حماس نے فلسطینی کاز کو شدید نقصان پہنچایا ہے!

اس وقت یورپ میں اسرائیل پر حماس کے حملہ کا ایک ہی پہلو قابل غور ہے۔ اس حملہ کے بعد فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم ،  ان کی سرزمین پر اسرائیل کے  ذبردستی قبضے اور یہودی آبادکاری  کے بارے میں ہر قسم کی گفتگو ناروا اور غیر ضروری قرار  پا رہی ہے۔     اسرائیل سے اظہار یک جہتی کے لیے بعض سرکاری عمارتوں پر اسرائیل کا پرچم لہرایا گیا ہے۔ متعدد یورپی ممالک میں شہریوں نے اپنے گھروں اور  گاڑیوں پر اسرائیلی پرچم لگا کر حماس کی دہشت گردی کو  مسترد کیا ہے۔

ہفتہ کے روز حماس کاحملہ بلاشبہ سخت، ہلاکت خیز اور اسرائیل سمیت دنیا بھر کو حیران کردینے والا تھا۔  تاہم حماس کے جنگجوؤں   نے   شہریوں کو بلادریغ اپنی گولیوں کا نشانہ بنانے کے علاوہ درجنوں  عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو  یرغمال بنا کر غزہ پہنچا دیا ہے۔ اب حماس کے لیڈر ان انسانوں کو اسرائیل پر دباؤڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ایک تازہ ترین بیان میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اسرائیل نے کسی عمارت پر پیشگی وارننگ کے بغیر بمباری کی تو ہر ایسے واقعہ کے بدلے میں  یرغمال بنائے گئے ایک شہری کو ہلاک کیا جائے گا۔ اگرچہ ابھی تک اس دھمکی پر عمل نہیں کیا گیا لیکن اس قسم کے اعلانات سے حماس کی ذہنیت اور نفرت و تشدد کے ہتھکنڈے اختیار کرنے کا رویہ سامنے آتا ہے۔

یہ درست ہے کہ اس حملہ سے  فلسطین کا مسئلہ ایک بار پر عالمی ایجنڈے پر دکھائی دینے لگا ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ  فلسطینی کاز کے حوالے سے یہ کوئی مثبت پیش رفت ہے۔ آج کل جنگ ہو یا پر امن  کاوش، رائے عامہ  ہموار کرنا اہم ترین چیلنج ہوتا ہے۔ یعنی کوئی بھی گروہ یا ملک جنگ جوئی کرتے ہوئے یہ ضروری سمجھتا ہے کہ  اس کے بارے میں دنیا کے عام لوگوں تک  کوئی ایسا پیغام پہنچے ،   جس  سے   اپنے سیاسی مؤقف  کے لئے حمایت حاصل کی جاسکے۔  بدقسمتی سے حماس نے  اسرائیل پر حملہ کرتے ہوئے اس پہلو کو پیش نظر رکھنا ضروری نہیں سمجھا۔ اب صرف  حماس کو ہی نہیں بلکہ  فلسطینیوں کو ’دہشت گرد‘ عنصر کے طور پر دیکھا  جارہا ہے۔ اسرائیل  کم از کم یورپ میں جو کام دہائیوں کی سفارت کاری اور میڈیا میں مداخلت کے ذریعے انجام نہیں دے سکا تھا، وہ حماس نے ایک ہی ہلے میں پورا کردیا ۔ اب فلسطینی  مظلوم نہیں جارحیت اور دہشت گردی کی علامت ہیں اور اسرائیلی مظلوم اور بے بس عوام کے  طور پر سامنے آئے ہیں۔

موجودہ تنازعہ پر اگر یورپی مباحث کا چند  جملوں میں احاطہ کیا جائے تو  یہ کچھ یوں ہوگا:  اسرائیل پر  دہشت گرد حملہ ہؤا ہے، اس میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس بارے میں کوئی دوسری بات نہیں ہوسکتی۔ فل اسٹاپ‘۔ سیاسی و سماجی مباحث میں اس طرح کا کٹھور طرز عمل بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپی منظر  نامہ میں اگر اسرائیل کے حق دفاع کی حمایت و سرپرستی کی جاتی رہی ہے تو اس کے ساتھ ہی فلسطینیوں کے  وطن، خود مختاری اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی بات بھی ضرور سامنے آتی  تھی۔ اب  میڈیا رپورٹنگ کا فوکس مظلوم فلسطینیوں کی بجائے مظلوم اسرائیلیوں پر ہے ۔ اسرائیلیوں کے تباہ شدہ گھر، گولیوں سے چھلنی کاریں، بچوں کے بکھرے ہوئے کھلونے اور لاپتہ ہونے والے شہریوں کے سامان کو فوکس کرکے اس انسانی المیہ کا ذکر  شہ سرخیوں میں جگہ پارہا ہے۔ ایسے میں غزہ میں ہونے والی  بمباری  اور لٹے پٹے شہریوں کی چیخ پکار کہیں سنائی نہیں دیتی۔  ضمنی طور سے غزہ پر  بمباری اور عمارتوں کی تباہی کا ذکر ضرور سننے میں آتا ہے لیکن  نہ تو غزہ سے براہ راست رپورٹنگ کا اہتمام ہورہا ہے اور نہ ہی اس وقت فلسطینی مظلومیت کی علامت ہیں۔ لہذا مغربی میڈیا کے رپورٹر اور صحافی کو بھی وہی دکھائی دیتا ہے جو عام لوگ دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے لئے اس وسیع، مؤثر اور دوورس پبلک ریلشننگ کا اہتمام حماس نے خود کیا ہے ۔  ہفتہ کو ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیل یک بیک ایک جارح  قوم اور فلسطینیوں کے حقوق پامال کرنے والے ملک کی بجائے مظلوم اور  دہشت گردوں کے نشانے پر آئے ہوئے لوگوں میں تبدیل ہوگیا ہے۔

