انڈیا کینیڈا تلخی اور خالصتان کا مسئلہ (3)
- تحریر افضال ریحان
- سوموار 02 / اکتوبر / 2023
انگریز سرکار تو غیر ملکی قابض حکومت تھی جس کا موٹو ہی ڈیوائیڈ اینڈ رول تھا، شاید اسی لیے 1925 میں سکھ گردوارہ ایکٹ جاری کیا گیا تھا جس میں سکھوں کو ہندوؤں سے الگ یا جداگانہ مذہب بنانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن پارٹیشن کے بعد جب انگریز چلے گئے تو یہ ذمہ داری شاید ہم لوگوں نے سنبھال لی۔
سکھوں کے مقامات مقدسہ چونکہ ادھر پاکستان میں کافی زیادہ ہیں۔ ایک سردارجی آیا کرتے تھے جو کہا کرتے تھے کہ ہمارا مکہ اور مدینہ تو آپ کے پاکستان میں ہے۔ اس لیے ہم آپ سے بڑی
محبت رکھتے ہیں۔
پاکستانی حکمرانوں میں سب سے بڑھ کر ذوالفقار علی بھٹو اور پھر جنرل ضیا الحق ان دونوں نے سکھوں کو الگ طور پر اٹھانے اور خالصتانی ایشو بھڑکانے میں اچھا خاصا بھرپور رول ادا کیا تھا۔ بھٹو نے تو ننکانہ صاحب کو کیپیٹل بنانے جیسی بے سروپا باتیں بھی کیں۔ درویش کو یاد پڑتا ہے کہ 90 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں جب وہ نیا نیا صحافتی میدان میں آیا تو ہمارے دفتر میں خالصتانی بھی آیا کرتے تھے۔ مولانا عبدالقادر آزاد جو بادشاہی مسجد کے خطیب تھے، ان کے ساتھ بھی کچھ لوگوں کو ملنے اور دیکھنے سننے کا موقع ملا۔ ایک دفعہ ایسے احباب کے ساتھ جن میں سردار گنگا سنگھ ڈھلوں بھی تھے کوئی اس نوع کا معاہدہ بھی ہوا تھا کہ مذہبی طور پر خدائی وحدت کے حوالے سے مسلمانوں اور سکھوں کو قریب لایا جائے۔ تب اتنی زیادہ سمجھ نہیں تھی کہ پسِ پشت اس کے مقاصد کیا ہیں۔ البتہ بعد میں خوب سمجھ آئی، تلاش کروں گا تو اس معاہدے کی کاپی بھی مل جائے گی جو ہمارے میگزین میں شائع بھی ہوا تھا ۔ اس طرح جب
کرتارپور دربار صاحب کی تعمیر نو ہوئی اس کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوا۔ وہاں عمران خان کے علاوہ انڈیا سے سابق کرکٹر اور موجودہ سیاسی لیڈر سدھو جی بھی آئے ہوئے تھے۔ دھرمندر کا بیٹا سنی دیول اور سابق وزیراعظم انڈیا ڈاکٹر منموہن سنگھ جی بھی تشریف لائے تھے۔ یورپ ، کینیڈااور آسٹریلیا سے آئے سکھوں سے بات چیت کے مواقع بھی میسر آئے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے یہ سارا بندوبست خالصتانی ذہنیت کو پروان چڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری ایجنسیوں کا رول افسوسناک رہا ہے، جسے آج بھی کرتارپور دربار میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ مجال ہے جو عام لوگوں کو باہم بات چیت کرنے دی جائے۔ جب بھی کوئی لوگ ، انڈیا سے آئے اور پاکستانی لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو بیچ میں کوئی نہ کوئی ایسا فرد آجائے گا اور وہ ایسے لگے گا کہ جیسے یہ معمول کا ملنا بھی کوئی جرم ہو نے جارہا ہے۔
ضیاالحق کے دور میں چوہدری ظہور الٰہی بھی خالصتانی ذہن کو بڑھاوا دینے میں پیش پیش تھے۔ محترمہ بے نظیر سے درویش کو ہمیشہ اپنائیت اس وجہ سے رہی کہ انہوں نے اپنی پہلی حکومت کے دوران جب شریمتی اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد راجیوگاندھی کے لیے ایک نوع کی ہمدردی پائی جاتی تھی۔ کیونکہ پرائم منسٹر اندرا گاندھی کی افسوس ناک ہلاکت کو تب زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ بے نظیر نے خالصتانی تحریک کے خلاف اپنے والد کی منفی ذہنیت کے قطعی برعکس رویہ اپناتے ہوئے راجیو گاندھی سے پورا تعاون کیا تھا۔ اتنک وادیوں کی فہرستیں انہیں فراہم کرتے ہوئے انہوں نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا تھا کہ جب انڈیا کے ٹکڑے ہونے والے تھے، ہم نے راجیو گاندھی کی مدد کی تھی۔
اور یہ راجیو گاندھی ہی تھے جو کھلے بندوں کہا کرتے تھے کہ سکھ پنتھ کی پوری ہسٹری میں صرف ایک مرتبہ انہیں اقتدار نصیب ہوا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت و رہنمائی میں مگر اس کی راج دھانی امرتسر نہیں لاہور میں تھی۔ یہ کہتے ہوئے وہ خالصتانی سوچ رکھنے والوں کو جہاں انڈیا کی بجائے پاکستان کی طرف متوجہ کر رہے ہوتے، وہیں پاکستان کو بھی یہ وارننگ دے رہے ہوتے کہ آپ لوگ اس کھیل سے باز آ جائیں، کل کو اگر یہ آگ مزید بڑھ گئی تو آپ لوگ خود بھی اس میں جلیں گے۔ اوریہ حقیقت ہے کہ خالصتانی چنگاری کل کو انڈیا سے زیادہ پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
