نگاہِ مرد مومن اور پوپ

علامہ اقبال نے تو نگاہ مردِ مومن سے یہی اُمید باندھی تھی کہ ’بدل جاتی ہیں تقدیریں‘۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے بھی ایسی ہی ارفع توقعات وابستہ کی جارہی ہیں۔ بس ان کے لئےخیر کی دعا ہے۔

وکلا کی تنظیموں کے عہدیداران سے ملاقات کے دوران ہمارے دیرینہ حریت پسند ساتھی عابد ساقی ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس سے سوال کیا کہ وہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف کی گئی اپیلوں کو کب سماعت کیلئے مقرر کررہے ہیں تو جسٹس فائز عیسیٰ نے ازراہ تفنن جواب دیا کہ اگر نہ مقرر کروں تو آپ میرے خلاف کیا دھرنا دیں گے۔ عابد ساقی کا برجستہ جواب تھا کہ ’ضرور دھرنا دوں گا‘۔ قاضی صاحب کی حمیت ایسی جاگی کہ انہوں نے بلا ہچکچاہٹ چار سال بعد اپیلوں کی سماعت کا فیصلہ کرلیا۔ سب اپیل کنندگان کو نوٹس بھیج دیے گئے۔ پھر کیا تھا، نگاہ مرد مومن کام کرگئی اور سارے اپیل کنندگان ڈھیر ہوگئے۔

وزارت دفاع (جس میں تمام افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں شامل ہیں) سمیت تمام اداروں بشمول الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وزارت داخلہ نے کان پکڑلئے۔ سب سے مضحکہ خیز قلابازی تحریک انصاف پاکستان نے لی جو فیض آباد کے دھرنا فیلوز کی حمایت میں اپیل کنندہ بنی تھی۔ اب حالات بدلنے پہ اُن تمام اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہتی ہے جن کی گوشمالی کی پاداش میں وہ اب خود کٹہرے میں ہے۔ اپیل کنندگان اپنی اپیلوں کی واپسی کیلئے گھگھیا کے رہ گئے۔ یہی میزان کی گھڑی تھی۔ چیف جسٹس نے یہ منافقانہ استدعا خاطر میں نہ لاتے ہوئے 27 اکتوبر تک ان سے تفصیلی جوابات طلب کرلئےہیں اور یکم نومبر کو ممکنہ طور پر قوم یوم حساب ٹیلی وژن پہ دیکھے گی۔ واہ! کیا دن ہوگا کوئی اور!

چیف جسٹس نے بہت ہی بنیادی اور تیکھے سوال اُٹھائے ہیں کہ فیصلے پہ کیوں اور کس کے کہنے پہ انگلیاں اُٹھائیں اور اب کیوں اور کس کے کہنے پہ اپیلیں واپس لی جارہی ہیں۔ اب سب نے فیصلے کی سچائی تسلیم کرلی ہے تو ہم پاس ہوگئے ہیں، اب ان کی باری ہے جنہوں نے فیصلے پہ عمل نہیں کیا۔ یہ بھی پوچھا کہ چار برس سے اپیلیں کیوں مقرر نہ کی گئیں اور وہ کون ہے جو خدا کے علاوہ پاکستان کا نظام ہستی چلارہا ہے؟ (آرکسٹرا کا کوآرڈینیٹر) ۔ یہ بھی کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے اور ٹھوس احکامات پر اگر عمل ہوجاتا تو شاید جڑانوالہ میں مسیحی دشمن فسادات نہ ہوتے اور ’ہجوم کے انصاف‘ کا راستہ بند کیا جاسکتا تھا۔ 12 مئی 2007 کو کراچی میں کتنے ہی لوگ مارے گئے تو کیا اُس پر بھی ’مٹی پاؤ‘۔ اگر کوئی شرم ہوتی اور آئین کا احترام ہوتا تو کوئی تو کم از کم ذمہ داری قبول کرتا۔ خود ہی چیف جسٹس نے استفہامیہ انداز میں جواب دیا کہ ’پاکستان میں وہ سب کچھ ہوتا ہے، جو کہیں نہیں ہوتا‘۔ کہتے ہیں ’اوپر سے حکم‘ آیا ہے۔ اور اگر آپ کہتے ہیں کہ نظر انداز کردو یا معاف کردو (مٹی پاؤ) تو وہ بھی لکھ دیں اور یہ بھی لکھ دیں کہ اپیلیں کیوں واپس لے رہے ہیں۔ اور یہ کہ ’احتساب ہوگا، ہمارا بھی‘ (اور آپ کا بھی)

