روزنامہ قومی آواز کا اجرا اور خوش نویسوں کی ہڑتا ل کی کہانی
- تحریر رضی الدین رضی
- بدھ 04 / اکتوبر / 2023
روزنامہ قومی آواز ملتان کا پہلا اخبار تھا جس کی بانی ٹیم میں شامل ہونے کا مجھے موقع ملا۔ 1985 سے 1988 تک لاہور میں قیام کے تین سال بلاشبہ بہت یادگارتھے۔ معمولات زندگی رواں دواں تھے کہ اسی دوران معلوم ہوا کہ میرے چھوٹے بھائی عامر کی فوج میں سلیکشن ہوگئی ہے اورعامر کو ٹریننگ کے لیے ملتان سے روانہ ہونا ہے۔
عامر گھر سے چلے جاتے تو پھر امی کے پاس کون رہتا۔ اگرچہ گھر میں ماموں جاوید بھی رہتے تھے لیکن لاہور سے میری واپسی اب ناگزیر ہوگئی تھی۔ عامر کوٹریننگ کے لیے شاید مارچ میں منگلا جانا تھا اور اس سے پہلے میری ملتان واپسی ضروری تھی۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ ملتان سے ایک نئے اخبارکا اجرا ہورہاہے اور نام اس اخبار کا قومی آوازہے۔ اخبار کے ایڈیٹر ایثارراعی تھے جن کے بارے میں میں پہلے مضمون میں بتاچکا ہوں کہ وہ نیشنل پریس ٹرسٹ (این پی ٹی) کے زیراہتمام شائع ہونے والے اخبارروزنامہ مشرق کے ایڈیٹر تھے۔ مشرق اورامروز میں تنخواہیں بہت اچھی تھیں اور ریٹائرمنٹ پر واجبات بھی ملتے تھے۔ راعی صاحب کومشرق سے رخصتی پر جو واجبات ملے ان کی مدد سے انہوں نے اخبارشائع کرنے کا فیصلہ کیا۔
راعی صاحب کااصل دارومدار قدرت اللہ شہاب پرتھا۔ قدرت اللہ شہاب، ایثارراعی کے جھنگ کے زمانے کے دوست تھے اورانہوں نے اس زمانے میں اپنی خودنوشت (شہاب نامہ) میں ایثارراعی کابھی جھنگ کے حوالے سے ذکر کیاتھا۔ قدرت اللہ شہاب نے ایثارراعی کویقین دلایا کہ آپ اخبارشروع کریں میں اخبار کی اے بی سی کرواکے آپ کو سرکاری اشتہارات بھی جاری کروا دوں گا اورانہوں نے یہ وعدہ پورا بھی کردیا۔ لیکن اخبارباضابطہ طورپر ایک سال ہی مارکیٹ میں جاسکا۔ البتہ ڈمی کی صورت میں یہ ابھی تک شائع ہورہاہے۔ اشتہارات بھی حاصل کررہاہے اور ان کے بیٹوں بخت آثار اورنشید و نوید کی روزی کا وسیلہ ہے ۔ نئے اخبار کے لیے راعی صاحب کو عملہ بھی درکارتھا۔ سو مختلف اداروں سے مختلف صحافیوں کو جمع کیا گیا۔ میں لاہور جانے سے پہلے روزنامہ سنگ میل اورروزنامہ نوائے ملتان میں نیوز ایڈیٹر اور میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصی دھوم مچا چکا تھا۔ میرے تیارکیے ہوئے ادبی و سیاسی صفحات اور میرے کالم ملتان ہی نہیں پاکستان بھر میں زیربحث آ چکے تھے جن میں ایک کالم وہ بھی تھا جو میں نے روزنامہ سنگ میل میں ایم آرڈی کی قرارداد پر دستخط کی پاداش میں مسعوداشعر ، منوبھائی اوراظہر جاوید کی برطرفیوں کے خلاف تحریر کیا تھا۔
ضیاءمارشل لاکے دور میں ان برطرفیوں کے خلاف واحد آوازملتان سے ہی ابھری تھی اوربعد ازاں اظہرجاوید اورمنوبھائی نے اس کالم کی اشاعت پر مجھے خطوط بھی تحریر کیے اور محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کاکہنا تھا کہ صحافتی کیریئر کے آغاز میں مجھے مارشل لا حکام کے فیصلوں پرتنقید نہیں کرنی چاہیے۔ بات کسی اورجانب نکل گئی واپس موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ملتان سے بلاوا آیا تواپریل کے آخری ہفتے میں میں نے لاہور سے اپنی کتابیں اور بستر سمیٹا اورملتان کے لیے روانہ ہوگیا کہ مجھے ملتان پہنچ کر قومی آواز کا پہلا شمارہ شائع کرناتھا۔ میں گزشتہ تین برسوں سے لاہور میں 1200روپے ماہوار پر کام کررہا تھا جن میں سے چھے سو روپے میں گھر بھیج دیتا تھا اورباقی چھے سو روپے میں خود گزربسر کرتا تھا جس میں 250 روپے مکان کے کرائے میں ادا ہو جاتے تھے۔ باقی ساڑھے تین سوروپے میں مجھے ہرہفتے ملتان بھی آنا ہوتا تھا اور کھانے سمیت دیگر اخراجات بھی کرنا ہوتے تھے۔
ایثارراعی صاحب کی جانب سے مجھے اسی تنخواہ کی پیشکش کی گئی جو میں وطن دوست لاہور میں بشری رحمان صاحبہ سے وصول کررہا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ آپ 1200روپے لاہور میں لے کر چھے سو روپے گھربھیجتے ہیں تو ملتان آکر آپ کو فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے جواخراجات دوشہروں میں تقسیم ہیں وہ ایک ہی جگہ منتقل ہوجائیں گے۔ ان کی یہ بات مجھے بھی سمجھ آگئی ۔ ویسے بھی ہم ملتانی اپنے شہر سے زیادہ عرصہ دور نہیں رہ سکتے اورمجھے تو پردیس میں تین سال ہوگئے تھے۔ 24اپریل 1988 کوروزنامہ قومی آواز کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ پچیس اپریل کو پیر کے روز اس میں میرا پہلا کالم ” قومی آواز اور میری آواز “ کے عنوان سے شائع ہوا ۔ قومی آوازکا دفتر ڈیرہ اڈا چوک کے قریب ماورا ہوٹل کے سامنے والی گلی میں محلہ چاہ انگوری والا میں واقع تھا۔ یہ ایک چھوٹا ساچوبارہ تھا جس کے ایک جانب کچن اور دوکمرے تھے۔ کچن کو کاپی پیسٹنگ روم میں تبدیل کردیا گیا اور باقی دوکمرے نیوزروم اورکتابت سیکشن میں تبدیل ہوگئے۔ چوبارے کی دوسری جانب ایڈیٹر کا کمرہ تھا اوردرمیان میں ایک چھوٹا سا صحن تھا جو فارغ لمحات میں ہمارے قہقہوں کامرکز ہوتا تھا۔ اس اخبار میں اس زمانے کے نامور صحافی جمع ہوگئے تھے۔ اسلم جاوید اوررانا اکرم خالد اس زمانے میں روزنامہ آفتاب میں کام کرتے تھے۔ اسلم جاوید نیوز ایڈیٹر اور رانا اکرم خالد رپورٹر کی حیثیت سے روزنامہ قومی آواز کے ساتھ منسلک ہوگئے۔
نذربلوچ اس زمانے میں ایک اچھے سٹاف رپورٹر کی حیثیت ابھررہے تھے۔ وہ بھی ہماری ٹیم کاحصہ بن گئے۔ خوش نویسوں میں راشد سیال، اسلم وفا، اقبال یوسفی اورظہورتابش قومی آواز کے کتابت سیکشن میں موجود تھے۔ کاپی پیسٹنگ کے شعبے میں معراج علیم اور ظفر مغل تھے(ظفرمغل بعدازاں پراپرٹی کے شعبے سے وابستہ ہوگئے اورپھر پاکستان تحریک انصاف میں بھی شمولیت اختیارکرلی۔ مدتوں بعد ایک روز مجھے اے پی پی کے دفتر ملنے آئے۔ اس کے بعد دوبارہ کوئی رابطہ نہ ہوا ۔ گزشتہ ہفتے معلوم ہوا کہ وہ اچانک اس جہان سے رخصت ہوگئے ہیں)۔ ایک اورنوجوان ضیااشرف بھی اس اخبار میں کام کرتے تھے۔ ضیااشرف کوجب ایثارراعی صاحب نے دفتر سے نکال دیا تو وہ پریشان ہو کر میرے پاس آگئے۔ میں نے مشورہ دیا کہ آج کل ڈیکلریشن کاحصول بہت آسان ہوچکا ہے، آپ بھی ڈیکلریشن لے کرایڈیٹربن جائیں۔ ضیااشرف نے ایسا ہی کیا۔ پھرجس وی آئی پی پریس کانفرنس میں راعی صاحب جاتے تھے، ضیااشرف بھی ان کے برابر جا کر بیٹھ جاتے۔ راعی صاحب تلملا کر رہ جاتے۔ ضیااشرف کے اخبار کا نام نوائے حقیقت تھا جو آج بھی شائع ہورہا ہے۔ کچھ عرصہ میں نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے دفتر میں کام کیا تھا۔
