اسرائیل اور حماس میں لڑائی چوتھے دن بھی جاری، اموات 1600 سے بڑھ گئی

  • منگل 10 / اکتوبر / 2023

غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ رات کے دوران دو سو ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے پیر سے غزہ کی ناکہ بندی کر دی ہے جس کے بعد غزہ کو غذائی اشیا، ایندھن اور دوسری ضروریاتِ زندگی کی فراہمی روک گئی ہے۔ خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق لڑائی میں دونوں جانب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1600 تک پہنچ چکی ہے

رپورٹس کے مطابق حماس کے حملوں میں اسرائیل کے 73 فوجیوں سمیت 900 سے زائدلوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کے فضائی حملوں میں غزہ میں کئی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جب کہ حکام نے 680 سے زائد اموات کی تصدیق کی ہے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

حماس نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل نے اگر کسی وارننگ کے بغیر حملوں میں فلسطینیوں کو ہدف بنایا گیا تو یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ لڑائی کا آج چوتھا روز ہے لیکن اسرائیلی فورسز جنوبی علاقوں میں اب بھی ان افراد کی لاشوں کی تلاش میں مصروف رہیں جو ہفتے کے دن حماس کے غیر متوقع اور اچانک حملے کا نشانہ بنے تھے۔

اسرائیل کے امدادی کارکنوں کو چھوٹے سے زرعی علاقے بیری سے 100 سے زائد لاشیں ملی ہیں۔ ہلاک افراد کی تعداد علاقے کی آبادی کا 10 فی صد ہیں۔ بیری میں لگ بھگ ایک ہزار افراد آباد رہتے تھے۔

دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے بدستور جاری ہیں۔ حماس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کا قبضہ اب قابلِ برداشت نہیں ہے اور وہ اس کے خاتمے کے لیے ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔

غزہ میں بمباری سے کئی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جن کے مکین اب بے گھر ہو چکے ہیں۔ بے گھر ہونے والی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اسرائیل کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوب کے بیشتر علاقوں پر شدید لڑائی کے بعد کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ حماس نے اسرائیل کے جنوب میں کئی علاقوں پر ایک ساتھ فضائی، سمندری اور زمینی راستوں سے حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں بڑے پیمانے پر اموات ہوئی تھیں۔ اور حماس نے بڑی تعداد میں اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حماس اور دوسرے جنگجو گروہوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحویل میں 130 سے زیادہ اسرائیلی شہری ہیں جن میں اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں۔ ان افراد کو اسرائیل کے اندر سے پکڑا گیا تھا۔

اسرائیل نے فوری طور پر تین لاکھ سے زائد ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں کہا کہ ابھی حماس کے خلاف کارروائی شروع ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہم دشمن کے خلاف کیا کرنے والے ہیں، اس کی گونج ان کی آنے والی نسلوں تک سنائی دے گی۔

اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں عسکری تنظیم حماس کے مسلح ونگ القاسم بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل جب بھی کسی انتباہ کے بغیر غزہ میں گھروں میں شہریوں کو نشانہ بنائے گا، اس کے بدلے میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں میں سے ایک کو ہلاک کر دیا جائے گا

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ ایلی کوہن نے یرغمالیوں کو نقصان پہنچانے پر حماس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگی جرم کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

اسرائیل نے غزہ سے ملحقہ سرحدی علاقے میں قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے باڑ کو بند کر دیا ہے، جسے حماس کے عسکریت پسندوں نے سنیچر کے روز توڑ کر حملے کیے تھے۔ اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں رات بھر 200 اہداف کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ رفاہ کے سرحدی راستے سے مصر چلے جائیں، لیکن بعد میں کہا گیا کہ سرحدی راستے کو بند کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک اسے حماس کے 1500 جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں۔