انڈیا کینیڈا تلخی اور خالصتان کا مسئلہ (4)
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 04 / اکتوبر / 2023
بھارت اور اس کا میڈیا اگر سارا زور محض کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو برا ثابت کرنے پر لگا دے گا تو اس سے مغربی دنیا میں بھارت کی نیک نامی نہیں ہوگی۔ مانا کے ٹروڈو کے اپنے سیاسی مفادات کا بھی ایشو ہوگا۔
انہوں نے اپنی سیاسی ضرورت کے لیے نیو ڈیموکریٹک پارٹی کا تعاون حاصل کر رکھا ہے جس کی طاقت خالصتانی سکھ ہیں۔ اس وجہ سے وہ ان کی زیادتیوں پر بھی ان کے خلاف ہاتھ نہیں ڈال رہے۔ یا آپ لوگوں کے بقول وہ چائنہ اور پاکستان سے ملے ہوئے ہیں۔ ایسی حقائق سے ہٹ کر باتیں کرنے سے آپ کی حقیقی باتوں میں بھی وزن نہیں رہ جائے گا۔ آپ لوگ جسٹن ٹروڈو پر تنقید ضرور کریں، ان کی پالیسیوں کو بھی غلط ثابت کریں مگر لاجک اور تہذیب کے ساتھ۔ کڑوی سے کڑوی بات بھی شائستگی کے ساتھ کہی جا سکتی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ رد عمل میں مغربی میڈیا بھی آپ کے خلاف دن بدن جارحانہ ہو رہا ہے۔ قتل سکھدول سنگھ کا بھی ہوا ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ اس کے حوالے سے انڈیا کی طرف کوئی انگلی نہیں اٹھائی گئی۔
ہردیپ سنگھ نجر کے حوالے سے درحقیقت آپ لوگ خود بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ ہمارا یا ہمارے سفارت کاروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے اس کے پیچھے کریمنل مافیا کا کوئی گینگ ہو۔ دوسری طرف آپ نے اس کے سر کی قیمت بھی لگا رکھی تھی۔ اور ساتھ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ جس طرح امریکا نے پاکستان کے اندر گھس کر اُسامہ بن لادن جیسے اتنک وادی کو مارا تھا، اگر وہ ٹھیک ہے تو پھر یہ بھی ٹھیک ہے۔ امریکیوں نے تو ایرانی انٹیلیجنس چیف کو جو القدس بریگیڈ کے تحت اسرائیل پر حملے کر رہا تھا، عراق میں ٹارگٹ کرتے ہوئے مار ڈالا تھا یا حماس کے لیڈر احمد یسین کو یا مصری دہشت گرد ڈاکٹر ایمن الظواہری کو جس طرح ٹارگٹ کیا گیا تھا، آپ ضرور ایسی مثالیں دے سکتے ہیں لیکن ہنوز آپ ان حوالوں سے خود واضح نہیں ہیں کہ ویسٹرن ورلڈ کے سامنے کیا موقف اپنانا ہے۔ اور صرف اپنانا ہی نہیں ہے ٹھوس دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ اسے ثابت بھی کرنا ہے۔
مانا کہ آپ اس وقت ایسی پوزیشن میں ہیں کہ چین کا گھراؤ کرنے کے لیے امریکا کے پاس آپ کے علاوہ اس لیول کا کوئی آپشن نہیں ہے اور یہ بھی یاد رکھئے کہ چائنہ امریکا سے کہیں زیادہ بڑھ کر آپ لوگوں کی تھریٹ یا آپ کی ساورنٹی کا ایشو ہے۔ اس لیے امریکی جس طرح سعودی کنگڈم میں جمال خشوگی کا قتل پی گئے ہیں، اسی طرح آپ لوگوں کے کئی غلط اقدامات پر بھی تعلقات خرابی کی خطرناک سطح تک نہیں جائیں گے۔
