اسرائیل کی طرف سے غزہ کا مکمل محاصرہ کرنے کا اعلان، سولاکھ سے زیادہ لوگ گھروں سے محروم ہوگئے
حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اب تک سوا لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اس دوران غزہ پر اسرائیل کی بمباری جاری ہے اور دونوں طرف سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1200 سے تجازو کرگئی ہے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی او سی ایچ اے نے بتایا ہے کہ غزہ میں اب تک ایک لاکھ 23 ہزار 538 افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ خوف، عدم تحفظ اور گھروں کا تباہ ہونا ہے۔ 73 ہزار سے زائد افراد نے اسکولوں میں پناہ لے رکھی ہے، جن میں سے کچھ افراد کو ہنگامی شیلٹرز دیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کو اندیشہ ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔
اسرائیلی فوجیوں نے آج غزہ کی پٹی کے ارد گرد کے صحرا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور جنگ زدہ سرحدی علاقے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کارروائیاں کی ہیں۔ حماس کے ساتھ جھڑپوں کے تیسرے روز تک ہلاکتوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں 700 شامل ہیں جبکہ غزہ پر بمباری میں پانچ سو فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی گروپ حماس کی جانب سے غزہ سے اچانک حملہ شروع کرنے کے ایک روز بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایک طویل اور مشکل جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔ حماس کے جنگجوؤں نے 100 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز کے مطابق حماس کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد سے اب تک 700 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اس کا سب سے بڑا نقصان ہے۔
ہزاروں اسرائیلی افواج کو جنوب میں حماس کے جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے، جہاں سڑکوں اور قصبے کے مراکز میں شہریوں کی لاشیں بکھری ہوئی نظر آرہی ہیں۔ تنازع کا عالمی سطح پر اثر پڑتا نظر آرہا ہے۔ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے ہلاک، اغوا یا لاپتا ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ان میں برازیل، برطانیہ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، میکسیکو، نیپال، تھائی لینڈ اور یوکرین شامل ہیں۔
تیل کی قیمتیں آج 4 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں، جس سے خام مال سے مالا مال خطے سے سپلائی کے ممکنہ دھچکوں کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز میں برینٹ آئل کی قیمت 4.7 فیصد اضافے کے ساتھ 86.65 ڈالر ہوگئی اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 4.5 فیصد بڑھ کر 88.39 ڈالر پر رہا۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے حماس کے حملوں کے بعد گزشتہ روز اضافی فوجی امداد بھیجتے ہوئے امریکی بحری جہازوں اور جنگی طیاروں کو اسرائیل کے قریب جانے کا حکم دیا ہے۔ پینٹاگون نے کہا کہ وہ طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ‘ اور اس کے ساتھ آنے والے جنگی جہاز مشرقی بحیرہ روم میں بھیج رہا ہے اور علاقے میں لڑاکا طیارہ اسکواڈرنز بھی بھیج رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے گزشتہ روز اس بات کی تصدیق کی کہ بحری جہاز اور ہوائی جہاز اپنی نئی پوسٹوں کی جانب بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ ان جھڑپوں میں متعدد امریکی شہری مارے گئے ہیں۔ غزہ کی پٹی سے ہفتے کے روز ہونے والے اچانک حملے کے بعد وائٹ ہاؤس نے اسرائیل کی حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے دیگر فریقین کو خبردار کیا کہ وہ اس تنازع کا حصہ بننے سے باز رہیں۔
امریکی صدر نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے لیے اضافی امداد بھیجی جا رہی ہے، آنے والے دنوں میں مزید امداد اسرائیل پہنچ جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن اور نیتن یاہو نے فون پر بات کی ہے۔ امریکی صدر نے حماس کے حملے کے پیش نظر اسرائیل کی حکومت اور عوام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا وعدہ کیا۔
بعد ازاں حماس نے الزام عائد کیا کہ امریکہ طیارہ بردار بحری جہاز بھیج کر ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت کا باقاعدہ حصہ بن رہا ہے۔