پاکستانی معیشت میں بہتری کی امید: آئی ایم ایف

  • بدھ 11 / اکتوبر / 2023

گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی کرنٹ اکاؤنٹ کی توقع سے بہتر کارکردگی کا اعتراف کرتے عالمی مالیاتی فنڈ نے توقع ظاہر کی ہے کہ ملکی معیشت موجودہ اور آئندہ مالی سال کے دوران پاکستانی معیشت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

آئی ایم ایف کے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں رواں سال ملکی معیشت میں 2.5 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کی شرح آئندہ مالی سال میں دوگنی ہو کر 5 فیصد ہو جائے گی۔ یہ گزشتہ مالی سال کی 0.5 شرح کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس تازہ ترین پیش گوئی کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو جلد معاشی بحالی کی توقع ہے جب کہ اس سے قبل عالمی ادارے نے مالی سال 27-2026 میں 5 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کی پیش گوئی کی تھی۔

ملکی شرح نمو سے متعلق آئی ایم ایف کی تازہ ترین پیش گوئی رواں مالی سال کے لیے حکومت کی جانب سے طے کردہ 3.5 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے ہدف سے کم ہے لیکن واشنگٹن میں موجود ورلڈ بینک اور منیلا میں قائم ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی حالیہ پیش گوئیوں سے کافی زیادہ ہے۔

رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی شرح نمو 1.7 فیصد اور آئندہ مالی برس میں 2.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کرنے والے عالمی بینک جس نے ایک حالیہ میڈیا تقریب میں دعویٰ کیا کہ اس کی پیش گوئی اگست ستمبر کے اعداد و شمار پر مبنی تھی۔ تاہم ہوسکتا ہے کہ آئی ایم ایف نے تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنی پیش گوئی پر مثبت طور پر نظر ثانی کی ہو۔ جب کہ وہ مختلف شعبوں پر انحصار کرتے ہوئےحکومت کے ساتھ جاری بیل آؤٹ پروگرام کے تحت روزانہ، ہفتہ وار، ہر پندرہ روز بعد اور ماہانہ بنیادوں پر ان اعداد و شمار کا جائزہ لیتا ہے۔

آئی ایم ایف نے مالی سال 2023 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد پر نوٹ کیا، جو اس کی گزشتہ پیش گوئی سے 1.2 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس نے موجودہ مالی سال کے لیے 1.8 فیصد اور 28-2027 کے لیے1.7 فیصد کی پیش گوئی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

آئی ایم ایف کا تخمینہ ہے کہ مالی سال 2023 میں بے روزگاری کی شرح 8.5 فیصد تک بڑھ گئی، جو 2022 میں 6.2 فیصد تھی۔ جبکہ بے روز گاری کی یہ شرح اس کی 7 فیصد کی سابقہ پیش گوئی سے کافی زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کے لیے بے روزگاری کی شرح 8 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