ہم اچھے اور ذمہ دار شہری کیسے بن سکتے ہیں؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 03 / اکتوبر / 2023
آج ہم اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک اچھا اور ذمہ دار شہری کیسے بنا جا سکتا ہے اور ہم کیوں نہیں بنتے؟
مشاہدے میں آتا رہتا ہے کہ جب بھی کوئی بندہ کسی معاملے میں کوئی درخواست وغیرہ لکھتا ہے تو اس کے اندر اپنے حوالے سے لکھتا ہے کہ میں ایک ذمہ دار اور شریف شہری ہوں. اور یہ جملہ سب سے زیادہ کسی جرم کے بعد ضمانت قبل از گرفتاری کروانے کی درخواست میں لکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک اچھا یا شریف اور ذمہ دار شہری بننے کے لیے گاہے قانون ہاتھ میں لینا ضروری ہوتا ہے۔ یعنی پہلے کوئی جرم کیا جائے پھر درخواست میں اپنے ذمہ دار اور شریف شہری ہونے کا اعادہ کیا جائے۔
کیا ہم نے اسی طرح اپنے معاشرے کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھ دی ہوئی ہے؟ اب ذرا اوپر کی طرف چلتے ہیں اور ایوانوں کے اچھے اور ذمہ دار ہونے کا جائزہ لیتے ہیں۔ صدر، وزیراعظم، اسپیکر اسمبلی اور تمام وزراء اپنے اپنے عہدوں کا ایک حلف اٹھاتے ہیں. اس حلف کے الفاظ کا سب کو علم ہے۔ اور حلف کی اہمیت اور احساسات کا اندازہ لگانے کے لیے سب سے پہلے قرآن پاک کی طرف دیکھا جا سکتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قسم کے ساتھ جھوٹ بولنے سے کس قدر منع کیا ہے۔ اس کے بعد دنیا کے کسی بھی ملک میں حلف کی خلاف ورزیوں پر سزاوں سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ حلف کی خلاف ورزی ہمارے دین میں کبیرہ گناہ اور دنیا کے قوانین میں بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ جب پیشہ ورانہ تعلیم دی جاتی ہے تو دو پیشے ایسے ہیں جنہیں تعلیم کے ساتھ اپنے پیشے کے ساتھ مخلص رہنے کا حلف بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ دو پیشے میڈیکل اور قانون ہیں۔ یعنی ڈاکٹر بننے اور وکیل بننے کے لیے حلف بھی لازمی ہے۔
میرے خیال میں تمام سرکاری ملازمین بھی حلف دیتے ہیں کہ وہ اپنے ذمہ تمام کام نہایت ایمانداری سے کریں گے اور اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کریں گے۔ اب وہ اس حلف پر پورا اترتے ہیں کہ نہیں یہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں جن کا اکثر واسطہ ان سرکاروں اور سرکاریوں سے پڑتا ہے۔ اب ذرا سوچتے ہیں کہ ایک اچھے یا شریف اور ذمہ دار شہری کی تعریف کیا ہوتی ہے؟
یہ سوچنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ فرد اور ریاست کے بیچ ایک معاہدہ ہوتا ہے جسے اردو لغت میں عمرانی معاہدہ کہتے ہیں جبکہ انگریزی زبان میں سوشل کنٹریکٹ کہا جاتا ہے۔ اب سارا معاملہ اسی معائدے کے گرد گھومتا ہے۔ وطن عزیز میں کبھی اس معاہدے کو سامنے لایا گیا، اس کی کوئی معلومات دی گئیں نہ کسی سطح پر فرد کی تربیت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تو پھر کس طرح کوئی ایک ذمہ دار شہری بن سکے گا؟ اس معاہدے کی رو سے پہلے ریاست کو ایک ذمہ دار ریاست بننا ہوتا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے ہر فرد کی ماں کے پیٹ سے لے کر بڑھاپے کے آخری وقت تک ذمہ دار ہو، اسے ہر طرح کا تحفظ دے اور اپنے افراد کو ایک ایسا سیاسی، سماجی اور معاشی نظام دے، جس میں رہتے ہوئے ہر بندہ ذمہ دار شہری بن سکے۔ لیکن ہماری ریاست ایسی ریاست کبھی بھی نہیں بن سکی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے منصفوں کو شاید پاکستان جیسی ایک ریاست کی ضرورت تھی، جسے وقتاً فوقتاً استعمال کیا جا سکے۔
