حماس اسرائیل تنازعہ میں مظلوم کون ہے؟

اسرائیل نے سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے کہ حماس کے حملہ میں 600 اسرائیلی شہری اور فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک سو سے زیادہ اسرائیلی یا دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندوں کو جبراً حراست میں لے کر غزہ منتقل کردیا گیاہے۔ ابھی تک    اسرائیل میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والوں کی حتمی تعداد کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔  اس کے جواب میں  اسرائیل نے فوری طور سے غزہ پر  شدید بمباری کی ہے   جس میں املاک کی تباہی کے علاوہ چار سو کے قریب   افراد جاں بحق  ہوئے ہیں۔

ایران یافلسطین کے صدر   محمود عباس کے علاوہ کسی  نے حماس کی حمایت میں بیان نہیں دیا۔ البتہ پاکستان سمیت متعدد ممالک کے قائدین نے تنازعہ ختم کرنے اور دو ریاستی اصول کی بنیاد پر اس مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قطر سمیت بعض ممالک نے البتہ یہ کہا ہے کہ اس افسوسناک تصادم کی وجوہات خود اسرائیل کی پیدا کردہ ہیں جس نے فلسطینیوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا ہؤا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ،   برطانیہ ،  نیٹو اور متعدد یورپی ممالک حماس کے حملے کو دہشت گردی قرار دے کر  اس کی مذمت کررہے ہیں۔ اس مؤقف کے مطابق اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے خاص طور سے اسرائیل کی اضافی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ اور دیگر ساز و سامان کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ حالانکہ اسرائیل ایک طاقت ور ملک ہے اور اس کی فوج کم از کم مشرق وسطیٰ میں استعداد اور جنگی ساز و سامان کے حوالے سے بہترین  فوج کہی جاسکتی ہے۔ اس کے باوجود امریکہ جیسی سپر پاور فی  الوقت جنگ سے گریز کا مشورہ دینے کی بجائے اس پر مزید تیل چھڑکنے کی کوشش کررہی ہے۔

حماس کے حملہ پر  تنقید کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حماس  کے جنگجوؤں نے حملوں میں   شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حملہ آوروں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی  گولیوں کی زد میں شہری ہیں، بچے بوڑھے یا خواتین ہیں یا مسلح فوجی۔ انہوں نے بلاامتیاز فائرنگ کرکے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنے کی کوشش  کی۔  اسی طرح جن لوگوں کو ’اغوا‘ کرکے غزہ منتقل کیا گیا ہے، ان میں فوجیوں کے علاوہ شہری بھی شامل  ہیں۔ ان میں بچے اور خواتین بھی ہیں ۔   یہ کارروائی چونکہ اسرائیل کی سرزمین پر ہوئی ہے اس لئے اسے  جارحیت کا نام دیا جارہا ہے۔ ناقدین  کا کہنا ہے کہ حماس نے  شہریوں کو نشانہ بنا کر بدترین جرم کا ارتکاب کیا ہے، اس لیے وہ کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں۔

تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا  جاسکتا ہے کہ اسرائیل کی  بمباری میں  بھی شہری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور  ہلاک ہونے والے لوگوں میں زیادہ تعداد شہریوں  کی ہے جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسرائیل کے اعلان کے مطابق اس نے اب  تک غزہ میں 400 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ  کسی اپارٹمنٹ کمپلیکس پر بمباری سے پہلے وہاں رہنے والے لوگوں کو وارننگ دے دی  جاتی ہے تاکہ وہ اس مقام کو چھوڑ  دیں۔  عام طور سے ایسی وارننگ چند منٹ پہلے دی جاتی ہے تاکہ اسرائیلی حکومت اپنا نام نہاد ’انسانی  مہذب چہرہ ‘ دکھانے کے لیے یہ عذر تراش سکے کہ درحقیقت  حماس کے جنگجوؤں پر حملہ کیا جاتا ہے لیکن  چونکہ یہ ’دہشت گرد‘ شہریوں کو ڈھال بناتے ہیں اس لیے بعض اوقات شہری ہلاکتیں بھی ہوجاتی ہیں۔ حالانکہ  اسرائیل کی ہر بمباری میں شہری ہی مارے جاتے ہیں۔ حالیہ حملوں میں  بھی ایک ہسپتال، ایک مسجد اور ایک ایمبولنس اسرائیل  بموں کی زد میں آچکے ہیں۔

