اسرائیلی باشندوں کی طرح فلسطینی شہری بھی انسان ہیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 09 / اکتوبر / 2023
حماس کی مسلط کردہ جنگ میں اسرائیل نے 900 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں خوف و ہراس کے ساتھ ساتھ شدید غم و غصہ کا ماحول پایا جاتا ہے۔ عام لوگ بدلہ لینے اور فلسطینیوں کو تباہ و برباد کردینے کی باتیں کررہے ہیں۔ نیتن یاہو کی سیاسی لحاظ سے کمزور اور اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ حکومت حماس کے حملہ کے بعد پیدا ہونے والی جذباتی کیفیت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دوسری طرف غزہ پر بمباری کے نتیجہ میں مسلسل جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک روز پہلے وزیر اعظم نیتن یاہو نے باقاعدہ اعلان جنگ کیا تھا۔ اس دوران میں امریکہ نے ’علاقائی سلامتی‘ کے نام پر اپنا بحری بیڑہ اور جنگی طیارے بحیرہ روم میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے دنیاکے باقی ماندہ ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس تنازعہ میں فریق نہ بنیں۔ حیرت ہے کہ جس تنازعہ میں امریکہ ایک سپر پاور کی بجائے خود جنگ کا فریق ہے اور عملی جنگی اقدامات کیے جارہے ہیں ، وہ کس منہ سے دوسرے ملکوں کو جنگ میں مداخلت سے باز رہنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
یہ تو ضرور ہے کہ روس یوکرین کی جنگ میں مصروف ہونے کی وجہ سے اور چین متعدد دوسرے محاذوں پر امریکہ کے ساتھ پنجہ آزمائی کے سبب شاید مشرق وسطیٰ کی جنگ میں عملی مداخلت سے گریز کریں گے۔ البتہ ایران اور لبنان کی حزب اللہ کو اس تنازعہ سے دور رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم اب اس کا انحصار امریکہ کی دانشمندی اور اسرائیل کی زیرکی پر ہوگا کہ وہ جذبات کی رو میں بہہ کر معاملات کو مزید خراب کرنا چاہیں گے یا وقتی جذباتی ابال کے بعد ہوش کے ناخن لیے جائیں گے اور جنگی ماحول ختم کرنے اور اس تصادم سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اس حوالے سے متعدد متبادل موجود ہیں جن پر ماضی میں بھی عمل ہوتا رہا ہے۔ ایک متبادل کی طرف آج قطر نے اشارہ کیا ہے۔
قطر نے تجویز پیش کی ہے کہ اسرائیل میں زیر حراست 36 فلسطینی خواتین اور بچوں کے بدلے حماس کے قبضے سے اسرائیلیوں کا تبادلہ کیا جائے۔ حماس کی تحویل میں اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے لیکن یہ تعداد ایک سو افراد سے زیادہ ہے۔ ان میں فوجی بھی شامل ہیں لیکن حماس کے جنگجو متعدد خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو بھی پکڑ کر غزہ لے گئے ہیں۔ تل ابیب نے ابھی تک ایسے تبادلہ کا کوئی اشارہ نہیں دیا البتہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت حماس کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کرنا چاہتی اور کسی فلسطینی قیدی کو رہا کرنے پر تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کے ترجمان حسام بدران نے کہا ہےکہ ’جس وقت جنگ ہورہی ہے اور اسرائیل کی بمباری جاری ہے، اس بیچ وہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات پر تیار نہیں ہیں‘۔
