اسرائیل پر حماس کا حملہ، 22 افراد ہلاک سینکڑوں زخمی
اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کے حملے میں 22 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس حملے کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر سب سے بڑا حملہ کہا جارہا ہے جس میں ہزاروں راکٹ داغے گئے ہیں اور حماس کے جنگجو کئی مقامات سے اسرائیل میں داخل ہوئے ہیں۔
میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی میڈیکل سروس نے مرنے والوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 22 افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید سینکڑوں مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔ حماس کی جانب سے جہاں ایک طرف ہزاروں راکٹ غزہ کی پٹی پر فائر کیے گئے وہیں مسلح افراد بھی شہر میں داخل ہو گئے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے اور شدت پسندوں نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس حملے کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے دشمن ایسی قیمت چکائیں گے جو انہوں نے کبھی نہیں دی ہو گی، ہم حالت جنگ میں ہیں اور اس جنگ کو جیتیں گے‘۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہم نے غزہ میں فضائی حملے کیے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق شہر میں دھماکے ہو رہے ہیں اور کم از کم دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ زمین، سمندر اور پیراگلائیڈرز کی مدد سے فضا سے اسرائیل میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ اس کارروائی سے قبل ہزاروں کی تعداد میں راکٹ فائر کیے گئے۔
فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچ نے کہا کہ یہ مجموعی طور پر ایک زمینی حملہ تھا جو پیراگلائیڈرز، سمندر اور زمین کے ذریعے کیا گیا۔ اس وقت ہم غزہ کی پٹی کے اطراف چند مقامات پر لڑ رہے ہیں اور ہماری فورسز اسرائیل میں زمین پر لڑ رہی ہیں۔ حملے میں 2200 سے زائد راکٹ فائر کیے گئے البتہ حماس کا کہنا ہے کہ انہوں نے 5ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے۔
اس سے قبل حماس نے اسرائیل کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ راکٹ صبح ساڑھے 6 بجے غزہ کے متعدد مقامات سے داغے گئے۔ اسرائیلی فوج نے ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں ایک گھنٹہ سے زائد تک سائرن بجاتے ہوئے شہریوں سے بم شیلٹرز کے قریب رہنے کی تاکید کی۔
حماس کے فوجی کمانڈر محمد الضیف نے حماس میڈیا پر نشر ہونے والی ایک نشریات میں ’آپریشن الاقصیٰ فلڈ‘ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے فلسطینیوں سے ہر جگہ لڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین پر آخری قبضے کو ختم کرنے کی سب سے بڑی جنگ کا دن ہے۔ ہم نے غاصب (اسرائیل) کے تمام جرائم کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُن کی بلا احتساب اشتعال انگیزی کا وقت ختم ہو گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم آپریشن الا اقصیٰ فلڈ کا اعلان کرتے ہیں اور ہم نے ابتدائی حملے میں 20 منٹ کے اندر 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے۔ ٹیلی گرام پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں حماس نے مغربی کنارے میں مزاحمت کرنے والے جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ عرب ممالک سمیت دیگر اسلامی ممالک سے جنگ کا حصہ بننے کی اپیل کی ہے۔
امریکا نے حماس کی جانب سے حملے کی مذمت کی اور فریقین پر زور دیا کہ وہ تشدد اور انتقامی حملوں سے باز رہیں۔ امریکی دفتر برائے فلسطینی امور نے ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ دہشت گردی اور انتشار کسی چیز کا حل نہیں ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس کی افواج غزہ کے اندر کارروائی کر رہی ہیں تاہم بیان میں اِس حوالے سے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ غزہ کی پٹی پر رہائش پذیر سینکڑوں باشندے اسرائیل کے ساتھ بارڈر سے دور جانے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ رہے ہیں۔
ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بین گوریون ہوائی اڈہ آپریشنل رہے گا اور حفاظتی ہدایات اور رہنما اصولوں کے مطابق کام کرے گا۔ اسرائیل کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ ٹیمیں غزہ کے قریب جنوبی اسرائیل کے علاقوں میں بھیج دی گئی ہیں اور رہائشیوں کو گھروں کے اندر رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
فلسطینی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ متعدد اسرائیلیوں کو جنگجوؤں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ حماس کے میڈیا نے ویڈیو فوٹیج شیئر کی جس میں بظاہر ایک تباہ شدہ اسرائیلی ٹینک دکھایا گیا۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ کئی مسلح افراد غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے علاقے میں گھس آئے ہیں۔ مسلح افراد نے جنوبی اسرائیل کے قصبے سڈروٹ میں راہگیروں پر فائرنگ کی، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیجز میں شہر کی گلیوں میں جھڑپوں کے ساتھ ساتھ جیپوں میں مسلح افراد دیہی علاقوں میں گھومتے ہوئے دکھائی دیے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں اعلیٰ سیکورٹی حکام سے ملاقات کریں گے۔ وزیر دفاع یوو گیلنٹ کو اضافی فوج طلب کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ حماس نے اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کر کے ایک ’سنگین غلطی‘ کی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 2007 میں حماس کے عسکری گروپ کے بااختیار ہونے کے بعد سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس کے بعد سے فلسطینی عسکریت پسند اور اسرائیل کئی تباہ کن جنگیں لڑ چکے ہیں۔ تازہ ترین جھڑپ ستمبر میں کشیدگی میں اضافے کے بعد سے سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے غزہ کے ورکرز کے لیے بارڈر کو 2 ہفتوں کے لیے بند کر دیا تھا۔