مغربی میڈیا کے مطالعہ سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر ایک طرف شہریوں کو نشانہ بنانے  کے نام پر حماس کی مذمت کی جاتی ہے اور اسے وحشیانہ   اور غیر انسانی ہتھکنڈے کہا جاتا ہے تو دوسری طرف غزہ پر اسرائیل کی اندھادھند بمباری کی مذمت  ضروری نہیں  سمجھی جاتی۔   نہ ہی خبروں، تبصروں یا سیاسی بیانات میں  یہ کہنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ  شہریوں کو جنگ  کا لقمہ بنانا غلط اور ناقابل قبول رویہ ہے۔ اگر یہ  اصول  آزادی کی جد و جہد کرنے والے کسی مسلح گروپ پر لاگو ہوتا ہے تو  خود کو  ریاست کہلانے والے کسی ملک کو بھی اسی اصول پر کاربند ہونا چاہئے۔ اگر حماس کے حملوں میں شہریوں کی  ہلاکتیں ناقابل قبول اور غیر انسانی  ہیں تو اسرائیل جیسی طاقت ور فوج جب نشانہ لے کر فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرتی ہے تو یہ فعل بھی قابل نفرین  و مذمت ہے۔

غزہ 365  مربع کلو میٹر پر مشتمل ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جسے گزشتہ 17 سال سے  محصور کیا گیا ہے۔ اسرائیل اس علاقے سے آمد و رفت کی اجازت نہیں دیتا اور عملی طور سے وہاں آباد شہریوں کو نقل و حرکت کی آزادی نہیں ہے۔  ناروے میں مہاجرین کی امداد کے لیے کام کرنے والے ادارے ’مہاجرین کی مدد‘ کے جنرل سیکرٹری  یان ایگے لاند نے آج ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ غزہ  میں 24 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ ان میں سے  70 فیصد کی عمریں 25 سال  سے کم جبکہ تیس  فیصد کی عمر15سال سے کم ہے۔ گویا غزہ کی نصف آبادی بچوں پر مشتمل ہے ۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے  کہ جب اسرائیل، شہریوں کو ’بھاگنے یا جان  بچانے‘ کا مشورہ دیتا ہے تو عملی طور پر ان کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب بے دریغ بمباری کی جاتی ہے تو  جاں بحق ہونے والے لوگوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں  پر مشتمل  ہوتی ہے۔ البتہ طاقت ور دنیا کی زیادہ تعداد کو اسرائیل کی مظلومیت اور حق دفاع کا خیال تو آتا ہے لیکن فلسطینی بچوں  اور شہریوں کے خون ناحق کے خلاف  آواز اٹھانا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔

 ایک روز قبل اسرائل پر  حماس کے حملے  نے درحقیقت اسرائیلی حکومت، عوام اور  عسکری قیادت کو  جھنجوڑ کررکھ دیا ہے۔ پچاس سال قبل عرب اسرائیل جنگ کے بعد  اسرائیلی سرزمین پر یہ سب سے خوفناک حملہ ہے جس میں اتنی کثیر تعداد میں  ہلاکتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔   غزہ کے ساتھ ملنے والے متعدد قصبوں میں اب تک حماس کے جنگجو  ؤں کے ساتھ لڑائی ہورہی ہے اور اسرائیلی فوج متعدد علاقے ابھی  محفوظ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔   یہ واقعہ اسرائیل کے لیے شدید ہزیمت  اور شرمندگی کا سبب بنا ہے۔ اس کی انٹیلی جنس اس  حملہ کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس شرمندگی میں اب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگ جویانہ بایانات دے رہے ہیں ۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے باقاعدہ اعلان جنگ کیا ہے۔  قیاس  ہے  اس اعلان کے بعد غزہ پر  زمینی حملہ کیا جائے گا اور اسرائیلی فوج ’حالت جنگ ‘ میں ہونے کے عذر پر غزہ کے شہریوں  کونشانہ بنانے میں آزاد ہوگی۔