درویش نے ننکانہ صاحب میں اکثر خالصتانی ذہنیت والوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ آپ لوگ جس خالصتانی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں، آپ لوگوں کے سامنے اس کا نقشہ کیا ہے؟ اگر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت آپ کے سامنے ایک ماڈل کی طرح ہے تو پھر اس میں ہندوستان سے زیادہ پاکستان کے علاقے آتے ہیں۔ اس پر وہ شاید اپنے اندر کی بات زبان پر لانے سے گریز کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری آبادی چونکہ بھارتی پنجاب میں ہے، اس لیے خالصتان وہیں قائم ہوگا جہاں سکھ آباد ہیں۔ ہم پاکستان پر ایسی نظر نہیں ڈالیں گے لیکن درویش کا جواب ہوتا کہ کل کو خالصتان کی ساری ٹسل بالاخر پاکستان سے ہی ہونی ہے۔ کیونکہ سکھ لاہور میں اپنی راجدھانی کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ ان سے بحث میں کئی مرتبہ یہ بات بھی ہوئی کہ آپ لوگ یہ بھی سوچیں کہ ہم پاکستانیوں نے مذہب کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے اگر انڈیا کو توڑ کر پاکستان حاصل کیا ہے تو ہمیں اس کا فائدہ کیا پہنچا ہے ؟ سوائے اس کے کہ یہاں جمہوریت کی بجائے طاقتوروں کی حکمرانی ہے۔ دوسرے یہاں مذہبی جنونیت کو شدید بڑھاوا ملا ہے۔ دیگر مذاہب والوں یا مذہبی اقلیتوں کا جینا ہم لوگوں نے حرام بنا رکھا ہے۔ آج پاکستان کے غریب عوام کو جتنے مسائل درپیش ہیں کیا ویسے ہی مسائل آپ لوگوں کو بھی پیش نہیں آئیں گے؟
انڈیا میں آپ لوگوں کو اچھی خاصی عزت و اہمیت حاصل ہے۔ گیانی ذیل سنگھ وہاں پورے ہندوستان کے صدر بنے اور ڈاکٹر منموہن سنگھ اتنی مدت وزیراعظم انڈیا رہے۔ جبکہ سکھوں کی آبادی تو کل انڈین آبادی کا محض دو فیصد ہے، جبکہ کئی آرمی چیف بھی سکھ رہے۔ پنجاب میں بھی پوری حکمرانی آپ لوگوں کے اپنے پاس ہے۔ خالصتان کے ذریعے جو کچھ آپ سوچتے ہیں وہ محض خام خیالی ہے۔ آپ کو اس سے کہیں بہتر حیثیت آج ملی ہوئی ہے جس کا آپ سوچتے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ کاش ہم لوگ بھی الگ نہ ہوتے تو آج بہتر حال میں ہوتے۔ اس پر ان کے جو دلائل ہوتے ہیں وہ آئندہ کسی موقع پر تفصیلاً بیان کیے جائیں گے۔
اس وقت اصل جائزہ اس امر کا لینا مطلوب ہے کہ انڈیا میں موجودہ مودی حکومت جس طرح اس مسئلے کو ڈیل کر رہی ہے اس میں وہ کیا بلنڈر مار رہی ہے؟ اور اس سے انڈیا کو کیا نقصان پہنچے گا ؟ درویش کی نظر میں بی جے پی بالخصوص مودی جی کو انڈیا میں مذہبی تفریق یا جذبات کو زیادہ بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہندو دھرم میں جو وسعت ہے، اسے کام میں لاتے ہوئے وہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑیں نہ کہ توڑیںْ انہوں نے کسانوں پر ٹیکسز کا بوجھ ڈالتے ہوئے جو نئی قانون سازی کی تھی، اس وقت دہلی تک پورے پنجاب میں بھرپور احتجاج ہوا تھا۔ بہت اچھا ہوا جو خدا نے انہیں ہدایت دی اور اپنا وہ فیصلہ واپس لیتے ہوئے انہوں نے کسانوں کی دلجوئی کی۔ انہیں آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تھا۔
انہی دنوں کسان تحریک کے نام پر جو تفریق بھڑکی اس میں امرت پال سنگھ جیسے جنونی لوگوں کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی سیاسی دکان چمکائیں اور خود کو سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ سمجھنے لگیں۔ کیا یہ انہی دنوں کی بات نہیں ہے جب دیپ سدھو نے بھنڈرا نوالہ کے گاؤں میں پہنچ کر ”وارث پنجاب دے“ تحریک کی بنیاد رکھی اور فروری 2020 میں جب دیپ سدھو کار ایکسیڈنٹ میں مارا گیا تو امرت پال سنگھ کو اس کی جگہ چنتے ہوئے بھڑکاؤ بھاشن شروع کر دیے گئے۔ ایک شخص نوکری کے لیے دبئی گیا، کام نہیں چلا تو سوچا لیڈری چمکاتے ہوئے نوکری کا متبادل تلاش کرلوں۔ یہی شخص ہے جس نے 23 فروری کو اجنالہ پولیس اسٹیشن پر حملہ کرتے ہوئے گرو گرنتھ صاحب کے شیلٹر میں اپنے مجرم دوستوں کو چھڑوایا تھا اور وہ ببانگ دہل یہ کہتا تھا کہ میں خود کو انڈین نہیں سمجھتا، محض مجبوری میں انڈین پاسپورٹ کا استعمال کرتا ہوں۔ شاید خود کو خالصتان کا نام نہاد پردھان منتری سمجھتا ہو، اب جیل میں ہے تو کرالہ سے بھی ذرا دور یا آگے ہونا چاہیے۔ (جاری ہے)