اگر اس صورت حال کو اسرائیلی آبادی میں پائے جانے والے غم و غصہ سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کے سو فیصد شہری اس وقت فلسطینیوں کو سمندر برد کرنے یا مکمل طور سے تباہ کرنے کے حامی ہیں اور وہ اپنی  حکومت اور فوج کے کسی  بھی انتہائی اقدام کو ظلم کہنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔ بلکہ عام طور سے سامنے آنے والی رائے کے مطابق حکومت جو بھی انتہائی اقدام کرے اور غزہ میں جیسی بھی تباہی مسلط کی جائے، انتقام سے بھرے دل و دماغ کو وہ کم ہی دکھائی دے گی۔ یہاں یہ سمجھنا دشوار نہیں ہونا چاہئے کہ  فلسطینی  جس خود مختاری  کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ اسرائیلی شہریوں کی ہمدردی جیتے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسرائیل  بہر صورت  جمہوری روایت پر استوار ایک نظام کے تحت کام کرتا ہے اور وہاں کی حکومت فیصلہ سازی میں عوام  کی رائے  سننے پر مجبور ہوتی ہے۔  البتہ اس وقت اسرائیل پر ظلم اور فلسطینیوں کی دہشت گردی کا قصہ اس قدر شدت سے سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی عوام میں فلسطینیوں کے لئے ہمدردی کی آخری رمق بھی  معدوم ہوچکی ہے۔  یہ صورت حال فلسطینیوں کے مستقبل اور خود مختار ریاست کے خواب کے حوالے سے  انتہائی تکلیف دہ اور پریشان کن ہے۔

یہ تو رپورٹنگ اور  سانحہ کی تفہیم کے حوالے سے سامنے آنے والی  تصویرہے۔  البتہ اگر اس سوال پر ہونے والے مباحث پر غور کیا جائے تو  صورت حال  قطعی طور سے یک طرفہ دکھائی دیتی ہے۔ حماس کے دہشت گرد حملہ میں  شہریوں کی ہلاکت کی خبر کے بعد تمام مباحث  میں فلسطینیوں کی مذمت کے بعد فل اسٹاپ لگا دیاجاتاہے۔ اس کے بعد صرف  اسرائیل کی مظلومیت کی کہانی ہی سننے کو ملتی ہے۔ اب ایسا ماحول موجود نہیں ہے کہ کسی ہوشمند سے  گزشتہ 75 سال کے دوران فلسطینیوں کی محرومی، پناہ گزین کیمپوں میں پیدا ہونے اور وہیں مرجانے  والوں کے حقائق یا غزہ میں دو اڑھائی ملین انسانوں کو ساڑھے تین سو کلو میٹر علاقے میں 17 برس سے محصور رکھنے کے ظلم پر بات  کی جائے یا  ان کے حقائق بیان ہوسکیں۔ اور بحث کی جائے کہ کن حالات میں حماس کا جنم ہؤا  جو اسے   موجودہ جنگ جوئی  تک لے آیا ہے۔ اب پچھتر سال کے مظالم اور جارحیت،  ایک دن داغے گئے  راکٹوں اور چلائی گئی گولیوں کے شور میں دب چکی ہے۔ مظولم اسرائیل کے بارے میں اب کوئی منفی بات کرنا ایجنڈے کا  حصہ نہیں۔