قومی آواز کی لیڈی رپورٹروں میں شگفتہ انصاری اور زنیرہ سید شامل تھیں۔ شگفتہ انصاری بعدازاں اسلام آباد چلی گئیں اور پی آئی ڈی میں اہم عہدے سے ریٹائرہوئیں۔ روزنامہ قومی آواز میں میں نے ڈرتے ڈرتے کے نام سے کالم بھی دوبارہ شروع کیا اور ادبی ایڈیشن بھی چھاپنے لگا۔ قومی آواز کے ادبی ایڈیشن میں کمرہ نمبر52کے نام سے میں نے لاہور میں قیام کی یادیں تحریر کرنا شروع کیں۔ پہلی قسط 16دسمبر1988 کو شائع ہوئی اور دسویں قسط 17مارچ 1989 کو اس اخبار کی زینت بنی۔ گیارہویں قسط بھی یقیناً مجھے تحریر کرنا تھی لیکن شاید اس کے بعد مجھے وہ اخبارچھوڑنا پڑگیا کیونکہ وہاں تنخواہوں کی ادائیگی مسئلہ بن گئی تھی۔ کمرہ نمبر52کے نام سے اب میری کتاب اشاعت کے مراحل میں ہے جس میں وہ خطوط بھی شامل ہیں جو میں نے لاہور سے جدہ میں مقیم شاکر حسین شاکر کے نام تحریر کیے تھے۔ یہ کتاب 1985 سے 1988 تک کے منظرنامے کی ایک دستاویز ہوگی۔
قومی آواز میں ہی میرے ساتھ نامور سرائیکی شاعر رفعت عباس بھی کام کرتے تھے۔ رفعت عباس اداریہ لکھتے تھے اوراداراتی صفحے کے انچارج تھے۔ میں اپنا کالم تحریر کرکے اشاعت کے لیے انہی کے سپردکرتا تھا۔ یہی وہ اخبارتھا جہاں ہم نے ضیاالحق کی موت اور پھر بے نظیر بھٹو کے وزیراعظم بننے کی خبریں شائع کی تھیں۔ اسی اخبار میں میرے وہ تمام کالم شائع ہوئے جن کا میں جنرل ضیا کی موت کے حوالے سے مختلف مضامین میں حوالہ دیتارہا ہوں۔ خاص طورپر وہ کالم جو میں نے ضیاکی درازی عمر کے لیے تحریر کیا اورجس کے چند روز بعد جنرل ضیا اپنے رفقا سمیت بہاولپور کے قریب طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ اورپھر میں نے اسی اخبار میں صدیق سالک کی یاد میں ”ہمہ یاراں دوزخ“ کے نام سے کالم لکھا۔ یہ اگرچہ ان کی کتاب کانام ہے لیکن وہ جس موت کا شکارہوئے، اس نے اس عنوان میں نئی معنویت پیدا کر دی۔
مجھے یاد ہے ضیا کی موت پر میرے کالم کاعنوان تھا ”شہید کی جوموت وہ قوم کی حیات ہے“ ۔ یہاں بہت سے دلچسپ تجربات ہوئے ۔ جنرل ضیا کی موت کے بعد سرکاری طور پر انہیں شہید کا درجہ دے دیا گیا تھا اور ہمارے ساتھ کام کرنے والے کچھ لوگ بھی جنرل ضیا کو شہادت کے منصب پرہی فائزسمجھتے تھے۔ ایک خوش نویس ایسے تھے جوجنرل ضیا کے نام کے ساتھ ازخود شہید لکھ دیتے تھے۔ میں بارہاپروف ریڈنگ کے دوران انہیں ٹوکتا لیکن وہ اپنی حرکت سے بازنہ آتے۔ مجھے ہرخبر میں سے شہید کا لفظ بلیڈ سے کھرچنا پڑتا تھا۔ پھر ایک روز یوں ہوا کہ انہوں نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی خبر میں بھی ضیا کے نام کے آگے شہید لکھ دیا۔ اب متن کچھ ایسے بنا ”وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ جنرل ضیا شہید نے اس ملک کوبرباد کردیا۔ ضیا شہید نے ہمیں ہیروئن کا تحفہ دیا۔ ضیا شہید نے نئی نسل کے ہاتھوں میں کلاشنکوف دی ۔ آج جولوگ ضیا شہید کو اپناآئیڈیل سمجھتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ضیا شہید جیسا دوزخی ہی اس ملک کی تباہی کاذمہ دارہے“۔ مجھے اس خوش نویس کا نام اب یاد نہیں لیکن جس روز یہ خبر شائع ہونا تھی اور اشاعت سے قبل جب یہ میری ”عقابی نگاہوں“ میں آگئی تو وہ دن روزنامہ قومی آواز میں اس خوش نویس کی ملازمت کا آخری دن تھا۔
