افغان پالیسی میں تبدیلی کیوں؟
- تحریر مظہر چوہدری
- ہفتہ 07 / اکتوبر / 2023
اگرچہ دیگر مسلم ممالک کی نسبت افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات نہ صرف شروع دن سے زیادہ تر کشیدہ ہی رہے ہیں بل کہ مختلف ادوار میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں اچانک غیر معمولی اتار چڑھاؤ بھی آتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود افغان پالیسی میں اچانک آنے والی حالیہ بڑی تبدیلی پر کئی حوالوں سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اگرچہ سیاسی وصحافتی حلقوں سمیت زیادہ تر افرادنے کئی دہائیوں سے ملک میں مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی کی حمایت کی ہے لیکن سیاسی و صحافتی حلقوں میں پالیسی کی ٹائمنگ اور طریقہ کار پر سخت تحفظات کا اظہاربھی کیا جا رہا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پالیسی میں اتنا بڑا"شفٹ"چند ماہ کی مہمان نگران حکومت کیوں کر رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہماری بڑی سیاسی جماعتوں کی افغانستان خاص طور پر حالیہ طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کی پالیسی ایک جیسی نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان شروع دن سے امریکہ کے خلاف برسرپیکار طالبان کو افغان مزاحمت کا نام دیتے رہے بل کہ دو سال قبل افغانستان سے امریکہ کی پسپائی پر انہوں نے بے باک قسم کا بیان (افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں)دے کے مغربی پریس کو بھی حیران کر دیا تھا۔
قارئین کے ذہن میں ہوگا کہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں اختیار کی گئی طالبان پالیسی خاص طور پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور ان کی ملک میں آبادکاری کی کوششوں کے حوالے سے ہونے والے خفیہ مذاکرات پر اس وقت کی تمام سیاسی جماعتوں نے سخت تحفظات اور اعتراضات اٹھائے تھے۔دیکھا جائے تو اب بھی صورت حال قریباً ویسی ہی ہے۔ایک ماہ کے قلیل نوٹس پرغیر قانونی طور پرمقیم افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی بناتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے اختیار کی گئی پالیسی پر دوسرا بڑا اعتراض اس کی ٹائمنگ پر بھی کیا جا رہا ہے۔ظاہری بات ہے کہ اس طرح کی بڑی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے کافی وقت درکار ہوگا۔ طالبان حکومت کے نمائندے اس پالیسی کوناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا کہہ رہے ہیں۔اگر حکومت نے افغان طالبان کے نظر ثانی کے مطالبے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے افغان شہریوں کے خلاف کاروائی جاری رکھی تو اس کے ردعمل میں طالبان یا اس کے حمایتی گروہ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کے لیے کسی بھی انتہائی اقدام تک جا سکتے ہیں اور ایسا ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ ممکنہ شیڈول پر انتخابات کا نعقاد مشکل ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔
زیادہ بہتر تو یہی ہوتا کہ موجودہ نگران حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اس پالیسی کا اعلان کر تی اور غیر قانونی طور پر افغان شہریوں کو اپنے ملک واپسی کے لیے کم از کم چھ ماہ کا وقت دے دیا جاتا۔الیکشن کے بعد جو بھی حکومت بنتی وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بناتی۔افراتفری میں پالیسی میں اتنا بڑا"شفٹ" اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ فوری طور پر غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے انخلا کی کاروائی شروع بھی کر دی گئی ہے۔انتہائی عجلت میں شروع کیے گئے اس اقدام پر لامحالہ عالمی ردعمل تو آنا ہی تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل تو پہلے ہی پناہ گزینوں کے لیے خوف کی فضا پیدا کرنے پرپاکستان سے ظہار تشویش کرتے ہوئے افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کرنے یا انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار نے بھی ایک ماہ کے اندر اندر افغان شہریوں کو پاکستان سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی پناہ گزین کی واپسی رضاکارانہ اور بغیر کسی دباؤ کے ہونی چاہیے تاکہ ان لوگوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے اختیار کیا جانے والا پاکستان کا یہ اقدام افغان حکومت کو شدت پسندی کے معاملے پر دباؤ میں لانے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعدکچھ تو کالعدم ٹی ٹی پی کے حوصلے ویسے ہی بڑھ گئے تھے اور کچھ سابقہ پی ٹی آئی حکومت میں انہیں ملک میں آباد کرنے کے فیصلے نے انہیں پھر سے طاقت ور بنا دیا تھا۔ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے کالعدم ٹی ٹی پی قبائلی علاقوں کا سٹیٹس بحال کرا کے وہاں پھر سے اپنی رٹ قائم کرنے کی خواہاں تھی اور آج بھی ہے ۔اور اس مقصد کے لیے وہ سیکورٹی اداروں سمیت عوامی مقامات پر حملے کرکے ریاست پر باؤ بڑھاتی رہی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک سال میں ہونے والے زیادہ تر دہشت گردی کی کاروائیوں میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔
عید میلاد النبی کے جلسوں میں دہشت گردی کی کاروائیوں کے بعد ریاست کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ملک میں غیر قانونی طریقے سے مقیم افغان شہریوں کے خلاف فوری کاروائی کا فیصلہ کیا گیا۔یورپی یونین کے ادارہ برائے پناہ گزین کے پچھلے سال کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت 30لاکھ افغان شہری مقیم ہیں۔ان میں سے 14لاکھ وہ ہیں جو "پی او آر" کارڈہولڈرز یعنی رجسٹرڈ پناہ گزین ہیں، ساڑھے آٹھ لاکھ ایسے افغان شہری ہیں جن کے پاس افغان سٹیزن کارڈ ہے جب کہ پونے آٹھ لاکھ کے قریب ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔
کوئی شک نہیں کہ افغانستان کے حوالے سے سٹریٹجک ڈیپتھ کی پالیسی بل آخر ناکام ثابت ہوئی ہے لیکن ملک میں مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی پالیسی پر مکمل عمل درآمد شاید اب بھی نہ ہو سکے۔غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس بھیجنے بارے اس سے پہلے کئی ایک مرتبہ کوششیں کی گئیں لیکن ہر بار یا تو بین الااقوامی دباؤ آڑے آتا رہا یا پھر ہم امریکہ اور اقوام متحدہ سے چند کروڑ ڈالرز لے کے معاملے کو ٹالتے رہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں مقیم قانونی اور غیر قانونی افغانی پاکستانی معیشت اور معاشرت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اوراب اگر پھر سے انہیں واپس بھیجنے کی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے۔ لیکن اس حوالے سے افراتفری میں کیے گئے کسی ناخوش گوار اقدام کی بجائے صبر و تحمل اور تدریج سے یہ مشکل ترین ٹاسک پورا کرنا چاہیے۔
اس کٹھن کام میں پانچ سال بھی لگ جائیں تو مضائقہ نہیں۔پہلے مرحلے میں صرف ایسے افغان شہریوں کو واپس بھیجا جائے جن کے پاس کسی بھی قسم کی کوئی قانونی دستاویز نہیں۔ دوسرے مرحلے میں افغان شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے جب کہ تیسرے اور آخری مرحلے میں رجسٹرڈ افغان شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