مگر کنیڈا جیسے ترقی یافتہ ویسٹرن ملک کے ساتھ ایک لایعنی ایشو پر تلخی اس حد تک لے جانا ہرگز انڈین مفاد میں نہیں ہے۔ بے سروپا پروپیگنڈا کرتے ہوئے آپ لوگوں کو کینیڈا، امریکا یا دوسرے انگلش سپیکنگ فائیو آئز ممالک کے خلاف منافرت کا رویہ نہیں اپنانا چاہیے۔ انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ جیسے ممالک ہمیشہ سے آپ کے دوست ہیں۔ آپ اپنے دوستوں کو بے وجہ آزمائش میں کیوں ڈال رہے ہیں۔ انہی دنوں جب یہ سارا ہنگامہ ہورہا ہے تو ایک صحافی نے آسٹریلین پرائم منسٹر سے سوال کیا کہ آپ تو پرائم منسٹر مودی کو اپنا باس کہہ رہے تھے، آج ان کے حوالے سے جو کچھ دنیا کے سامنے آرہا ہے کیا آپ کو یہ پچھتاوا نہیں ہو رہا کہ میں نے مودی کے متعلق اتنے اونچے شبد کیوں بولے تھے؟ اس کے جواب میں آسٹریلین پرائم منسٹر سوائے اس کے کوئی جواب نہ دے سکے کہ یہ سب کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ سماں بدلنے دیں بہت سی باتیں واضح ہوتی چلی جائیں گی۔ یعنی اس سب کے باوجود انہوں نے کوئی نیگٹو تاثر دینے سے گریز کیا۔
عالمی سفارت کاری یا تعلقات میں باہمی وقار ہوتا ہے۔ یہ درویش جب اپنے انڈین پترکاروں یا جرنلسٹس کی باتیں سنتا پڑھتا ہے تو اس شدت پسندی پر بارہا حیرت ہوتی ہے جس کی توقع کم از کم کسی ہندو سے نہیں کرتا۔ دنیا میں اس وقت انڈیا کا اخلاقی وانسانی حوالے سے جو ریگارڈ ہے، آپ لوگوں کو اس کا پاس و لحاظ ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔ آپ کے پاس مہاتما گاندھی جیسا، نان وائیلنس کی عالمی پہچان رکھنے والا مبارک چہرہ ہے، وہ بھارت کی عزت آن ، بان اور شان ہے۔
گاندھی کی وجہ سے بھارت کی عظمت ہے یا آہنسا کے مسیح جیسی برداشت کی پہچان اس کے کھاتے میں ڈالی جاتی ہے۔ آپ لوگوں کو اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ہندو کی عدم تشدد والی روایتی اپروچ آپ لوگوں کا اثاثہ ہے۔ اسے ضائع مت کریں۔ اس وقت خالصتانی مسئلہ بھارت کے لیے کسی نوع کی کوئی تھریٹ نہیں ہے۔ یہ کشمیر سے بڑا ایشو تو نہیں ہے، جب کشمیر ایشو پر آپ لوگ بڑی حد تک قابو پا چکے ہیں تو پھر خالصتانی ایشو پر کیوں آپے سے باہر ہو رہے ہیں؟
انڈین پنجاب میں آخر کون سی ایسی آگ لگی ہوئی ہے جس پر آپ ایسے انتہائی اقدامات پر چلے جائیں۔ حوصلہ رکھیں، حکمت اور تدبر سے اس الجھی گتھی کو سلجھائیں۔ عالمی صورتحال اس تیزی سے بدل رہی ہے کہ اب چھوٹی قومیتوں کا الگ ہو کر آگے بڑھنا دن بدن مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ آپ لوگ اپنی نئی نسلوں پر دھیان دیں، ان کے دکھوں کا مداوا کریں جو بڑی حد تک آپ لوگ کر بھی رہے ہیں۔ مذہبی حوالوں سے بھی سکھوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے آپ لوگوں کے پاس بہت کچھ ہے۔ درویش کی طرح آپ بھی ان لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ بابا گرو نانک دیو جی مہاراج تو ہندو مسلم ایکتا کے پرچارک تھے۔ ان کا پیغام انسانوں کو بانٹنے یا توڑنے کا نہیں، جوڑنے اور قریب تر لانے کا ہے۔ جو ہستی ہندو مسلم کے درمیان پل بنا، کیا وہ اپنے پیرو کاران کو یہ تعلیم دے سکتی ہے کہ کرشنا مہاراج اور شری رام چندر جی کے ماننے والوں سے نفرت کرو؟