اس اخبار میں مجھے پہلی مرتبہ کاتبوں کی ہڑتال کا سامنا کرناپڑا۔ تنخواہیں نہ ہونے کے باعث جو چند کاتب دفتر میں موجود تھے ان کی مدد سے اخبارشائع کرنا ناممکن ہوگیا۔ جو کاپی رات کو ایک بجے پریس میں جانا ہوتی تھی اس کی تکمیل میں صبح کے چاربج جاتے تھے۔ راعی صاحب کا مگر اصرارتھا کہ جو بھی ہو کاپی وقت پرجانا چاہیے۔ اس کا طریقہ یہ نکالا کہ ہم نے اندرونی صفحات پرپرانی خبریں لگانا شروع کردیں۔ معاملات پھربھی قابو میں نہ آٰئے تو صفحہ آخر پر بھی پرانی خبریں براجمان ہوگئیں۔ اب صرف پہلا صفحہ بچ گیا تھا ، حل یہ نکالا کہ میں نے پہلے صفحے کی ہر خبر کی پانچ پانچ سطریں کتابت کرائیں اوراخبارمکمل کردیا۔ اندرونی صفحات پرانے بقیوں سے بھرے ہوتے تھے۔ مجھے کسی نے کہا کہ یہ توغلط کام ہے ، ہم پکڑے جائیں گے ، میں نے کہا کہ اگرکوئی اخبارپڑھے گا توپکڑے جائیں گے ناں۔ جب کوئی اخبارہی نہیں پڑھتا تو اسے کیا معلوم کہ اندرونی صفحات پر خبروں کے بقیے شائع ہوئے ہیں یا نہیں۔
یہ نسخہ کیمیا سب کوبہت پسند آیا۔ راعی صاحب تو اب دفتر ہی نہیں آتے تھے ، اخبارہم جیسے چند لوگوں کے سپرد تھا۔ بقیوں کا مسئلہ حل ہونے کے بعد کاپیاں وقت پربلکہ بعض اوقات تو وقت سے بھی پہلے پریس میں جانے لگیں۔ راعی صاحب مطمئن ہوگئے کہ کاتبوں کا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ ہم بھی بروقت گھروں کوچلے جاتے تھے ۔ پندرہ بیس روز بعد جب ہماری یہ کارستانی پکڑی گئی توراعی صاحب نے غصے میں ہمیں طلب کیا۔ کہنے لگے آج تم نے بقیے پرانے لگا دیے ہیں۔ میں نے کہا راعی صاحب جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں کہ آپ نے اخبارخود آج پہلی بارپڑھا ہے۔ ہم تو یہ بقیے پندرہ روز سے شائع کررہے ہیں۔ بس پھرہمیں اسی روز تنخواہ لیے بغیر دفتر چھوڑنا پڑگیا۔
غالباً یہ 17مارچ 1989 کے بعد کی بات ہوگی ۔ میرا اگلا مسکن سڑک کے دوسری جانب روزنامہ آفتاب کا دفتر تھا۔ لیکن اس کا احوال دینے سے پہلے یہ بتا دوں کہ قومی آواز سے رخصتی کے کئی برس بعد میری اور راعی صاحب کی لاہور سے واپسی پر ایک بس میں ملاقات ہوئی ۔ ہم نے ساہیوال تک ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی ۔ ساہیوال میں بس رکی تو میرے ساتھ راعی صاحب بھی چائے پینے کے لیے اترے ۔ چائے اور سینڈ وچ کے بل کی ادائیگی کے لیے میں آگے بڑھا تو راعی صاحب نے اصرار کیا کہ وہ خود بل ادا کریں گے۔ لیکن میں بل دے چکا تھا ۔ ”میں بڑا ہوں بل مجھے دینا تھا، آپ نے زیادتی کی ہے “۔ ”راعی صاحب کوئی بات نہیں آپ نے مجھے تین ماہ کی جو تنخواہ دینی ہے اس میں یہ بل بھی شامل کر دیں“۔ راعی صاحب نے زور دار قہقہہ لگایا اور ہماری بول چال دوبارہ شروع ہوگئی ۔ اور پھر ان کے ساتھ تعلق 19 جنوری 2003 تک قائم رہا جب وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو ئے۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)