سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے حق قانون سازی کو تسلیم کرلیا
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 11 / اکتوبر / 2023
سپریم کورٹ کے فل کورٹ بنچ نے’ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ مجریہ 2023‘ کے خلاف تمام اپیلیں مسترد کردی ہیں۔ اب یہ قانون نافذالعمل ہوگا۔ فل کورٹ نے یہ فیصلہ دس پانچ کی اکثریت سے دیا ہے جس میں اقلیتی ججوں کے خیال میں قانون سپریم کورٹ کی خود مختاری پر حملہ تھا جبکہ اب عدالت عظمی کے دس فاضل ججوں نے طے کیا ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق حاصل ہے اور مجوزہ قانون سے سپریم کورٹ کی خود مختاری متاثر نہیں ہوتی۔
اس قانون کا سب سے اہم پہلو چیف جسٹس کے بنچ سازی کے اختیارات پر قدغن عائد کرنا تھا، خاص طور سے سابق چیف جسٹس عمر عطابندیال کے دور میں چند من پسند ججوں کے بنچ قائم کرکے اہم آئینی و سیاسی معاملات پر حکم صادر کرنے کی روایت ڈالی گئی تھی۔ وکلا اور سیاست دانوں کے شدید احتجاج کے باوجود سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس طریقہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حتی کہ اہم معاملات میں سینئر ججوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔ یہ نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد بھی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے، انہیں اہم عدالتی کارروائی سے علیحدہ رکھا گیا۔ اسی طرح حکومت اور وکلا تنظیموں کی طرف سے اہم معاملات پر فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا کی جاتی رہی تھی لیکن جسٹس عمر عطا بندیال نے اس پر کان دھرنے کی ضرور محسوس نہیں کی۔
’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ پارلیمنٹ نے اپریل میں منظور کیا تھا ۔ تاہم اس کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں پر غور کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ نے ایکٹ پر عمل درآمد روک دیا تھا اور اس معاملہ پر مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی تھی۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے ججوں میں اختلاف رائے بھی سامنے آیا تھا کہ اس ایکٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کیے بغیر سپریم کورٹ کام نہیں کرسکتی اور چیف جسٹس سابق ازخود بنچ بنانے کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اسی طرح وکلا تنظیموں کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا رہا تھا کہ اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے تاکہ سپریم کورٹ کی خود مختاری اور پارلیمنٹ کے اختیار کے بارے میں اہم نکات پر وضاحت سامنے آسکے۔ تاہم عمر عطا بندیال نے ستمبر میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اس مقدمہ پر سماعت کا آغاز نہیں کیا اور اس پر دیا گیا حکم امتناعی مؤثر رہا جو آج فل کورٹ کے اکثریتی فیصلہ کے بعد غیر مؤثر ہؤا ہے۔ اب یہ قانون نافذ ہوگیا ہے۔
’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ میں چیف جسٹس کے بنچ سازی کا اختیار فرد واحد کی بجائے تین ججوں کے پینل کو تفویض کیا گیا ہے۔ اب سپریم کورٹ کے بنچ بنانے کا فیصلہ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین سینئر ترین ججوں کی کمیٹی کرے گی۔ اسی کمیٹی کو آئین کی شق 184 (3) کے تحت ازخود نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس سے پہلے یہ اختیار بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس تھا اور وہ کسی بھی معاملہ میں سو موٹو لینے اور اس پر بنچ بنا کر کارروائی شروع کرنے کے مجاز تھے۔ اپریل میں پارلیمنٹ نے جب اس طریقہ میں تبدیلی کے لیے قانون سازی کی تو تحریک انصاف کی قیادت میں سیاسی عناصر اور بعض وکلا نے اسے سپریم کورٹ کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا اور اس ایکٹ کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں۔ اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فوری طور سے لارجر بنچ بنا کر اس قانون پر حکم امتناعی جاری کردیا لیکن اس کی مستقل حیثیت کے بارے میں فیصلہ کرنے سے گریز کیا۔ اس رویہ کی وجہ سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا تھا کہ کیا سپریم کورٹ کے چند جج منتخب پارلیمنٹ پر اپنی مرضی ٹھونس سکتے ہیں۔ اور کیا عوام کے منتخب ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے سامنے محض عضومعطل کی حیثیت رکھتی ہے۔
عام طور سے یہ سمجھا جارہا تھا کہ اس قانون کے ذریعے سپریم کورٹ کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا حق و اختیار ہے جبکہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کرنے کی پابند ہے۔ تاہم سابق چیف جسٹس اسے عدالتی آزادی اور سپریم کورٹ کی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے رہے لیکن اس کے ساتھ ہی نہ تو انہوں نے فل کورٹ بنچ بنانے کا حوصلہ کیا اور نہ ہی اس اہم معاملہ پر سماعت کا آغاز کیا جاسکا۔ اس طرز عمل کی وجہ سے ملک میں سیاسی طور سے بے یقینی پیدا ہوئی اور سپریم کورٹ کے ججوں میں بھی اختلافات سامنے آئے ۔ البتہ قاضی فائز عیسی نے 19 ستمبر کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کے فوری بعد اس معاملہ پر سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ بنچ قائم کردیا اور اس کی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کا حکم بھی دیا۔ اس ایکٹ پر فل کورٹ نے کل پانچ سماعتیں کیں اور آج پانچویں سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کے دلائل کے ساتھ مکمل ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالتی فیصلے کا اعلان کردیا۔