آخر فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں کیا تھا جو مملکت خداداد کے ناخدائوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہے۔ 43 صفحات پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ اور تقریباً 5 صفحات پر مشتمل ٹھوس نتائج اور احکامات ، فیصلے کے نکتے 53 میں 17 احکامات کی صورت میں دیے گئے ہیں، پر اگر صدق دل سے عمل کیا جائے تو پاکستان کی آئینی جمہوریہ کو درپیش بڑے چیلنجز کا حل نکل سکتا ہے۔ فیصلے میں پاکستان کی تاریخ کے حالیہ بڑے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جن میں اصغر خان کیس ، 14 مئی کو کراچی میں خونریزی، 2014 کے  پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک پی ٹی آئی

کے دھرنے اور فیض آباد کے پل پہ تحریک لبیک کے دھرنے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جتھوں اور ’ہجوم‘ کی وحشت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق پہ تفصیلی رائے دی گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر سیاسی امور میں افواج اور اس کی ایجنسیوں کی مداخلت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُنہیں آئین میں دیے گئے افواج کے حلف اور آئینی منشا کے خلاف قرار دیتے ہوئے، اُس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔

دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کو ریگولیٹ کرنے والے قوانین کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے دائرہ کار اور سرگرمیوں کی نگرانی کا کوئی واضح قانون یا ضابطہ ہے کہ نہیں۔ فیصلے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے کہ یہ دوسروں یا عوام کے حقوق کی پامالی کا باعث نہ ہو۔ الیکشن کمیشن کو بااختیار قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے حوالے سے دیے گئے معاملات پہ عمل درآمد کرائے جس میں ان کی فنڈنگ بھی شامل ہے۔ ریاست کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ شہریوں کا تحفظ نہیں کرے گی تو پھر 12 مئی جیسے خونی واقعات جنم لیتے ہیں۔ ایسے فتوے جو دوسروں کو مصیبت سے دوچار کرتے ہیں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ میڈیا پر بندشوں کانوٹس لیتے ہوئے پیمرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کیبل آپریٹرز کے خلاف کارروائی کرے یا پھر ان اداروں کو کہے جو بے جا مداخلت کرتے ہیں۔ تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہ کریں (مینڈیٹ؟) اور انہیں حق اظہار کو روکنے یا میڈیا میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔

آخر میں تمام افواج کو انتباہ کیا گیا ہے کہ آئین ان کی کسی طرح کی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہونے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ وزارت دفاع اور افواج کے سربراہوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ان ماتحتوں کے خلاف کارروائی کریں جو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث پائے گئے جن میں کسی سیاسی جماعت کی مخالفت بھی شامل ہے۔ حکومتوں سے کہا گیا کہ وہ دہشت گردی اور نفرت انگیزی پھیلانے والوں کا سدباب کریں۔ گویا فیض آباد دھرنے کا فیصلہ موجودہ گیریژن اسٹیٹ کو ایک جمہوری اور آئینی طور پر جوابدہ ریاست بنانے اور اداروں کو غیر سیاسی رکھنے کا تقاضہ کرتا ہے۔

فیصلے کے چار برس بعد بھی ’ریاست‘ اسی غیر آئینی چال پر چل رہی ہے اور دن بدن آئینی طرز عمل سے دور ہوتی جارہی ہے۔ اب جب اٹارنی جنرل نے وفاق کی طرف سے فیصلے پر ایک ماہ میں عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے تو کیا چیف جسٹس مٹی ڈالیں گے یا پھر ریاست اور اس کے تحت حکومتی اداروں کو آئین و قانون کی عملداری کرنے اور اپنے حلف کی پاسداری پہ راضی کرنے پہ آمادہ کرلیں گے؟

میرے خیال میں افراد کی بجائے واضح اداراتی اصلاحات کے احکامات کی ضرورت ہوگی۔ شاید اس کیلئے ٹرپل فائیو بریگیڈ کی کمان چیف جسٹس کو دینی پڑے۔ دوسری جنگ عظیم میں چرچل نے روز ویلیٹ سے کہا کہ کیوں نہ ہم پوپ کو ’گروپ آف فور‘ میں شامل کرلیں۔ اس پر اسٹالین نے پوچھا کہ اس کے پاس کتنے بریگیڈ فوج ہے؟

نگاہ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں؟

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)