رات کے حصار میں
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 11 / اکتوبر / 2023
کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں شعر وادب کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ ایک بڑا شاعریاادیب اپنے گردو پیش کے حالات کا نباض اور اپنے معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے۔ادب کی تاریخ میں صرف وہی لوگ زندہ رہے ہیں جو جو اپنے عہد کی ترجمانی کرتے ہیں۔
اپنے زمانے اورعہد کے سماجی ومذہبی المیوں اور سیاسی و معاشی حالات کی صیح ترجمانی کرنے والے شاعروں کا کلام اور ادیبوں کی کہانیاں علاقائی و ملکی ادب میں امر ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی ادب میں بھی نمایاں مقام حاصل کر لیتی ہیں جب کہ اپنے گردو پیش کے سماجی، مذہبی، معاشی اور سیاسی حالات پر لب کشائی کرنے کی جرات نہ رکھنے والے شاعر یا ادیب کی شعری یا ادبی تخلیق کی حیثیت ڈیکوریشن پیس سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ایک بڑے شاعر یا ادیب کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی کی گئی شاعری یا لکھی ہوئی تحریریں ہر دور اور معاشرے پر فٹ بیٹھتی محسوس ہوتی ہیں جب کہ برائے نام شاعر یا ادیب کا کلام اور کہانیاں اپنے دور اور معاشرے تک کی بھی عکاسی کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ایسے شاعروں اور ادیبوں کی کمی نہیں جنہوں نے شدید قسم کے سماجی و سیاسی دباؤ اور جبر کے باوجود اپنے اپنے معاشروں کو ساکت وجامد ہونے سے بچا کر سماجی و فکری ارتقاء کی روشن راہوں پر گامزن کیا۔معروف ترقی پسند شاعر اور تنقید نگار عابد حسین عابد کا شمار بھی شعر وادب کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایسی نابغہ روزگار شخصیت میں ہوتا ہے جونہ صرف اپنے دورکے سماجی گھٹن اور سیاسی و مذہبی جبر کے خلاف ڈٹ کے کھڑا ہے بل کہ اپنی شعری و ادبی تخلیقات کے توسط سے ساکت و جامد معاشرے کو حقیقی تبدیلی اور عملی انقلاب کے لیے تیار کر رہا ہے۔
'رات کے حصار میں ' اگرچہ عابد حسین عابد کا پہلا شعری مجموعہ ہے لیکن مجموعے میں شامل بیشتر غزلیں اور نظمیں ترقی پسند شاعری کے جملہ معیارات پر ایسا پورا اترتی ہیں کہ محض یہی شعری مجموعہ انہیں چوٹی کے ترقی پسند شاعروں کی صف میں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوگا۔ ترقی پسندانہ حلقوں میں عابد حسین عابد کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین کو نئے سرے سے فعال کرنے والوں میں نمایاں نام ہیں بل کہ گزشتہ 25سالوں سے وہ پنجاب میں اس تنظیم کے روح رواں کی حیثیت سے تنظیم میں جان ڈالے ہوئے ہیں۔انجمن ترقی پسند مصنفین کے لیے عابد حسین عابد کے خلوص ولگن کو سمجھنے کے لیے بقول ڈاکٹر ضیا ء الحسن اتنا جاننا ہی کافی ہوگا کہ "انہوں نے انجمن کے لیے سماجی و معاشی نقصانات تو اٹھائے ہی، اس زمانے میں وہ اپنی شاعری کو بھی پورا وقت نہیں دے سکے جس کی وجہ سے ان کا پہلا مجموعہ کلام بہت تاخیر سے شائع ہو رہا ہے۔جس دور میں کچھ ترقی پسند این جی اوز بنانے اور مستحکم کرنے میں لگے ہوئے تھے، انہوں نے اپنا تن من دھن انجمن ترقی پسند مصنفین کو فعال بنانے پر لگا دیا۔وہ نوکری کی مشقت سے بھی گزرتے رہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید معاشی مسائل کا شکار ہوتے رہے،لیکن ان کے دل میں ایک پل کے لیے بھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ اپنا مشن چھوڑ کر دنیا کمانے لگ جائیں۔ چنانچہ معاشی مسائل ان کا ذاتی تجربہ بھی بنے اور سماجی مشاہدہ بھی جس کی وجہ سے ان کی شاعری میں جب ان کا اظہار ہوتا ہے تو وہ معاشی طور پر فارغ البال ترقی پسندوں کی طرح محض فیشن نہیں ہوتا بل کہ تجربے کی بھٹی سے گذرا ہوا ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے اس میں گہرائی اور سچائی نظر آتی ہے۔"
ایک شعر دیکھئے:
بھوک سے ہم مر گئے اور شہر میں
گفتگو ہوتی رہی پوشاک پر
عابد حسین عابد کی شاعری ترقی پسندانہ عوام دوست شکل وصورت تو رکھتی ہی ہے لیکن ان کے مجموعہ کلام کا نام "رات کے حصارمیں " بھی اپنے اندر کمال معنی خیزی لیے ہوئے ہے۔ان کی شاعری جہاں عوام کے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل و مشکلات کا اظہار ہے وہیں ان کے مجموعہ کلام کا نام ہماری سیاسی و سماجی تاریخ کا آئینہ دار ہے۔تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارا سیاسی و معاشی اور سماجی و مذہبی نظام نہ ختم ہونے والی "رات"کے حصار میں ہے۔عابد حسین عابد کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کے زریعے نہ صرف مذہب کے نام پر سیاسی وسماجی نظام کو یرغمال بنانے والوں کے چہروں سے نقاب اتارنے کی بہت کامیاب کوشش کی ہے بل کہ ظلم وجبر کے اس نظام کو بدل ڈالنے کے لیے خود فرنٹ فٹ پر رہتے ہوئے قاری کو عملی جدوجہد کے لیے تیار کرتے نظر آتے ہیں۔نمونے کے طور پر دو شعر دیکھئے:
گھر بیٹھ کے ظالم کی مذمت نہیں کافی
سڑکوں پہ میرے یار اب آنا تو پڑے گا
پوری نفرت سے تیرے آئینہ خانہ پر
کھینچ ماروں گا اگر ہاتھ میں آیا پتھر
ماضی میں بھی ترقی پسند شاعروں کی کمی نہیں رہی اور آج بھی کئی ایک شاعروں کی شاعری ترقی پسندی کے جملہ معیارات پر پورا اترتی ہے لیکن مجھے کہنے دیں کہ عابد حسین عابد، حبیب جالب جیسے عوامی شاعر ہیں۔ جالب صاحب کی طرح عابد حسین عابد بھی استحصالی قوتوں کو للکارتے ہوئے کسی مصلحت، مفاد اور دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے۔دو شعر ملاحظہ فرمائیں:
تم کون سی زنجیر سے باندھو گے ارادے
اب شور مساوات تو ہر گھر سے اٹھے گا
انسان میرے عہد کا پتھر کی طرح ہے
اور حرف بغاوت اسی پتھر سے اٹھے گا
عابد حسین عابد کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی نظام کو بدل ڈالنے اور سماجی ومعاشی ناہمواریوں کا پردہ چاک کرنے کے ساتھ ساتھ مذہب کے نام پر مذہبی بے راہ روی کرنے والوں کی بھی بے باک انداز میں کلاس لی ہے۔اس حوالے سے ان کی نظمیں "مجھے جنت نہیں جانا"، "تم کون ہو"اور گواہی بار بار پڑھنے لائق ہیں:
ہم نے ذہنوں میں سوالات ابھارے عابد
ہم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں گرایا پتھر
عابد حسین عابد کے مجموعہ کلام میں شامل ہر غزل اور نظم تو کمال ہے ہی لیکن ان کے شاعرانہ مجموعے پر لکھے گئے معروف ترقی پسندوں کے اظہاریے بھی اپنے اندر لاجواب وسعت اور گہرائی لیے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر اسلم گورداسپوری اور مقصود خالق کے لکھے گئے تفصیلی مضمون اور اظہاریے عابد حسین عابد کی شاعری کے ساتھ ساتھ ترقی پسند تحریک کے ساتھ جڑے بہت سے پہلوؤں کو بھی سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