اساتذہ کا تدریسی معیار و انداز کیسے بہتر ہو
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 04 / اکتوبر / 2023
اقوام متحدہ کے تعلیمی و ثقافتی ادارے "یونیسکو" کے زیر اہتمام1994سے دنیا بھر میں ورلڈ ٹیچرز ڈے منایا جارہا ہے۔بنیادی طور پر ورلڈ ٹیچرز ڈے منانے کا مقصد اساتذہ کے حقوق اور ذمہ داریوں پرروشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان کی تدریسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہوتا ہے۔
تاہم ا قوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو ہر سال عالمی یوم اساتذہ کوایک نئی تھیم یا موضوع کے تحت مناتی ہے کہ ممالک اور قومیں متعلقہ موضوع پر فوکس کرتے ہوئے اساتذہ کی اہمیت اور کردار کا عمیق جائزہ لے سکیں۔اگرچہ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں سرکاری و حکومتی سطح پر ورلڈ ٹیچرز ڈے منانے کا جذبہ ماند پڑتا جا رہا ہے تاہم گذشتہ چند سالوں سے سوشل میڈیا اور کلاس رومز میں "سلام ٹیچرز ڈے" بڑے جوش و خروش اورعزت واحترام سے منایا جانے لگا ہے۔ سوشل میڈیاپر منائے جانے والے عالمی یوم اساتذہ پر جہاں ایک طرف طالب علموں سمیت زندگی کے مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے انداز میں اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں وہیں کچھ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے ماضی اور حال کے اساتذہ کے تدریسی رویوں اور معیار پر تنقیدی مباحث بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔
ایسے مباحث میں سب سے زیادہ تنقید تعلیمی اداروں میں بچوں پر ہونے والے جسمانی وذہنی تشدد پر ہوتی ہے۔ کلاس رومز میں سوالات اٹھانے والے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی پر بھی اساتذہ کو مورود الزام ٹھہرایا جاتا ہے جب کہ سبق یا لیکچر صحیح طرح سے ڈلیور نہ کرنے والے اساتذہ بھی تنقید کا ہدف بنتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات سے زیادتی وہراسمنٹ کے بڑھتے واقعات کی بنیاد پر بھی اساتذہ تنقید کی زد میں آتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی بجائے نمبرز گیم کی نذر کرنے کا ملبہ بھی اساتذہ پر ڈالا جاتا ہے۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے تنقید ی مباحث کا سلسلہ عالمی یوم اساتذہ کے علاوہ اس وقت بھی شروع ہو جاتا ہے جب کہیں مدارس یا اسکولوں میں بچوں پر جسمانی وجنسی تشدد کی کوئی خبر وائرل ہوتی ہے یاجب پھر نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں طالبات یا خواتین ٹیچرز کو ہراسمنٹ کا نشانہ بنانے کی خبریں گردش میں آتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں پر جسمانی و ذہنی تشدد اور کلاس میں ان کی عزت نفس مجروح کرنے کے علاوہ کئی ایک معاملات میں اساتذہ قصوروار قرار پاتے ہیں تاہم راقم کے خیال میں اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ٹرینڈ نہ کرنے اوران پر تعلیمی سرمایہ کاری نہ کرنے سمیت بہت سے معاملات میں ریاستی و حکومتی ارباب اقتدار بھی ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔بے روزگاری عام ہونے اور تعلیم کو نجی سیکٹر کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے ہر واجبی پڑھا لکھا فرد ٹیچر بن جاتا ہے۔ حالانکہ ہر فرد ٹیچنگ کے معیار پر پورا نہیں اتر سکتا۔ٹیچنگ کے لیے اعلی معیار کی تعلیم کے علاوہ بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر تحمل وبرداشت کا ہونا ضروری ہے۔مدارس میں پڑھانے والے بیشتر قاری صاحبان واجبی رسمی تعلیم کے حامل ہوتے ہیں۔