی وہ کبھی نہیں بھول پائی۔
47 کی پارٹیشن میں بھی سکھوں پر ہندوؤں نے کوئی ظلم نہیں کیا، بربادی ڈھانے میں پیش پیش مسلم ہی تھے یا پھر سکھ۔ اس حوالے سے تحقیقی جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ مظالم ڈھانے میں زیادہ دلیر جنگجو یا بڑے جہادی ان دونوں یعنی مسلمانوں اور سکھوں میں سے کون تھے؟ البتہ آپریشن بلیو سٹار کو ہندو کے حوالے سے ضرور پیش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو بنیادی طور پر پالا پوسا بھی تو اکالی دل کے بالمقابل خود کانگرسی قیادت یعنی گیانی ذیل سنگھ اور شریمتی اندرا گاندھی نے ہی تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ پاکستان نے طالبان کو پالا اور وہ اُسی سے محاذ آرا ہوگئے۔ آپریشن بلیو سٹار میں ہلاکتیں 493 ہوئی تھیں یا اس سے زیادہ جیسے کہ خالصتانیوں کا دعویٰ ہے کہ 3 ہزار، اس میں کس کی کیا کوتاہی تھی؟ اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور کیا خون خرابے کے بغیر سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ سے مکتی حاصل نہیں کی جا سکتی تھی ؟
جو بھی ہوا مناسب حکمت عملی اختیار نہ کی گئی جس کے کارن آپریشن کرنے والوں کا بھی اچھا خاصا جانی نقصان ہوا۔ اور پھر اپنے باڈی گارڈز کے ہاتھوں جس طرح شریمتی اندرا گاندھی جی کو مارا گیا اور رد عمل میں چار ہزار یا آٹھ ہزار سکھوں کی جانیں گئیں، یہ سب افسوسناک واقعات ہیں اور شاید موجودہ منافرتوں میں ان غلطیوں یا کوتاہیوں کا بھی رول ہے۔ کئی سانحات منافرتوں میں ڈھل کر نسلوں تک جاتے ہیں۔ بھنڈرانوالا ایک طرف تو یہ کہہ رہا تھا کہ اگر دربار صاحب پر حملہ ہوا تو یہ خالصتان کی بنیاد رکھ دے گا، دوسری طرف اس نے مذہب کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے گولڈن ٹیمپل کا سہارا لے کر ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی تھی۔ جس کا لازمی وبدیہی نتیجہ آپریشن کی صورت میں ہی نکلنا تھا۔ بھنڈرانوالہ جس طرح چن چن کر لوگوں کو مروا رہا تھا کیا کوئی خالصتانی اُسے آج بھی جسٹیفائی کرسکتا ہے؟ اس سے پہلے اکالی دل کے سمرن جیت سنگھ مان اور خالصہ دل کا رول بھی ملاحظہ کیاجاسکتا ہے۔ چرن سنگھ پنجی اور ڈاکٹر جگجیت سنگھ چوہان نے بھی ستر اور اسی کی دہائیوں میں اودھم مچارکھا تھا۔ اس طرح ایک ہوتے تھے سردار گنگا سنگھ ڈھلوں، ان سے تو ایک مرتبہ درویش کی ملاقات بھی ہوئی تھی جو اکثر پاکستان کے دورے پر آتے رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو جگجیت سنگھ چوہان کی طرح خالصتان کا خیالی لیڈر خیال کرتے تھے۔ انہی منافرت بھرے نعروں میں 1981 سے لے کر 1993 تک 1470انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور یہ بھی خالصتانی تحریک کا ہی نتیجہ تھا کہ 23 جون 1985 کو کینیڈا کے شہر مونٹریال سے ممبئی کے لیے ایئر انڈیا کی فلائٹ کو ٹائم بم کے ذریعے ائرلینڈ کی فضا میں اڑا دیا گیا تھا، جس میں 329 بے گناہ مسافر اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے تھے۔ ایم سنگھ اور ایل سنگھ کے حوالے سے تمام کوائف سامنے آ گئےتھے ۔
سچ تو یہ ہے کہ سکھ بھائیوں کے اندر خالصتانی جوت جگانے میں ہم پاکستانیوں کا بھی اچھا خاصا رول ہے۔ بطور صحافی بھی اور سرکاری بھی درویش نے اپنے پورے کیریئر میں اس حرکت کو اچھی طرح ملاحظہ کیا ہے یہ 2011 کی بات ہے کچھ مدت کے لیے درویش کی ڈیوٹی یا تعیناتی ننکانہ صاحب میں ہوئی۔ اس دوران عید بھی تھی اور بابا گرو نانک دیو جی مہاراج کے جنم کی مناسبت سے جو سالانہ میلہ لگتا ہے وہ بھی آگیا۔ سرکاری طور پر کچھ خصوصی ذمہ داریاں بھی درویش کو سونپی گئیں یاتریوں کا استقبال کرنا، ان کی سہولت کاری میں معاملات وغیرہ۔ انڈیا سے تشریف لائے ہوئے سکھ تو پھر بھی ذرا نرم رویہ اپناتے لیکن بیرونی ممالک بالخصوص کینیڈا سے آئے ہوئے سکھ گویا خصوصی حیثیت کے حاملین ہوتے۔ ان سے تبادلہ خیال کے مواقع بھی ملے اور بعد ازاں ایک مرتبہ آصف ہاشمی کے ساتھ اور ایک مرتبہ مقامی سکھ گرنتھیوں کے ہمراہ گردوارہ جنم استھان میں دو دفعہ تقریر کرنے کے مواقع بھی میسر آئے۔ اور جی بھر کر باتیں بھی ہوئیں۔ سکھ دوستوں کی طرف سے تلوار اور سروپے کے تحائف بھی ملے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کینیڈا والے سکھ یہ سمجھتے تھے کہ شاید ہم سارے پاکستانی خالصتانی تحریک کے حمایتی ہیں جبکہ درویش کو اس سے ہمیشہ چبھن اور تکلیف رہی۔ اس سلسلے میں ان خالصتانی ذہن کے سکھوں سے بحث مباحثے بھی ہوئے۔ کنیڈین سکھ خاصے امیر تھے جنہوں نے بابا نانک کے سیوک کی حیثیت سے اپنے پاس آنے کی دعوتیں بھی دیں۔ اپنے کارڈز بھی مہیا کیے۔ اسی طرح سندھ سے آئے ہوئے بہت سے نوجوان بڑے اچھے لگے جن میں سے کچھ کے ساتھ اب تک دوستی چل رہی ہے۔ حیرت ہوئی کہ یہ داڑھی مونچھ کے بغیر سکھ ہیں یا ہندو یا دونوں کا ملغوبہ۔ اس پر بڑی دلچسپ سٹوریاں سامنے آئیں جو کسی وقت تحریر کی جائیں گی ۔فی الحال اصل موضوع پر آتے ہیں۔ (جاری ہے)