عوامی مظاہرے اور آزاد کشمیر حکومت کی غیر ذمہ داری
- تحریر اطہر مسعود وانی
- اتوار 01 / اکتوبر / 2023
آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں ہفتہ30ستمبر کو بڑے عوامی احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں بجلی بلات میں گراں اضافے کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر کے اندران، گرفتاریوں کی مذمت کی گئی۔
مظفر آباد میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا جس میں پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور مظاہرین کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا۔ اس سے ایک دن پہلے پولیس نے مختلف شہروں میں احتجاجی دھرنوں کے مقامات پہ چھاپے مارتے ہوئے وہاں سے سامان بھی ضبط کیا۔ حکومت کا مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے یا نمائندگان سے بات چیت کے بجائے ان کے خلاف پولیس ایکشن کا اقدام غیر مناسب اور حالات خراب کرنے کی کوشش ہے۔
مظفر آباد پولیس نے28ستمبر کو 31افراد و دیگر کے خلاف ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ ان افراد نے دھرنا کیمپ سے باہر آکر روڈ پر ہنگامہ آرائی اور بلوہ کا اشتعال دلایا ہے، اس پر ان کے خلاف کئی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تراڑ کھل پولیس نے28ستمبر کو ہی 10سے زائد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے بجلی کے بلوں کو نذر آتش کیا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرکے لوگوں کو اشتعال دلایا، سرکاری دستاویزات جلا کر گورنمنٹ کا نقصان کیا۔ سہنسہ پولیس نے28ستمبر کو ہی تقریباً 10افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے لکھا کہ ان افراد نے180/200بجلی کے بل جلائے اور اس طرح ملزمان مجمع خلاف قانون کر کے نقصان رسانی کے مرتکب ہوئے اور تقریباً 4لاکھ روپے کے لگ بھگ بل بجلی جلاتے/ضائع کئے۔
بلوچ پولیس نے بھی28ستمبر کو8سے زائد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے لکھا کہ ان افرادنے سٹرک احتجاجاً بند رکھی اور دیگر موجود لوگوں کو سازش مجرمانہ کے تحت استعمال کرتے ہوئے بجلی کے بل جو سرکاری دستاویز ہے، کو نذر آتش کیا اور سرکار ی دستاویز جو کہ گورنمنٹ کی ملکیت ہے، کا نقصان کیا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ اپلوڈ کرکے اشتعال دلایا۔ اطلاعات کے مطابق دیگر شہروں میں بھی متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج اور متعدد گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ آزاد کشمیر میں عوامی احتجاجی مظاہروں کی صورتحال ہر عنوان سے نہایت تشویشناک ہے۔ یہ مظاہر کچھ عرصہ قبل رعائیتی قیمت پہ آٹے کی معقول فراہمی نہ ہونے، رعائیتی قیمت کے آٹے کے ناقص معیار اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف شروع ہوئی تھی۔ بجلی کے بلوں میں گراں اضافے کے خلاف عوامی مظاہرے تیز ہو چکے ہیں اور ان مظاہروں میں بغیر کسی سیاسی جماعت کی ترغیب کے شہری اپنے طور پر شرکت کر رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے چند افراد کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج اور گرفتاریوں سے صورتحال خراب ہوئی ہے اور اس سے احتجاجی مظاہروں کے لئے مزید قوت /محرک فراہم ہو اہے۔
اس معاملے میں وزیر اعظم آزاد کشمیرکی نااہلی نمایاں طور پرسامنے آئی ہے اور ان کی طرف سے مسئلے کو حل کرنے، عوامی تشویش دور کرنے کے لئے موثر اقدامات، سیاسی طریقہ کار اپنانے میں قطعی عدم دلچسپی اور غیر ذمہ داری واضح ہوتی ہے۔ وزیر اعظم اس سنگین معاملے میں سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے، حکومتی سطح پہ عوامی تشویش دور کرنے کے حوالے سے موثر اقدامات میں ناکام نظر آئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کسی بھی سیاسی جماعت سے مبرا، نرگسیت کے شکار نااہل، غیر ذمہ دار شخص کے طورپر وزیر اعظم نے آزاد کشمیر کے حالات خراب سے خراب تر ہی کئے ہیں۔ وزیر اعظم کے نااہل کردار کے ساتھ آزاد کشمیر حکومت اس معاملے میں کوئی حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت مسائل کیا حل کرائے گی، یہ حکومت بذات خود ایک بڑے مسئلہ بن چکی ہے۔
یہ کہنا بھی بے جا نہیں کہ آزاد کشمیر میں غیر جماعتی وزیر اعظم کا تجربہ فیل ہوچکا ہے۔ اس صورتحال میں اس حقیقت کا ایک بار پھر اعادہ ہوا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں خطے اور عوامی مسائل کے حوالے سے بے عملی کا شکار ہیں، غیر موثر ہوتے نظر آ رہی ہیں۔ ناتوانی، عدم دلچسپی کا شکا رہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے غیر اعلانیہ طور پر یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہم سے صرف حکومت بنوا لو، ہمیں وزیر، مشیر بنا دو، باقی علاقے کے مسائل کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ کشمیر کاز ہو یا مقامی سطح کے امور، ہم صرف بیانات ہی دیتے رہیں گے۔
یہ اشد ضروری ہے کہ موجودہ عوامی احتجاجی تحریک کو ختم کرنے کے لئے خاص طور پر بجلی کے بلوں میں اضافہ ختم کرنے، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے اور آٹے کے مسئلے فوری طور پر حل کئے جائیں۔ گرفتار افراد کی رہائی اور ایف آئی آرز کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ تمام مطالبات سے متعلق، مظاہرین کے نمائندگان کے وفد سے آزاد کشمیر حکومت کی اعلی سطحی مجاز کمیٹی کی فیصلہ کن بات چیت کا اہتمام کیا جائے جس میں چیف سیکرٹری و دیگر شامل ہوں۔ ان مذاکرات میں اگر آزاد کشمیر کے بڑے سیاسی رہنماؤں، جیسے شاہ غلام قادر، چودھری محمد یاسین، راجہ فاروق حیدر چودھری لطیف اکبر اور چند دیگر بھی شامل ہوں تو اس سے مذاکرات کو کامیاب بنانے اور معاملات طے کرانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