تاہم موجودہ بےیقینی اور شدید جنگ کے ماحول میں دوحہ سے آنے والی یہ خبر کسی حد تک اطمینان بخش ضرورہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیانات شاید بمبار طیاروں کی گولہ باری سے زیادہ آتشیں ہیں اور صورت حال کو خرابی کی طرف دھکیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے آج ہی ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حماس کو اسرائیل کا جواب مشرق وسطیٰ کو بدل کے رکھ دے گا‘۔ وزیر اعظم آفس نے اس بیان کی وضاحت نہیں کی مگر کہا ہے کہ انہوں نے کونسل کے سربراہان کو بتایا ہے کہ حماس کو ’مشکل اور بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔ خبروں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’ابھی تو آغاز ہؤا ہے۔ ہم دشمن کو بڑی قوت سے شکست دیں گے‘۔ موجودہ حالات میں یہ بیان اگر اسرائیلی عوام کی تشفی کے لیے جاری کیا گیا ہے تو قابل فہم ہوسکتا ہے۔ تاہم سیاسی مقاصد کے لیے ’خطے کو بدل کر رکھ دیں گے‘ جیسے دعوے کرنے سے کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
اسرائیل بلاشبہ ایک بڑی جنگی طاقت ہے اور موجودہ تنازعہ میں امریکہ اور نیٹو اس کی پشت پر ہیں۔ امریکہ نے تو جنگی ساز و سامان کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کا سلسلہ شروع کرنے کے علاوہ اپنا بحری بیڑا بھی اسرائیل کی ’حفاظت‘ کے لیے روانہ کردیا ہے۔ حالانکہ اسرائیل جس حماس کو دشمن قرار دے کر زمین آسمان ایک کردینے کے دعوے کررہا ہے، وہ ایک معمولی جنگجو گروہ ہے جو غزہ کی پٹی تک محدود ہے۔ متعدد ممالک اسے دہشت گرد گروہ قرار دے چکے ہیں اور اسے عالمی سطح پر کوئی بڑی سفارتی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ مغربی کنارے پر قائم فلسطینی اتھارٹی کو فلسطینیوں کا نمائیندہ مانا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اسرائیلی حکومت نے صرف حماس کے ساتھ دشمنی کا رشتہ ہی استوار نہیں کیا بلکہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ بھی معاملات طے کرنے اور کسی امن معاہدہ کوحتمی شکل دینے کا اقدام بھی نہیں کیا۔ اس لیے اس وقت اگرچہ صرف غزہ میں موجود حماس ہی اسرائیل سے برسرپیکار ہے لیکن مغربی کنارے پر آباد فلسطینی بھی اسرائیل ہی کو موجودہ جنگ کا اصل ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ہفتہ کو اسرائیل پر حماس کے حملہ کے بعد فلسطینی عوام کے حق خود اختیاری پر زور دیا تھا۔ انہوں نے حماس کے حملہ پر براہ راست کوئی تبصرہ تو نہیں کیا لیکن رملہ میں فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسرائیل کو فلسطینی عوام کے حقوق غصب کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’فلسطینیوں کو یہودی آباد کاروں اور ہماری سرزمین پر قابض فورسز کے مقابلے میں دفاع کا حق حاصل ہے‘۔ فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ ہم بار بار سیاسی حل کا راستہ روکنے اور فلسطینیوں کو حق خود مختاری دینے سے انکار کے طریقہ کے بارے میں متنبہ کرتے رہے ہیں۔ اسرائیل امن معاہدے کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ فلسطینی مسئلہ کے حل کے لیے عالمی طاقتوں کی خاموشی اسرائیلی جرائم میں اضافہ کا سبب بنی ہے۔ فلسطینی عوام کے ساتھ روا رکھی گئی ناانصافی کی وجہ سے ہی اس وقت اسرائیل کو موجودہ خوفناک جنگ کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے علاقائی امن و سلامتی کا معاہدہ کرنے سے انکار کیا ہے‘۔
ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اگرچہ حماس کو اپنا دشمن سمجھتی ہے لیکن وہ موجودہ جنگ میں اسرائیل کے ساتھ اظہار یک جہتی پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ مغربی کنارے پر متعدد فلسطینی شہروں میں حماس کے حملہ کے بعد خوشی کااظہار کیا گیا اور لوگوں میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ فلسطینی اتھارٹی خواہ حماس کے حملہ کو غلط ہی سمجھتی ہو لیکن فلسطینی عوام کے بے چارگی کی وجہ سے وہ اس حملہ کی براہ راست مخالفت نہیں کرسکتی۔ اسرائیل جوابی کارروائی کے نام پر غزہ میں جتنی تباہی کا سبب بنے گا، فلسطینیوں اوراسرائیلی باشندوں میں نفرت میں اسی قدر اضافہ ہوگا۔ یہ نفرت محض فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ متعدد عرب ممالک اور کسی حد تک مسلمان ممالک تک پھیلا ہؤا ہے۔ ان ممالک میں بدقسمتی سے اسرائیلی شہریوں اور بچوں و خواتین کے خلاف طاقت کے استعمال کے باوجود حماس کو وسیع تر ہمدردی کا مستحق سمجھا جارہا ہے۔ اس کا ایک نمونہ اسرائیل پر حملہ کے بعد قاہرہ میں دیکھا گیا جہاں ایک مصری پولیس افسر نے دو اسرائیلی سیاحوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ اس ایک واقعہ سے باہمی نفرت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ گولہ باری اور تباہی نازل کردینے کی دھمکیوں سے اس نفرت میں کمی واقع نہیں ہوگی۔
اسرائیل نے آج غزہ کے خلاف اضافی اقدامات کرتے ہوئے مکمل محاصرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غزہ کو بجلی کی فراہمی تو پہلے دن ہی بند کردی گئی تھی، اب خوراک کی ترسیل کے علاوہ پانی کی سپلائی بھی روک دی گئی ہے۔ یہ کارروائی ایک جنگجو گرہ حماس کو سزا دینے کے نام پر کی جارہی ہے۔ لیکن کسی جنگی جرم کی سزا ، اس کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کے علاوہ کسی کو نہیں دی جاسکتی۔ البتہ اسرائیل کی طاقت کا سارا مظاہرہ غزہ پر آباد چوبیس لاکھ شہریوں کے خلاف دیکھنے میں آرہا ہے۔ بمباری میں رہائشی اپارٹمنٹ بلاک تباہ کیے جارہے ہیں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ غزہ میں نصف آبادی بچوں پر مشتمل ہے ۔ موجودہ جنگ میں نازل ہونے والی ہلاکت و تباہی کا سامنا بھی ان بچوں کو ہی کرنا پڑا ہے۔
امریکہ اور اس کے مغربی حلیف بلا دریغ اسرائیلی شہریوں کے خلاف تشدد کی مذمت کررہے ہیں۔ اس ہولناک اور غیر انسانی اقدام کو ہر سطح پر مسترد کرنا چاہئے لیکن کیا حماس کے ظلم اور جنگی جرائم کی سزا غزہ کے محدود علاقے میں رہنے والے شہریوں، بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو دی جاسکتی ہے؟َ اسرائیل کے حق دفاع کے بارے میں زور شور سے بیانات سننے میں آرہے ہیں لیکن کیا اسرائیل کے تحفظ و سلامتی کی بات کرنے والے ممالک غزہ میں رہنے والے شہریوں کے حق زندگی کی بات بھی زبان پر لائیں گے؟ کیا اسرائیل پر واضح کیاجائے گا کہ حماس کا جنگی اقدام غلط اور قابل مذمت ہے لیکن اسرائیل کو اس کی سزا سب فلسطینیوں کو دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دو دہائی سے اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کرکے وہاں لاکھوں انسانوں کو قیدی بنایا ہؤا ہے لیکن عالمی ضمیر اس کا بوجھ محسوس کرنے سے عاری رہا ہے۔ اب ایک بار پھر اس دوہرے معیار انسانیت کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کے شہریوں کے خلاف تشدد پر آنسو بہانے والے، غزہ کی گلیوں میں مارے جانے والے بچوں و شہریوں کی حفاظت کی بات کرنےسے معذور دکھائی دیتے ہیں۔
مشرق و وسطی جنگ ہی نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی نفرت کے دہانے پر کھڑا ہے۔ جنگ تو شاید چند ہفتوں یا مہینوں میں ختم ہوجائے گی لیکن اس دوران میں حماس ہو یا اسرائیل ، ان کے اقدامات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیدا ہونے والی نفرت کا خاتمہ شاید مزید کئی جنگوں کا سبب بنے گا۔ اس لیے حماس کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو جنگ پر اکسانے کی بجائے اسے قیام امن کے ثمرات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے دیگر مغربی حلیف اگر اس وقت یہ کام کرنے میں ناکام رہے تو وہ اسرائیل کی دوستی میں دنیا کے امن کے لیے مستقل مسائل پیدا کرنے کاسبب بنیں گے۔