بھوک!

سورہ القریش میں اللہ نے قبیلہ قریش کے لوگوں کو اپنی جو نعمتیں بطور خاص یاد کرائی ہیں وہ ہیں بھوک سے نجات اور خوف میں امن..... آج پاکستان کے عوام کو درپیش مسائل میں یہی دو مسئلے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

ہمارا وطن آج اس خطۂ عرب کی طرح حا لتِ خوف و ہراس میں مبتلا ہے جہاں اُس وقت کوئی سفر و حضر میں محفوظ نہیں تھا۔ پورے ملک میں کوئی بستی ایسی نہ تھی جس کے لوگ راتوں کو چین سے سو سکتے ہوں، انہیں ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ نہ معلوم کب کوئی غارت گر گروہ ان پر چھاپہ مار کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دے۔  کوئی قافلہ اطمینان سے سفر پر نہیں جا سکتا تھا کیونکہ راستے میں جگہ جگہ ڈاکہ پڑنے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ تجارتی قافلوں کو راہ میں پڑنے والے مقامات سے بحفاظت گذرنے کے لئے جگہ جگہ بااثر قبائلی سرداروں کو رشوت دے کر تحفظ کی ضمانت لینا پڑتی تھی۔ ان حالات میں اللہ نے اہل قریش کو کعبہ کے متولی ہونے کی برکت سے جو انعامات عطا فرمائے ان میں بھوک سے بچانے اور سفر میں خوف سے بچا کر امن دینے کی نعمتوں کا احسان جتایا۔

قریش کعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بھوک میں کھانا اور خوف سے امن کی نعمت سے فیضیاب ہوئے جبکہ ہم آج رب کعبہ سے تعلق توڑ کر ان بنیادی نعمتوں سے محروم ہیں جن کی وجہ سے پورا ملک حالت خوف کے باعث معرض خطر میں ہے۔ اور کوئی شخص بھی   سفر و حضر میں محفوظ نہیں۔ ہر کوئی ایک انجانے خوف میں مبتلا ہے۔ ایسے میں بھوک کے عفریت نے اپنا جال بچھا کر کروڑوں لوگوں کو اس بری طرح سے پھانس رکھا ہے کہ اس جال سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور اسی مایوسی و ناامیدی میں درجنوں لوگ خود  اور بہت سے اپنے بچوں سمیت موت کو گلے  لگا رہے ہیں۔

دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی تک دستیاب نہیں۔ کچھ حوصلہ مند زندگی کرنے کا کشٹ کاٹنے کے لئے ملک بدر ہو رہے ہیں کیونکہ یہ تصور نوجوان نسل کے ذہنوں میں جڑ پکڑ چکا ہے کہ پاکستان میں ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ بلکہ کسی بھی عام آدمی کا کوئی مستقبل نہیں۔ یہ ملک انگریز کی پروردہ ریاستی مشینری نے اپنے اور اپنے خیر خواہ جاگیردار و سرمایہ دار طبقے کے لئے تو جنت بنا دیا ہے جبکہ باقی کی 90 فیصد آبادی کو غلام بنا کر رکھ دیا ہے، جن کو اپنے گھر کی چھت بھی میسر نہیں، جن کے نصیب میں ہے انہیں اپنے ہی گھروں کا سرکار کو مختلف ٹیکسوں کی شکل میں کرایہ دینا پڑتا ہے۔

اب ایسے ملک میں رہ کر کوئی کیسے جئے جہاں روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہوں، ہر سال غربت کی لکیر کے نیچے جانے والوں کی رفتار روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ نوبت بایں جا رسید کہ درمیانہ طبقہ پس کر رہ گیا ہے اور اب تو یہ بھی مفلس و نادار لوگوں کے طبقے میں شامل ہو چکا ہے۔ اس روح فرسا بدترین صورتحال پر پیدا ہونے والے دل کے کرب کو اندر کے شاعر نے کچھ نظموں میں یوں بیان کیا ہے :
’آج کی تصویر‘
سڑک کنارے
فاقہ کش کی لاش کے پاس
گرے ہوئے تھے
 دو روپے کا سکہ
 اک سوکھی سی روٹی
 کچھ تھوڑی سی دال
 چھ بچوں کی بھوک!

پچھتاوا‘
ماچس کی ڈبیا میں رکھے ہوئے دس روپے
 کچرے کے ڈبے میں کیسے گرے
اسے یاد کب تھا
 اسے تو یہ پچھتاوا کھائے چلا جا رہا تھا
کہ دس دن سے
چولہا جلانے کی نوبت نہ آنے سے یہ حادثہ ہو گیا!

’بجنگ آمد‘
اس نے سنا تھا
کہ مرتا ہوا آدمی آخری سانس لیتے ہوئے
جو بھی سوچے
 وہی اس کی آنکھوں میں جم جاتا ہے
 اس نے اسٹریچر پہ رکھی ہوئی لاش کی
 پتلیاں کھول کر آنکھوں میں جھانکا
 تو حیرت زدہ رہ گیا
 وہاں ایک ادھ کھائی روٹی کے ساتھ
 خود کش دھماکے کی جیکٹ پڑی تھی!

’معذرت‘
پرندو!
معذرت چاہتا ہوں
 کہ میں نے درختوں تلے سے
 وہ سب دانا دنکا سمیٹا اور گھر لے گیا
جو تمہارے لئے تھا
 کہ دو دن کے فاقے سے روتے ہوئے
تین بچوں کا رونا،  بلکنا اور ہلکان ہونا
نہ دیکھا گیا
دو دن کے وقفے سے
 پانی میں ابلا ہوا باجرہ
میرے بچوں نے کھایا تو تم کو دعا دی
 مگر ان کی ماما تو پھر میں نے بھوکی سلا دی!