اسرائیل پر ایک ہزار فلسطینی جنگجوؤں نے حملہ کیا

  • اتوار 08 / اکتوبر / 2023

حماس اور اسرائیل کے درمیان دوسرے روز بھی لڑائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ  ایک ہزار سے زائد فلسطینی جنگجو اسرائیلی علاقے میں داخل ہوئے جنہیں ابھی تک ختم نہیں کیا جاسکا۔

اتوار کی صبح اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور متعدد رہائشی کمپلیکس اس بمباری کی زد میں آئے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے اور کسی اپارٹمن ہاؤس پر حملہ سے پہلے شہریوں کو نکلنے کی مہلت دی جاتی ہے لیکن حماس ان دعوؤں کی تردید کرتا ہے۔

اسرائیل کی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل کے مختلف علاقوں سے حماس کے داخل ہونے والے عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ بیان کے مطابق ہفتے کو حماس کے حملے کے بعد غزہ کی پٹی سے ملحقہ جنوبی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں متعدد مقامات پر عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جن میں اسرائیلی شہر سدیروت بھی شامل ہے۔

امریکہ کے نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو میں اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس کا کہنا تھا کہ ہفتے کو ہونے والے حملے کے بعد حماس کے لگ بھگ ایک ہزار جنگجو اسرائیل میں داخل ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق وسطی غزہ میں اسرائیلی فورسز کے فضائی حملے میں 14 منزلہ عمارت تباہ ہوئی ہے جس میں اپارٹمنٹس کے علاوہ حماس کے مبینہ دفاتر تھے۔

حماس نے ہفتے کی صبح اسرائیل پر بری، بحری اور فضائی راستوں سے حملے کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے بھی غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی کارروائیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں۔

دوسری طرف حماس نے بھی رات بھر اپنے حملے جاری رکھے اور تل ابیب سمیت متعدد شہروں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔ حملوں کے بعد غزہ کا بیشتر حصہ رات بھر تاریکی میں ڈوبا رہا۔ اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل، غزہ کو بجلی، ایندھن اور دیگر سامان کی فراہمی بند رکھے گا۔

نیتن یاہو نے حماس کے حملوں کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس دن کو یومِ سیاہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں حماس پر پوری طرح طاقت سے حملہ کرے گی۔

حماس کا ہفتے کو اسرائیل پر کیا جانے والا حملہ اسرائیل کے خفیہ اداروں کے لیے حیران کن قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے اہم ترین خٖفیہ ادارے ‘موساد’ کے سابق سربراہ ایفریم ہیلوی نے امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ سے گفتگو میں کہاکہ اسرائیل کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ حملے کی کوئی پیشگی اطلاع یا وارننگ نہیں تھی۔

ایفریم ہیلوی کا کہنا تھا کہ یہ فلسطینیوں کا پہلا حملہ ہے جس میں اسرائیل کے اندر گھسنے میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ عسکریت پسند گروپ نے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں تین ہزار سے زائد میزائل اسرائیل کے مختلف علاقوں پر داغے جو ان کے بقول ان کی خیال سے بھی بڑھ کر ہے۔ ان کے بقول حماس کا یہ آپریشن کافی کامیاب ثابت ہوا۔

حماس کے غزہ سے اسرائیل میں زمینی، سمندری اور فضائی راستوں کے ذریعے داخل ہونے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 250 اسرائیلی ہلاک اور ایک ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کے ان فوجیوں اور شہریوں کی تعداد ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے جنہیں یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیل کے شہریوں یا فوجی اہل کاروں کو یرغمال بنانا اسرائیل کے لیے ایک انتہائی نازک معاملہ قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف فلسطینی محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 200 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جب کہ 1600 افراد زخمی ہوئے ہیں۔