سرکاری اور نجی اسکولوں میں تو چلیں جسمانی تشدد کی ممانعت کا قانون نافذ ہے لیکن مدارس میں اول تو ایساکوئی قانون نہیں اور اگر ہے بھی تو مدارس کے نیم خواندہ قاری صاحبان اور واجی تعلیم کے حامل اساتذہ قانون کو درخو اعتنا نہیں سمجھتے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ان 50ممالک میں شامل ہے جہاں پر بچوں پر ہونے والے جسمانی تشدد کو نظر انداز کرنے کے علاوہ اس کی حوصلہ افزائی کی روش بھی موجود ہے۔ ایک طرف گھروں میں والدین بچوں کو راہ راست پر رکھنے کے لیے ہلکی پھلکی ڈنٹ ڈپٹ اور مار پیٹ کو ناگزیر خیال کرتے ہیں تو دوسری طرف ہمارے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد بچوں کوکلاس رومز میں نظم و ضبط کی پابندی اور بہتر تعلیمی نتائج کے لیے کسی نہ کسی قسم کی سزاکوضروری خیال کرتے ہیں۔مدارس میں تو آئے روز بچوں پر وحشیانہ تشدد کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔نفسیات کی رو سے بچوں پر وحشیانہ تشدد کرنے والے اساتذہ یا تو نفسیاتی مریض ہوتے ہیں یا پھر گھریلو لڑائی جھگڑوں اور معاشرتی محرومیوں کا غصہ معصوم بچوں پر نکالتے ہیں۔
دنیا بھر کی ریاستیں اپنے اساتذہ کونہ صرف دور جدید میں ہونے والی تعلیمی تبدیلیوں اور تعلیمی طریقہ کار سے باخبر کرنے کا اہتمام کرتی رہتی ہیں بل کہ بدلتے وقت کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق درس وتدریس کے قابل بنانے کے لیے ان پر سرمایہ کاری بھی کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبے کے اساتذہ پر کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں۔عالمی اداروں کی معاونت کے باوجود ہمارے اساتذہ کی اکثریت جدید دور کے تعلیمی تقاضوں سے نابلد ہے جس کا نتیجہ معیار تعلیم کی اجتماعی زبوں حالی اور ورلڈ ملینیم گولز سے کوسوں دوری کی صورت میں ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی سزا کی ممانعت کے باوجود ایسے روایتی سوچ رکھنے والے اساتذہ کی کمی نہیں جو تعلیمی عمل میں جسمانی سزا کو بچوں کی بہتری سے تعبیر کرتے ہیں۔اس کے بعد ایسے اساتذہ کی بھی کمی نہیں جو بچوں کو جسمانی سزائیں تو نہیں دیتے لیکن ذہنی تشدد اور تضحیک میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔تعلیمی اداروں اور کلاس رومز کے ماحول میں بہتری لانے کے لیے ایسے روایتی سوچ کے حامل اساتذہ کی سوچ اور طرز عمل بدلنا ناگزیر ہے۔اساتذہ کے تدریسی انداز میں بہتری لانے کے لیے انہیں نہ صرف بچوں کی تعلیمی نفسیات سے آگاہی دینا ناگزیر ہے بل کہ خصوصی ورکشاپس کے انعقاد سے انہیں تدریس کے جدیدترین طریقوں سے باخبر رکھنا اشد ضروری ہے۔
اساتذہ کا تدریسی انداز بہتر نہ ہونے کی وجہ اساتذہ پر بورڈز امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبروں کے حصول کو یقینی بنانے کا دباؤ بھی ہے۔ نمبرگیم کے اس دباؤ کی وجہ سے ایک طرف اساتذہ بچوں کی فکری اور اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دے پا رہے تو دوسری طرف بچوں میں تنقیدی تجسس ابھارنے جیسا اہم تعلیمی مقصد ان کی ترجیح میں شامل نہیں ہو پا رہا۔حکومتی وسماجی سطح پر اساتذہ کا معاشی وسماجی استحصال بھی تدریسی معیار کی بہتری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اساتذہ ایک طرف مہنگائی میں روزافزوں اضافوں کی وجہ سے معاشی ڈیپریشن کا شکار ہیں تو دوسری طرف اضافی تدریسی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے تدریسی معیار میں بہتری لانے سے قاصر ہیں۔اساتذہ، خاص طور پر خواتین اساتذہ کے مسائل کی ایک طویل فہرست ہے۔اساتذہ کے تدریسی اندازومعیار میں بہتری کے لیے ایک طرف تعلیمی اداروں کا ماحول بہتر بنانا ناگزیر ہے تو دوسری طرف اساتذہ کی مراعات و سہولیات میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔سرکاری و سماجی سطح پر اساتذہ کا احترام یقینی بن جائے اور اساتذہ کی معاشی وتدریسی مشکلات کم ہو جائیں تو اساتذہ کے تدریسی معیار و انداز میں کافی حد تک بہتری آ سکتی ہے۔