فل کورٹ کے پندرہ ججوں میں سے دس نے قرار دیا ہے کہ یہ قانون آئین سے متصادم نہیں ہے۔ اس طرح اب اس پر جاری حکم امتناع ختم ہوگیا۔ اس قانون کے تحت نہ صرف بنچ سازی میں چیف جسٹس کے اختیارات محدود کیے گئے ہیں بلکہ اب انہیں تن تنہا سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل نہیں ہوگا۔ یہ اختیار آئین کے تحت چیف جسٹس کو دیا گیا تھا البتہ نئے ایکٹ کے تحت طے کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس دو سینئر ججوں کے ساتھ مل کر اس معاملہ پر فیصلہ کرسکیں گے۔ اس طرح کسی معاملہ میں اجتماعی دانش استعمال کرنے کا اصول قبول کیا گیا ہے۔ یعنی چیف جسٹس کے عہدے کو تمام اختیارات کا منبع قرار دینے کی بجائے ، انہیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سینئر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کریں۔
سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس متنازعہ قانون کے بارے میں دوٹوک اور واضح فیصلہ دے کر یہ اصول تسلیم کیا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار پر قدغن عائد نہیں کرسکتی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ آئین کے تحت دونوں ساتھ ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے سکتی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلوں کی روشنی میں یہ طے کرنا ایک اہم اور جرات مندانہ اقدام ہے کہ پارلیمنٹ ہی ملک کا سپریم ادارہ ہے جسے آئین کے تحت قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ اس فیصلہ سے پارلیمنٹ کے اختیار کو تسلیم کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یوں بالواسطہ طور سے ملک میں جمہوریت کی ضرورت کو مستحکم کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔
فل کورٹ کے اکثریتی فیصلہ کا مختصر پیغام یہی ہے کہ ملک کے کسی بھی دوسرے ادارے کو پارلیمنٹ کے حق قانون سازی میں مداخلت کا حق نہیں۔ گویا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ ہی سپریم ادارہ ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جب انتخابات کے حوالے سے شبہات پیدا کرکے جمہوریت کو ناقص قرار دینے یا کمزور کرنے کی کوششیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ اس فیصلہ سے سپریم کورٹ نے اپنا وزن ملک میں انتخابات اور جمہوری عمل کے تسلسل کے پلڑے میں ڈالا ہے۔
’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کے تحت دوسرا اہم ترین فیصلہ سوموٹو اختیار کے تحت قائم مقدمات میں اپیل کا حق دینے کے بارے میں ہے۔ اس سے پہلے چیف جسٹس آئینی شق 184 (3) کے تحت جو مقدمہ قائم کرتے تھے ، اس کے فیصلہ کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس طریقہ سے ایک تو فرد واحد کی صوابدید باقی تمام ضرورتوں پر حاوی سمجھی جاتی تھی ۔ ایسے مقدموںمیں معمول کے عدالتی نظام کی بجائے براہ راست سپریم کورٹ کا بنچ ہی مقدمہ کی سماعت کرتا تھا ، اس طرح انصاف حاصل کرنے کے باقی مدارج نظر انداز ہوجاتے۔ نہ یہ مقدمہ زیریں عدالت میں پیش ہوتا ہے اور نہ ہی ہائی کورٹ میں اپیل پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا حق بھی موجود نہیں تھا۔ البتہ نئے قانون نے متاثرین کو یہ حق عطا کیا ہے ،جسے آج فل بنچ نے 9۔6 کی اکثریت سے تسلیم کرلیا۔ اب سوموٹو مقدمہ میں متاثر ہونے والا فریق ایک ماہ کے اندر اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرسکے گا۔ البتہ فل کورٹ نے 8۔7 کی اکثریت سے اس حق کو مؤثر بہ ماضی کرنے سے انکار کیا ہے۔
ماضی میں ہونے والے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ملنے سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی نااہلی کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہوجاتا۔ سپریم کورٹ نے سوموٹو مقدمہ میں ہی انہیں تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔ اس شق کی وجہ سے نئے قانون کو جانبدارانہ بھی کہا جارہا تھا۔ البتہ فل کورٹ کے اکثریتی ججوں نے اس حصے کو ماننے سے انکار کرکے یہ طے کیا ہے کہ ملک اور سپریم کورٹ کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس حصے پر فل کورٹ کے فیصلہ سے سیاسی و قانونی اختلاف ضرور سامنے آئے گا لیکن متعلقہ فریق اس کے خلاف نظر ثانی کا حق استعمال کرسکیں گے۔
تاہم سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اب سوموٹو اختیار کے بارے میں پائی جانے والی بے یقینی ختم ہوگئی ہے۔ ماضی قریب میں چیف جسٹس اپنی صوابدید اور مرضی کے مطابق کسی بھی معاملہ کا نوٹس لے کر حکم صادر کرتے رہے ہیں، جن کے خلاف اپیل کا حق بھی حاصل نہیں تھا۔ اپیل کا حق ملنے اور چیف جسٹس کو سینئر ججوں کی مشاورت سے سوموٹو کا اختیار استعمال کرنے کا پابند کرکے ملک کے نظام انصاف میں ایک مستحسن تبدیلی متعارف کروائی گئی ہے۔ اس طرح فرد واحد کی من مانی کا اصول پس منظر میں چلا گیا۔