سپرپم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے خلاف درخواستیں مسترد کردیں، قانون مؤثر ہوگا

  • بدھ 11 / اکتوبر / 2023

سپریم کورٹ نے ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023‘ کے خلاف دائر 9 درخواستوں پر سماعت کے بعد 5 کے مقابلے میں 10 کی اکثریت سے ایکٹ برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف دائر ہونے والی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تشکیل کردہ فل کورٹ بینچ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023‘ کے خلاف دائر 9 درخواستوں پر سماعت کی گئی جسے براہ راست نشر کیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 15 رکنی فل کورٹ بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے سب سے پہلے سب کا شکریہ ادا کیا اور پی ٹی وی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس نے ہمارے پاور پروجیکٹ کو کامیاب بنایا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پیرا ٹو اور تھری 5 کے مقابلے میں 10 کی اکثریت سے منظور کیا گیا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید نے مخالفت کی۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 برقرار رہے گا جو اسلامی جمہوری پاکستان کے آئین کے مطابق ہے اور اس کے خلاف درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیراگراف ٹو: 6 کے مقابلے میں 9 سے ایکٹ کے سیکشن 5 کی ذیلی شق ون، جو اپیل کے حق سے متعلق ہے، کو برقرار رکھا ہے۔ اس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید نے فیصلے کی مخالفت کی۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ پیراگراف تھری: سیکشن 5 کی ذیلی شق 7 کے مقابلے میں 8 کی اکثریت سے مسترد کردی گئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس مسرت ہلالی نے اس شق کے حق میں فیصلہ دیا جو اقلیتی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے سیکشن 5 کی ذیلی شق 2 کے تحت ماضی میں از خود نوٹس کے تحت دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حق کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اس شق کو سات کے مقابلے میں آٹھ کے تناسب سے مسترد کیا گیا ہے۔