اس وقت اسرائیل کے لیے سب سے بڑا چیلنج  ایک سو کے لگ بھگ ان فوجیوں اور شہریوں کو رہا کروانا ہے جنہیں حماس کے جنگجو  گھیر کر غزہ لے گئے ہیں ۔ خیال ہے کہ ان لوگوں کو غزہ میں مختلف مقامات پر زیر زمین پناہ گاہوں میں رکھا جائے گا تاکہ نہ تو وہ اسرائیل کی بمباری میں ہلاک ہوں اور نہ اسرائیلی فوج انہیں آزاد کروانے کا کوئی اقدام کرسکے۔ کسی ماہر کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ غزہ پر بمباری اور حملہ کے باوجود اسرائیلی فوجی کیوں کر یرغمال بنائے گئے لوگوں کو رہا کروا سکیں گے؟     البتہ جنگ جوئی کے نعروں میں  اسرائیلی  لیڈر اس اہم سوال پر کوئی بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور  حماس کے حملہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں وہ عسکری قوت کا استعمال کرکے حماس کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

تاہم ماضی کے تجربات سے سمجھاجاسکتا ہے کہ ایسی کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ طاقت کے زور پر غزہ سے اسرائیل کے یرغمالیوں کی بازیابی ناممکن ہوگی۔  اس کے لیے شاید اسرائیل کو پورے غزہ پر قبضہ کرنا پڑے لیکن چوبیس لاکھ لوگوں کے علاقے پر قبضہ کے  باوجود وہ کیوں کر اتنے بڑے علاقے سے اپنے فوجی و شہری تلاش کرے گا؟ اس کا ایک ہی حل ہے کہ اسرائیل  مصر جیسے کسی ملک کے تعاون سے حماس سے بات چیت کا آغاز کرے اور جیسا کہ دو عسکری طاقتوں کے درمیان   لین دین کا اصول ہے کہ کچھ قیدی رہا کروانے کے لیے دشمن کے کچھ   لوگ رہا کرنا پڑتے ہیں۔  اسرائل  کو بالآخر اپنے شہری آزاد کروانے کے  لیے حماس سے لین دین کرنا ہوگا اور ان کی شرائط کو ماننا اس کی مجبوری ہوگی۔  یہ طریقہ بجائے خود اس بات کا اعتراف ہوگا کہ حماس کوئی دہشت گرد گروہ نہیں ہے بلکہ  اس نے اسرائیل پر حملہ کرکے اپنا حق دفاع استعمال کیا ہے اور اپنے علاقے کے ناجائز بلاکیڈ اور فلسطینی سرزمین پر  غیر قانونی قبضے  کے خلاف مسلح جد و جہد کی ہے۔ فی الوقت اسرائیل اور اس کے حواری اس    اصول کو تسلیم کرنے  پر آمادہ نہیں ہیں۔

حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی کارروائی میں انسانی جانیں تو ضرور تلف ہوں گی لیکن نہ تو  فلسطین  آزاد ہوسکے گا اور نہ ہی اسرائیل محفوظ  رہ سکے گا۔ بلکہ اس حملہ کے بعد اب اسرائیلی شہریوں کا یہ گمان ختم ہوجائے گا کہ ان کی طاقت ور فوج  انہیں ’دشمن‘ سے بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح جو غیر ملکی سیاح  اسرائیل کی عسکری طاقت پر بھروسہ کرکے   اسرائیلی علاقوں میں  قیام کے لیے جاتے تھے ، اب وہ بھی سفر سے پہلے متبادل منزل پر ضرور غور کریں گے۔ مشرق وسطی میں شروع ہونے والی یہ جنگ واضح کرتی ہے کہ فلسطین کے مسئلہ  کاحل  ہی واحد راستہ ہے۔ خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام اور بقائے باہمی کا طرز عمل اختیار کیے بغیر تصادم، ہلاکت و تباہی کا  راستہ نہیں روکا جاسکتا۔

حماس  اور دیگر فلسطینی گروہوں کو بھی  مسلح تصادم کی بجائے بات چیت  کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں  لیکن سب  سے پہلے یہ بات اسرائیلی حکام کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی جو فسلطینیوں کو  برابر کا فریق ماننے اور ان کے علاقوں سے  بے دخل ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