ان کی گرو گرنتھ صاحب کو ملاحظہ فرما لیا جائے جس میں ایکتا کا پیغام ہے جس میں مسلم صوفیوں کی محبت بھری تعلیمات کے ساتھ 15 عدد ہندو بھجن بھی شامل ہیں۔ گرو گرنتھ صاحب کے بہت سے مخصوص حصے خود نفرت اور علیحدگی کے خلاف جاتے ہیں، جنہیں عام سکھوں پر واضح کیا جانا چاہیے۔ درویش نے تو گرودوارہ جنم استھان میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو وحدت اور ایکتا کی بجائے توڑنے، الگ کرنے یا منافرت کی باتیں کرتا ہے، وہ درحقیقت بابا گرو نانک دیو جی کی توہین کرتا ہے۔ ان کی تعلیمات کے الٹ چلتا ہے۔ وہاں انڈین گرودوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین بھی آئے ہوئے تھے اور ہمارے سردار شام سنگھ جیسے جعلی لوگ بھی تھے۔ دونوں میں مباحثہ ہوا، ان کا نام تو یاد نہیں لیکن انڈیا سے آئے ہوئے اس گرنتھی سے مزید بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا۔ بولے آپ لاہور میں رہتے ہیں، وہاں چونا منڈی میں ہمارے گرو ارجن دیوجی کا گرودوارہ ہے۔ فلاں تاریخ اور فلاں ٹائم کو وہاں آجائیے۔ وہاں گیا، کچھ بات چیت بھی ہوئی لیکن اندازہ ہوا کہ وہ بھی ہمارے مولویوں جیسے ہی گرنتھی ہیں۔
بہرحال موجودہ حالات میں بھارت سرکار کا کردار یہ ہونا چاہیے وہ اپنی نئی نسلوں کی اس طرح برین واشنگ کرے کہ وہ از خود انڈین ایکتا اور اکھنڈتا کی پرچارک بن کر اٹھیں، وہ اپنا خوبصورت فیوچر انڈیا کے ساتھ جڑنے میں دیکھیں، نہ کہ کٹنے میں۔ درویش تو امریکن سٹائل میں یونائٹڈ سٹیٹس آف انڈیا کا خواب دیکھتا ہے۔ یہ سپنا تو از خود خالصتانی سوچ کی موت ہے۔ آپ لوگ نئے اُجالے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ مذہبی تناؤ اور تنگ نظری سے اوپر اُٹھیں۔ امریکن طرز پر تمام مذاہب کا یکساں احترام کرتے ہوئے اپنے آئیڈیل آئین کی روشنی میں دھرم کو فرد کا ذاتی معاملہ مانتے ہوئے لبرل سیکولر اپروچ کو پروان چڑھائیں۔
مذہبی ٹچ اور تڑکے لگا کر پون صدی سے ایسی جنونیت پھیلا کر آپ کی ہمسائیگی میں ہم پاکستانی آج کس حال کو پہنچ چکے ہیں۔ اس سے آپ لوگوں کو سبق سیکھنا چاہیے۔ آج اگر آپ لوگ امریکن لیول کی سپر پاور بننے جا رہے ہیں تو دل بھی بڑا کریں۔ چھوٹی چھوٹی تنگناؤں سے اوپر اٹھ جائیں۔ مرکز گریز تحریکیں بشمول خالصتانی ذہنیت، اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ ایک توانا، خوشحال اور ترقی یافتہ بھارت یا انڈیا خود ہی ایکتا کی کامیابی پر مہر ثبت کر دے گا۔