یہ اسی صورت ممکن ہو سکتا تھا کہ اس ریاست کو اپنے تربیت یافتہ آمروں کے حوالے کر کے ان کے ساتھ رابطہ رکھا جائے۔ اگر اختیارات عوام کے سپرد ہوتے اور عوام اپنے نمائندے چننے میں آزاد ہوتے تو پھر جمہوریت مضبوط ہونا تھی اور جمہوریت میں ہر ریاست تمام فیصلے اپنے عوام کے مفاد کو سامنے رکھ کر کرتی ہے۔ کیونکہ حکومت عوام ہی کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر ہم بھی ذمہ دار شہری بنتے اور ملکی مفاد کو مقدم رکھتے لیکن ہمارے اوپر مسلط قوتوں نے عوام کا نام تو استعمال خوب کیا لیکن عوام کو قوت فیصلہ سے بہت دور رکھا اور جو بھی حکومت بنی اس نے ملکی وسائل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ جس سے نا امیدی، بے اعتباری اور بے اعتمادی نے جنم لیا پھر جس کے ہاتھ جو لگا وہ لے گیا، کسی نے ملک اور آئندہ نسلوں کا نہیں سوچا۔
اب ذرا ترقی یافتہ ممالک پر ایک نظر دوڑا کر دیکھتے ہیں کہ کیا ان کے شہری ذمہ دار ہیں؟ جی ہاں تمام ترقی یافتہ اور مہذب ممالک کے شہریوں کی بھاری اکثریت ذمہ دار شہری ہیں۔ ایک ذمہ دار شہری کسی بھی حال میں قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتا ماسوائے اپنے فوری دفاع کے کہ کوئی اچانک اس پر حملہ آور ہو جائے۔ ایک ذمہ دار شہری اپنی ذات اور اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ اپنے ملکی مفادات کا بھی محافظ ہوتا ہے۔ وہ اپنے اوپر واجب الادا ٹیکس وقت پر ادا کرتا ہے۔ اپنے قومی اثاثوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ہر جگہ سچ بولتا ہے۔ کاروبار ایمانداری سے کرتا ہے۔ اپنے ملک کو صاف رکھنے اور آلودگی سے شفاف رکھنے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی تنظیم کے ساتھ منسلک ہو کر علاقائی بہتری کے کاموں میں حصہ لیتا ہے۔
اور یہ تمام کام کرتے وقت اس کے ذہن میں کسی انعام یا شاباش کی خواہش ہوتی ہے، نہ کسی ثواب کا طلبگار ہوتا ہے۔
اس کی سوچ صرف اپنے معاشرے کو ایک کامیاب اور اطمینان بخش معاشرہ بنانا ہوتا ہے۔ وہ اپنی سوچ کو اچھے طریقے سے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور دوسروں کی رائے کا احترام کرتا ہے۔ اپنے نمائندے کا انتخاب کرتے وقت امیدوار اور اس کی جماعت کے منشور اور ان کی قومی خدمات میں کارکردگی کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اپنی صحت کے ساتھ اپنے خاندان اور اپنے قریبی لوگوں کی صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ وہ اپنے فرائض کی بھر وقت ادائیگی کرتا ہے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ملکی قوانین کے مطابق جدوجہد کرتا ہے۔ اور جب ریاست اور فرد اپنے اپنے فرائض ک ی ادائیگی احسن طریقے سے کرتے ہیں تو پھر ملک ترقی کی راہ پر دوڑنے لگتا ہے۔