نہ  جانے  یہ صورت حال تبدیل ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔ اگر  کچھ عرصہ بعد یورپ و امریکہ میں  متوازن مباحث کے  لئے کوئی کوشش کی بھی گئی تو اسے عمومی حمایت ملنے میں کتنا وقت صرف ہوگا۔ البتہ یہ تو واضح ہے کہ اسرائیل کے شہریوں میں فلطینیوں کے خلاف نفرت کو ہفتہ کے روز ہونے والے حملہ نے اس قدر گہرا اور راسخ کردیا ہے کہ اسے کم کرنے اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے  کوئی بات سامنے لانے کے عمل میں کم از کم ایک نسل کا وقت  ضرور صرف ہوگا۔ اس کے بعد بھی نہ جانے  مکالمہ اور بقائے باہمی کا ماحول پیدا ہوگا یا ضد اور تصادم پر اصرار جاری رہے گا۔  اسرائیل کی سرزمین پر آزادی کے نام پر کیے گئے حماس کے حملہ نے فلسطینیوں کی آزادی کے مقصد کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ  اپنے ہاتھوں کھودی گئی اس کھائی سے فلسطینی کیسے باہر نکلیں گے۔

اگرچہ اقوام متحدہ کی طرف سے  توازن قائم کرنے اور دونوں طرف سے ہونے والے ظلم کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن عام طور سے  اس وقت دلیل و شواہد کی بنیاد پر سامنے آنے والے  حقائق پر غور کرنے کا ماحول ناپید ہے۔   مثال کے طور پر اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ ’انسانوں کے وقار اور زندگیوں کا احترام ضروری ہے۔ فریقین کو جارحیت بند کرنی چاہئے۔  اس معاملہ میں عالمی قانون بالکل واضح ہے کہ جنگ کے دوران شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ کسی بھی جنگی کارروائی میں شہری آبادیوں کی حفاظت بنیادی اصول ہونا چاہئے‘۔  حماس کے حملے کے بعد صورت حال کا جائزہ لینے والی اقوام متحدہ کی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطین جنگ میں جنگی جرائم کے ناقابل تردید شواہد  سامنے آئے ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن نے کہا ہے  کہ جو عناصر بھی جنگی جرائم میں ملوث ہوئے ہیں، ان کا احتساب ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کسی تنازعہ کی صورت میں ایسی تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔ فلسطین اسرائیل جنگ میں قائم اس خود مختار کمیشن کا کہنا  ہے کہ وہ تمام اطراف سے سرزد ہونے والے جنگی جرائم کے شواہد جمع کررہا ہے۔ شہریوں کو یرغمال بنانا یا انہیں انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کرنا بھی جنگی جرم ہے۔ اسی طرح اسرائیل کی طرف سے غزہ کا مکمل محاصرہ بھی بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس میں بھی عام شہری  متاثر ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ کے محاصرہ  سے سنگین انسانی صورت حال جنم لے سکتی ہے۔ خاص طور سے دواؤں کی فراہمی اور زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر طبی سہولتوں کی کمیابی بڑے مسائل ہیں۔ جنگ کے دوران شہریوں و اسباب کی نقل و حرکت پر پابندی صرف اس صورت میں ہی لگائی جاسکتی ہے اگر ایسا اقدام کسی قابل قبول  قابل جنگی ضرورت کے تحت کیا جائے۔ بصورت دیگر اسے اجتماعی سزا  کے مترادف سمجھا جائے گا۔ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

غزہ کے خان یونس ہسپتال کے مردہ خانے میں لاشیں قطار در قطار رکھی  ہیں جن پر ان کے نام درج ہیں اور لوگوں سے انہیں شناخت کرکے لے جانے کے لیے کہا گیا ہے کیوں کہ ہسپتال میں مردوں کے لیے مزید جگہ نہیں ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ ہفتہ کے روز سے غزہ پر اسرائیلی بمباری سے 22600 رہائشیں تباہ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دس ہسپتال یا مراکز صحت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بمباری میں 48 اسکول بھی تباہ کیے گئے ہیں۔ واضح رہے جن لوگوں کے گھروں کو تباہ کیا جاتا ہے، انہیں پناہ کے لیے صرف اسکول ہی دستیاب ہوتے ہیں لیکن اب یہ بھی بمباری  کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اسرائلی بمباری میں غزہ میں ہفتہ  کے بد سے سے اب تک  8صحافی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 

یہ ساری خبریں انسانی المیہ ہیں۔  یہ المیہ اس جنگ کے ایک فریق کی طرف سے  جنگ کے دوران طے شدہ عالمی اصولوں سے انحراف کی وجہ سے جنم لے رہا ہے لیکن اس  ظلم کے خلاف بات کرنا یا دلیل دینا فی الوقت منع ہے۔ ابھی اسرائل کی مظلومیت پر بات کرنا اور حماس کو دہشت گرد ثابت کرنا ہی قابل قبول ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق چند سو اسرائیلیوں کی ہلاکت اور  ایک اوپن ائیر پارٹی پر جنگجوؤں کے  حملہ کی تصاویر اور ویڈیو کلپس   کے ہجوم میں  کہیں گم ہوچکے ہیں۔