اسرائیل فلسطین تنازعہ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے: وزیراعظم

  • بدھ 11 / اکتوبر / 2023

پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیل فلسطین تنازع ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے ’پی ٹی وی‘ پر منگل کے روز صحافیوں اور وی لاگرز سے اسلام آباد میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسٔلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں ایک تسلسل  ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نگران حکومت کے دوران مشرق وسطیٰ کے حوالے سے کوئی نئی پالیسی آ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بطور ریاست شروع سے ظاہر ہے کہ ہمارا ایک مؤقف ہے کہ اسرائیل کو ایک غاصب ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے جس کے ہم بھی داعی ہیں۔

ہم فلسطینی فریق کو مظلوم سمجھتے ہیں، یہ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے۔ یہ اسرائیل اور فلسطین سے زیادہ ان دو قوموں کی جنگ ہے جو ایک کیفیت میں ہیں۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دورانیے میں جرمن یہودی قوم ہٹلر کے مظالم کے باعث مظلومیت کی کیفیت میں تھے، جب وہ مظلومیت کی کیفیت سے نکلے۔ انہوں نے فلسطینی علاقوں پر غاصبانہ صیہونی ریاست بنانے کی طرف گئے تو وہ ان کی کیفیت تبدیل ہو گئی اور وہ ظالم کی کیفیت میں آ گئے اور مظلومیت کی کیفیت فلسطینیوں پر آ گئی۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازے میں سب سے بڑا فریق فلسطین خود ہے۔ بطور ریاست اور معاشرہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا کا پہلا حق فلسطینی عوام کا ہے۔ یہ ان پر ہے کہ وہ امن کو کیسے موقع دیں۔ امن کو وقار کے ساتھ یا غلامی کے ساتھ جوڑیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کے جواب انہوں نے خود تلاش کرنے ہیں اور انہوں نے تلاش کیے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا مکمل محاصرہ کرنے کے بعد بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں یہ نقصانات ہوئے ہیں اور محاصرے کے نتیجے میں خوراک، پانی اور بجلی کی سپلائی منقطع ہوگئی تھی جس سے صورت حال مزید گھمبیر ہونے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ فلسطینی گروپ حماس نے ہفتے کے آخر میں اسرائیل پر اپنے اچانک حملے میں تقریباً 150 افراد کو اغوا کرلیا تھا۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر بغیر وارننگ کے اسرائیلی فضائی حملوں کے ذریعے غزہ کے رہائشیوں کو ’نشانہ بنانے‘ کا سلسلہ جاری رہا تو وہ مغویوں کو موت کے گھاٹ اتار دے گا۔