آرمی چیف سے امریکی وزیر دفاع کی ٹیلیفون پر بات چیت، علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال

  • بدھ 04 / اکتوبر / 2023

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ گفتگو کے دوران دونوں نے باہمی دلچسپی کے امور اور حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی محکمہ دفاع کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری آف ڈیفنس لائیڈ جے آسٹن نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر سے فون پر گفتگو کی ہے۔ گفتگو کے دوران لائیڈ جے آسٹن اور جنرل عاصم منیر نے باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات نے تاحال اس گفتگو کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

امریکی محکمہ دفاع کے بیان میں اس گفتگو کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان میں گزشتہ برس کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کیا جا چکا ہے جس کے بعد سے ملک بھر میں، بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز نامی تھنک ٹینک کی جانب سے جولائی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی اور خودکش حملوں میں مسلسل اور تشویشناک اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں 389 افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان کے ساتھ ایسی حکمت عملی پر کام کرنے کی پیشکش کی ہے جو ہر قسم کی پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں بہتر طور پر مدد کر سکیں۔ میتھیو ملر نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے کہ ہم ہر قسم کی پُرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں بہتر طریقے سے مدد کر سکیں۔

گزشتہ ماہ سینیئر امریکی سفارتکار نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو علاقائی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا پاکستان، افغانستان میں امریکی مقاصد کے حصول میں معاون ہے یا ایک رکاوٹ ثابت ہو رہاہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹام ویسٹ نے کہا کہ میں متوازن انداز میں یہ کہوں گا کہ وہ معاون و مددگار ہے۔ جہاں تک سیکیورٹی کے مسائل و معاملات کی بات ہے تو وہ یقینی طور پر پارٹنر ہیں۔ نقل مکانی سے متعلق مسائل کی بات کی جائے تو وہ مسائل حل کرنے میں معاون ہیں، جب پناہ گزینوں سے متعلق معاملات کی بات آتی ہے تو بھی وہ ہمارے لیے مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے توازن کے ساتھ میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ معاون ہیں۔