اسرائیل فلسطین جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 2200 سے تجاوز کرگئی
فلسطینی وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ہفتے سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1055 تک پہنچ گئی ہے۔ ان حملوں میں 5100 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہیں جن میں سے تقریباً 60 فیصد عورتیں اور بچے ہیں۔
دوسری طرف حماس کی جانب سے حملے کے چار دن بعد بھی اسرائیلی شہر سدیروت سے لاشیں نکالنے کا عمل جاری ہے۔ اس مقام پر اسرائیلی اہلکاروں اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی تھی۔ اسرائیل میں حماس کے ’طوفان الاقصی‘ آپریشن کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 2700 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔
بی بی سی کو برطانیہ کے سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ ہفتہ کو اسرائیلی علاقوں پر حماس کے حملوں کے بعد اب تک 17 برطانوی شہریوں کی ہلاکت یا لاپتہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ دس سے زیادہ برطانوی شہری ہلاک یا لاپتہ ہیں۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے عزالدین القسام بریگیڈز کے چیف آف سٹاف محمد الدیف کے والد کے گھر پر بمباری کی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں الدیف کے بھائی اور ان کے خاندان کے تین افراد مارے گئے۔
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح اسرائیلی حملے میں مزید 50 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ وزارت صحت کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں طبی عملے، صحت کے اداروں اور ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے ان کے کام کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔
حماس کے اسرائیل پر منظم اور غیر متوقع حملے کے بعد اسرائیلی فورسز کے جنگی طیاروں کی غزہ پر پانچوں دن بھی بمباری جاری ہے۔ فضائی حملوں کے سبب غزہ میں عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں اور دنیا کے اس گنجان آباد چھوٹے سے علاقے میں شہری پناہ کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔
اسرائیلی فورسز نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر لی ہےجس کے بعد اب فلسطینیوں کواسرائیل کے شدید نوعیت کی کارروائی کا سامنا ہے۔ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیمیں ایسی راہداریاں بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں جن کے ذریعے غزہ کے لوگوں کے لیے امداد پہنچائی جا سکے۔ یہ تنظیمیں متنبہ کر رہی ہیں کہ اسپتالوں میں گنجائش سے زیادہ زخمی ہیں اور اب اسپتالوں میں ادویات اور دوسرا ضروری طبی سامان ختم ہو رہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ کے محاصرے کے دوران غذائی اشیا، ایندھن اور ادویات کی فراہمی بھی روک دی ہے۔ غزہ سے نکلنے کے لیے قائم تمام سرحدی گزر گاہیں بند ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی فورسز کے حملوں کا سامنا کرنے والے اس علاقے سے نکلنے کا واحد راستہ مصر کی سرحد پر قائم گزر گاہ تھی۔ لیکن یہ گزر گاہ بھی بند کر دی گئی ہے۔
مصر اور غزہ کے درمیان واحد راستےکو اس وقت بند کیاگیا جب سرحدی کراسنگ کے نزدیک کا علاقہ فضائی حملوں کا نشانہ بنا۔ غزہ میں امدادی کاموں میں مصروف رضا کاروں کا کہنا ہے کہ منہدم عمارتوں میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
امدادی رضا کاروں کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ضروری سامان اور ایمبولینس گاڑیاں متاثرہ علاقے میں نہیں پہنچ پا رہیں۔