یہ ملک عوام کا یا صرف سرکار کا؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 10 / اکتوبر / 2023
ہم غور کریں تو ہمارے ملک کی بیوروکریسی میں کئی ایسے عہدے ہیں جن کی فی زمانہ کوئی ضرورت ہے. نہ ان کے پاس کوئی کام ہے،جس کا ریاست پر اربوں روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔ ویسے تو کئی محکمہ جات بھی غیر ضروری ہیں اور ہر محکمے میں درجنوں عہدے فضول رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔
لیکن آج ہم پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ٹکڑے کے اندر ان چند عہدوں کی بات کرتے ہیں جن کو ایک طرح سے بلکہ ہر طرح سے ڈویژن اور ضلع کے سربراہ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اور وہ ہیں ہر ڈویژن کے کمشنر صاحبان اور ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر صاحبان، پھر ان کے نیچے ایڈیشنل اور اسسٹنٹ کمشنرز صاحبان، پھر ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرز صاحبان۔ ذرا سوچئے کہ یہ عہدے کب، کیوں اور کس کام کے لیے تخلیق کیے گئے تھے اور اب ان کا کام کیا ہے؟
ایک ضلع پر ایک ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے جس کے پاس تین عہدے ہوتے ہیں۔عوامی معاملات اور ضلع میں حکومتی نمائندے کے طور پر ڈپٹی کمشنر کے اختیارات ہوتے ہیں۔ انتظامی معاملات میں وہ ضلعی مجسٹریٹ کہلاتا ہے اور زمینوں کے معاملات میں وہ ڈپٹی کلکٹر بن جاتے ہیں، اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر صاحب عوامی معاملات میں اسسٹنٹ کمشنر، انتظامیہ کے طور پر سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور زمینوں کے مقدمات میں اسسٹنٹ کلکٹر ہوتے ہوں گے۔ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کو افسر مال بھی کہا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تمام زمینوں کے ریکارڈ پٹواری صاحبان کے پاس ہوتے ہیں اور سارا کام بھی وہی کرتے ہیں ۔بلکہ صرف زمینوں ہی کا نہیں علاقے میں کوئی بھی کام ہو، مردم اور خانہ شماری کرنا ہو، ووٹرز کی فہرستیں مرتب کرنا ہوں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے یا کوئی بھی اور سروے رپورٹ بنانا ہو، افسران بالا کی خدمات انجام دینا ہوں، کسی بڑے سے بڑے کیس کی کارروائی کے دوران کسی رپورٹ کی ضرورت ہو ،یہ سب کام پٹواریوں سے ہی لیا جاتا ہے۔ پھر ان کے کام کی تصدیق کے لیے گرداور صاحبان، نائب تحصیلدار صاحبان اور پھر تحصیلدار صاحبان ہوتے ہیں۔ کیا ان سب پر اعتبار نہیں ہوتا کہ ان کے اوپر بھی افسران بالا کی ضرورت رہتی ہے؟
اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں زمینوں کے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہیں اور بالکل سادہ اور آسان طریقہ سے ہر بندہ اس ریکارڈ تک پہنچ رکھتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں ایک پراپرٹی ڈیلر اس سارے ریکارڈ تک رسائی رکھتا ہے۔ ایک وکیل سارے ریکارڈ کی خود چھان بین کر لیتا ہے۔ اس ریکارڈ کے اوپر چند کلرک سطح کے ملازمین بیٹھے ہوتے ہیں، آپ جب چاہیں جا کر ان سے اپنی جائیداد کے کاغذات فوری نکلوا سکتے ہیں جس کی کوئی ادائیگی بھی نہیں کرنا پڑتی۔ لیکن چلو مان لیتے ہیں کہ ہمارا ملک ناخواندہ اور پسماندہ ہے اس لیے ہم سب کچھ کمپیوٹر میں فیڈ نہیں کر سکتے(پاکستان کے کئی علاقوں کی زمینوں کا ریکارڈ بھی کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے) اس لیے ہمیں افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ لیکن جب سارا کام پٹواری صاحبان کر رہے ہیں اور ان کے اوپر بھی چند اسٹیپ افسران ہیں تو پھر اول الذکر افسران کی ضرورت کیوں ہے؟
یہ خاکسار اس بات سے لاعلم ہے کہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے کس زمانے میں اور کس نے تخلیق کیے۔ لیکن یہ بات زبان زد عام ہے کہ جب برصغیر پر برطانوی سامراج نے قبضہ کیا تو انہیں عوام پر قابو رکھنے کے لیے کچھ مقامی غداروں کی اور کچھ انتظامی عہدوں کی ضرورت تھی۔ مقامی غداروں کو زمینیں عنایت کی گئیں اور ان کی مدد کے لیے کمشنری نظام کا احیاکیا گیا۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر آزادی کے بعد یہ عہدے ختم کیوں نہیں کیے گئے؟
آج بھی ڈپٹی کمشنر ضلع کا سربراہ ہے اور حکومت کا نمائندہ بھی حالانکہ جمہوری ممالک میں عوام کے منتخب نمائندوں ہی کو اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ مئیر، ڈپٹی میئر، ضلعی ناظم یا چئیرمین ضلع کونسل کے پاس اختیارات ہونے چاہئیں کیونکہ وہ عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ضلعی سطح پر تمام فیصلے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انتظامیہ کے اجلاسوں میں ہوتے ہیں جس میں عوام کا کوئی نمائندہ نہیں ہوتا، کیا کسی جمہوری ملک میں ایسا ہوتا ہے؟ یا ایسا ہونا چاہیے؟ پاکستان کے کسی وزیراعظم نے بھی کبھی اس نظام کو بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ بھی تمام رپورٹیں ڈپٹی کمشنر سے ہی لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ان کو اپنے سیاسی کارکنوں اور بلدیاتی نمائندوں پر اعتماد نہیں ہوتا تو پھر جمہوریت کیوں کر مضبوط ہو سکتی ہے؟
پاکستان کے اندر ڈپٹی کمشنر ہاؤسز کو دیکھیں جو انہیں سرکار نے عطا کر رکھے ہیں۔ کتنے کشادہ اور قیمتی ہوتے ہیں۔ پھر ان کے دوسرے اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تو ان پر ماہانہ کروڑوں اور سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس وقت جب ملک معاشی طور پر انتہائی مشکلات سے گزر رہا ہے، اس طرح کے شاہانہ اخراجات کو ختم کرنے کا سوچنا چاہیے۔ انتظامیہ کا سارا کام پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے کرتے ہیں۔ ضلعی پولیس آفیسر یہ ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔اور ضلعی بلدیاتی سربراہ حکومت کے نمائندوں کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ ان عہدوں کے علاوہ بھی تمام سرکاری افسر، جج صاحبان کے سرکاری پروٹوکول میں نمایاں کمی کر کے بھی کافی بچت ہو سکتی ہے۔
تمام ترقی یافتہ ممالک میں بیوروکریسی کے پاس اختیارات تو ہوتے ہیں مگر ان کے سرکاری پروٹوکول ہیں ۔نہ ان کو دفتروں کے بعد سرکاری گاڑیوں کی سہولت دی جاتی ہے۔جبکہ ہمارے غریب ملک کے تمام محکموں کے افسران نہ صرف خود چوبیس گھنٹے سرکاری پروٹوکول سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ ان کے خاندان بھی مستفید ہو رہے ہوتے ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ ملک عوام کا نہیں صرف سرکار کا ہے۔