ورلڈ بینک کا پاکستان پر ٹیکس رعایتیں ختم کرنے پر زور

  • منگل 10 / اکتوبر / 2023

ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ تمام ٹیکس رعایتیں ختم کرے اور زراعت، پراپرٹی اور ریٹیل کاروباروں سے حاصل ہونے والی آمدنی مؤثر ٹیکس نیٹ میں لائی جائے۔

اس طرح قلیل مدت میں جی ڈی پی کے 4 فیصد (تقریباً 4 کھرب روپے) تک اضافی آمدنی حاصل کی جا سکے گی۔ میڈیا بریفنگ کے دوران عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بین ہاسین اور سینیئر ماہر اقتصادیات توبیاس حق نے کہا کہ صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والے 2 بڑے شعبوں (ریئل اسٹیٹ اور زراعت) سے وابستہ لوگوں کی زیادہ تر آمدن غیر ٹیکس شدہ ہے۔ جس پر صوبائی حکومتوں کو ٹیکس عائد کرنا چاہیے تاکہ سروسز کو بہتر بنایا جا سکے اور وفاق پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔

توبیاس حق نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سے جی ڈی پی کا 2 فیصد اور اور زراعت سے جی ڈی پی کا ایک فیصد ریونیو حاصل کرنا چاہیے جوکہ آفیشل جی ڈی پی سائز کے مطابق بالترتیب 21 کھرب روپے اور 10 کھرب روپے بنتا ہے۔ عالمی بینک نے اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کو ایک تفصیلی پالیسی پیپر جمع کرایا ہے۔ یہ مقالہ بہتر، توسیعی اور جدید زرعی انکم ٹیکس کے ذریعے ٹیکس محصولات میں اضافے کی ترغیب دیتا ہے۔

زرعی اراضی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے موجودہ 12.5 ایکڑ ٹیکس چھوٹ کی حد کو کم یا بہتر کرنے اور حجم، مقام، آبپاشی اور رقبہ کے لحاظ سے پیداوار کی بنیاد پر زمین کی مناسب درجہ بندی کو یقینی بناکر کیا جانا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی ایک بہتر پالیسی اور قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے کہ موجودہ نوٹی فائیڈ میونسپل حدود سے باہر بڑی اور پھیلتی ہوئی نیم شہری آبادیاں مناسب اراضی ٹیکس کی پابند ہوں۔

پالیسی نوٹس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان کا ریونیو کلیکشن خطے میں سب سے کم ہے جبکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر عائد ٹیکس ریٹس سب سے زیادہ ہیں جوکہ اہم شعبوں (زراعت، ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر) کی جانب سے اپنا واجب الادا حصہ ادا نہ کرنے کے سبب بھاری ٹیکس بیس کو ظاہر کرتا ہے۔

گزشتہ دہائی میں پاکستان کا کُل ریونیو کلیکشن اوسطاً جی ڈی پی کا 12.8 فیصد رہا جو کہ جنوبی ایشیا کی اوسط 19.2 فیصد سے کافی کم ہے۔ اس کے علاوہ  کُل ریونیو وقت کے ساتھ کم ہوتا جا رہا ہے۔

توبیاس حق نے کہا کہ عالمی بینک نے پاکستان کو جن اصلاحات کا مشورہ دیا ہے وہ انفرادی طور پر شخصیات اور فردِ واحد کی زیرِملکیت کاروباروں (بشمول ریٹیلرز) کو ٹیکس سسٹم میں لا کر ٹیکس بیس کو وسیع کرنے، ٹیکس چھوٹ کی حد کو کم کرنے اور پرسنل انکم ٹیکس کے اسٹرکچر کو آسان بنانے پر مرکوز ہیں۔ تاہم عالمی بینک نے تنخواہ دار لوگوں کے لیے انکم ٹیکس کی چھوٹ کو کم کرکے 50 ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں تک لانے کا نہیں کہا۔

عالمی بینک نے یہ بھی تجویز دی کہ پاکستان کو اپنے انکم ٹیکس کے اسٹرکچر کو آسان بنانا چاہیے جس میں تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس کی حدیں برابر ہونی چاہیے۔ تجویز کے مطابق ٹیکس سے استثنیٰ کی حد کا تعین تازہ ترین جائزے کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ حالیہ مہنگائی اور لیبر مارکیٹ کی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کم آمدنی والے طبقے پر منفی اثر نہ پڑے۔