ہم کب تک جھولا جھولیں گے؟

ہمیں بچپن سے ہی جھولا جھولنے کا شوق رہا اور دوسروں کو جھولا جھولتے دیکھنا بھی ہمیشہ اچھا لگا۔  بڑے ہوئے تو دنیا گھومنے کا موقع ملا،  دنیا بھر کے مختلف  تھیم پارکس میں جھولوں کی بہت منفرد رائڈز دیکھیں ۔

ان  میں سے کچھ جھولوں کی رائڈز اتنی خوفناک اور خطرناک تھیں کہ لوگوں کی چیخیں نکل جاتیں ۔ تاہم اس سارے کھیل میں ایک عجیب سرمستی اور سرخوشی تھی کہ دور دور سے سیاح بھاری بھرکم ٹکٹ خرید کر اور گھنٹوں قطار میں کھڑے ہو کر ان جھولوں کا انتظار کرتے۔  بھلا وقت تھا،  بھلا زمانہ تھا۔

پچھلے کچھ عرصے سے ہم ایک بار پھر جھولا جھول رہے ہیں لیکن یہ بچپن والا جھولا نہیں ہے،  مزید یہ کہ ہم اکیلے نہیں جھول رہے بلکہ یہ جھولا ہم من حیث القوم سارے جھول رہے  ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے سیاست ، معیشت اور عوام  جو جھولا جھول رہی ہے، اس کی کیفیت یہ ہے کہ کسی کے ہاتھ میں لگام ہے نہ ڈھنگ سے پاؤں رکاب میں۔ بے ہنگم سی آوارگی کی کیفیت ہے۔ بقول باقی صدیقی: 

 کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری

 اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو

یادش بخیر نون لیگ ، اس کے بعد پی ٹی ائی اور پھر  پی ڈی ایم کی حکومتوں کے درمیان پچھلے چند سالوں میں سیاست معیشت اور گورننس کا جھولا جھولا  اس قدر جھولا گیا کہ اب  قوم کو بھی چکر آنے لگے ہیں۔ نہیں معلوم کس سمت میں گئے کس سمت سے واپس ائے۔  جنوب کہاں شمال کہاں مغرب کہاں مشرق کہاں،  بس چکر ہیں جو ہمیں مسلسل چکرا رہے ہیں۔ عوام چکرا کر رہ گئے ہیں، کس کی سنیں کس کی نہ سنیں۔ نون لیگ کی سنیں تو چکر آنے لگتے ہیں، پی ٹی ائی کی سنیں تو چکرا جاتے ہیں۔ رہی پی ڈی ایم حکومت تو  وہ ساروں کو چکرا  کر خود رفو چکر ہو گئی۔  ان چکروں میں عوام کو سمجھ نہیں آرہی کہ ہم کس گھن چکر میں ہیں۔!

نگران حکومت نے زمام کار سنبھالی تو دیکھتے ہی دیکھتے روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ کو چکر آنا شروع ہو گئے۔ ڈالر روپے کو لتاڑتا ہوا دیکھتے ہی دیکھتے انٹر بینک میں 307 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 340 روپے تک  چلا گیا۔ اس سے  مہنگائی کا ایک سیلاب اگیا۔ عوام کی  چیخ و پکار  کے ساتھ ساتھ اس اچانک جھولا بازی سے کاروبار بھی چکرا کر رہ گئے۔ ابھی ان کے اوسان بحال  نہ ہوئے تھے کہ انٹر بینک میں ڈالر کی واپسی شروع ہو گئی۔ اس وقت انٹر بینک 283 اور اوپن مارکیٹ میں 286 کے لگ بھگ ہے.  واپسی کا سفر شروع ہوا ہے تو  کہنے والے موسمی ماہرین  کہتے نہیں تھکتے کہ  کچھ دنوں کی بات ہے، 250 روپے کا سنگ میل عبور ہونے کو ہے۔ لیجئیے، ایک اور چکر پھر منتظر ہے۔

 تازہ ترین جھولنے نے امپورٹرز کو بھی چکرایا  ہے اور ایکسپورٹرز کو بھی چکرا کر رکھ دیا ہے۔  امپورٹرز اب مزید انتظار میں ہیں کہ شرح مبادلہ مزید موافق ہو تو وہ اپنی ایل سیز کھولیں۔ دوسری طرف ایکسپورٹرز پریشان ہیں کہ انہوں نے جس شرح مبادلہ پر بڑی مشکل سے کانٹریکٹ کیے تھے،  ان کانٹریکٹس کی جب رقم وصول ہوگی تو شرح مبادلہ کے حساب سے انہیں نقصان ہی نقصان ہوگا۔ اس سے اگلا مرحلہ ان کے لیے اور بھی مشکل ہے کہ ورلڈ مارکیٹ میں ایکسپورٹس پر مشکل وقت ہے۔ اگلا سیلز کانٹریکٹ کریں تو وہ کن ریٹس پر کریں ؟ اگر اج کے ریٹس پر بھی کرتے ہیں تو جس طرح کچھ ماہرین اور حکومت کے کچھ وزرا یہ کہتے ہیں کہ روپیہ ڈالر کے مقابل اب 250 پہ ہی جا کر دم لے گا تو وہ  کن ریٹس پر کانٹریکٹس کریں؟

 ایکسپورٹرز  بجا طور پر چکرائے ہوئے ہیں۔ ان کا ایک تجربہ ہے کہ ڈار صاحب کے  دور میں ایک بار ڈالر ریورس ہو بھی گیا ۔ تاہم دوسری بار  کچھ دن  کے بعد روپے نے پھر پرانی شرح کی جانب سفر شروع کر دیا۔ سو ایکسپورٹرز اور امپورٹرز دونوں ہی چکرائے ہوئے ہیں۔

سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل بہت متحرک ہے۔ اجلاس پہ اجلاس ہو رہے ہیں۔ بہت اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں ڈالر کی بے محابہ سمگلنگ کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے۔ افغان ٹرانزٹ کی آڑ میں سمگلنگ اور ایرانی سرحد کے ساتھ کھلی ڈھلی سمگلنگ پر کریک ڈاؤن سے کچھ وقتی کنٹرول ہوا یے ۔ پاک افغان ٹرانزٹ کو جس طرح بہت سے کاروباری مس یوز کر رہے تھے ان اقدامات سے اس کو بھی لگام ڈالنے میں مدد ملی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سال ہا سال سے یہ سب کام تمام سیاسی اور غیر سیاسی حکومتوں کی ناک تلے ہو رہے تھے ، آج اگر نگران حکومت اور سپیشل انویسٹمنٹ سہولت کونسل نے  آنکھ کھولی اور ہاتھ ڈالا ہے تو نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔  یہی کام ماضی میں کیوں نہ ہوئے ؟ کیا مفادات اس کے آڑے  آتے رہے یا کچھ اور مصلحتیں پیش نظر تھیں؟ 

چلیے، دیر آید درست آید ۔ اگر  صحیح سمت  قدم اٹھانا شروع کیا ہے تو اچھی بات ہے۔  سپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل پوری تگ و دو میں ہے کہ وہ فوری طور پر دوست ممالک سے 11 ارب ڈالر کے لگ بھگ سرمایہ کاری کا بندوبست کر سکے ۔ اس سلسلے میں سعودی عرب اور کچھ دوست ممالک کے ساتھ معاملات ایڈوانس سٹیج پر بتائے جا رہے ہیں۔ یہ اچھی ڈیویلپمنٹ ہے۔ اللہ کرے کہ ماضی کی طرح  یہ صرف اعلانات کی حد تک نہ رہیں بلکہ یہ سرمایہ کاری عملی طور پر ممکن بھی ہو جائے۔

تاہم ضروری ہے کہ  ماضی میں روا رکھی گئی حکومتی پالیسیز ، ٹیکس نظام اور گورننس پر بھی نظر ثانی کی جائے  کہ ان پالیسیوں نے اقتصادی  ڈھانچے  کو رینٹ سیکنگ، اندرونی و بیرونی قرضوں اور درآمدات کی چراہ گاہ بنا کر رکھ دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے ہاں بیلنس آف پیمنٹ کا کرائسز ہر دوسرے چوتھے سال نمایاں ہوتا رہا ، قرض بڑھتا رہا،  قرض اور سستی درآمدات کے دھکے سے جی ڈی پی گروتھ کا جھولا کبھی اوپر کبھی نیچے جھولتا رہا۔ اس جھولا جھلائی میں پوری اکانومی کو کہیں بھی استحکام نصیب نہ ہوا۔

اب جب کہ نگران حکومت اپنے تئیں پوری کوشش کر رہی ہے کہ وہ بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کر سکے،   بظاہر لوکل انویسٹرز کی طرف وہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ اگر ملک میں پائیدار انڈسٹریل گروتھ کا ہدف حاصل کرنا ہے تو مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال کرنا ہوگا۔ پچھلے 20 سالوں سے انڈسٹری میں  معکوس ترقی ہوئی۔ اس دوران بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافے اور مہنگائی نے کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس الٹ پلٹ کر رکھ دی ہے۔ انڈسٹری کی مسابقت کو مستقل گرہن کا سامنا ہے۔ ماضی کی اقتصادی پالیسیوں اور ٹیکسیشن کی جھولا بازیوں نے انڈسٹری کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا اور ایشیا کے بہت سارے ممالک میں پچھلے 20 سالوں میں جہاں دھڑا دھڑ صنعتی ترقی  ہوئی ہے ہمارے ہاں عملاً اسی تیزی سے  ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوئی۔

  پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ لوکل انویسٹرز اور  انڈسٹری کو  بھی مناسب اور موافق گورننس ماحول اور استحکام دیا جائے تاکہ  ملکی پیداوار میں  خاطر خواہ اضافہ ہو۔ جب تک لوکل انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوگی،  پانچ سے دس سالہ پالیسیاں واضح نہیں ہوں گی، سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کی مناسب منصوبہ بندی نہیں کر پائیں گے۔ اسی طرح ایکسپورٹ سیکٹر کی مسابقت جب تک بحال نہیں ہوگی ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا روائیتی ایکسپورٹ سیکٹر جمود کا شکار ہے۔ ایکسپورٹ باسکٹ میں نئے پروڈکٹس اور سیکٹرز کو شامل کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے مناسب پالیسی فریم ورک اور لوکل اور بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، جوائنٹ وینچرز اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر جیسے معاملات پر ہمہ گیر اور دور رس اقدامات  کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ موافق گورننس ماحول مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ 

موجودہ اقتصادی اشاریوں اور شرح مبادلہ میں پائیداری اوراستحکام تب ہی ممکن ہے  جب ملک میں سیاسی استحکام بھی موجود ہو، گورننس شفاف اور بہتر ہواور ماحول موافق ہو۔ ضرورت امر کی ہے کہ جھولا بازی کی روایت اور ماحول ختم ہو تاکہ استحکام  اپنے پاؤں پسارے،  پولیٹیکل اکانومی مستحکم ہو، عوام کو سکون آئے اور  مسلسل جھولا جھولنے سے  انہیں  جو چکر ا رہے ہیں ان سے نجات ملے۔