پاکستان کی طرف سے فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت، سیز فائر کا مطالبہ

  • جمعرات 12 / اکتوبر / 2023

پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینی شہری آبادی پر غیر متناسب اور اندھادھند بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے ساتھ مل کر غزہ میں سیز فائر پر کام کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ کی ’مکمل‘ ناکہ بندی کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیا، ایندھن سمیت اہم ضروریات کی چیزوں کی فراہمی کا راستہ روک دیا ہے اور پانی کی سپلائی بھی منقطع کردی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری اجتماعی سزا کے برابر ہے۔ پانی، بجلی، ایندھن کی معطلی کی وجہ سے غزہ کے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حلال احمر نے دونوں فریقین سے عام شہریوں کی مشکلات میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف ایک اسرائیلی وزیر کا کہنا ہے کہ جب تک یرغمال شہریوں کو آزاد نہیں جاتا، محاصرہ جاری رہے گا۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ہفتے سے اب تک پرہجوم ساحلی علاقے میں کم از کم ایک ہزار 55 افراد جاں بحق اور 5 ہزار 184 زخمی ہوچکے ہیں جب کہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے اور 2 ہزار 700 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ علاقے سے تقریباً 1500 جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بجلی، ایندھن اور پانی کی سپلائی منقطع کرنے کا فیصلہ غیر منصفانہ ہے اور اسے واپس لیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے لاکھوں افراد کی زندگیوں پر شدید منفی اثر پڑے گا۔ جارحیت اور تشدد کا موجودہ دور ایک افسوسناک یاد دہانی ہے۔ 7 دہائیوں سے زائد غیر قانونی غیر ملکی قبضے، جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا براہ راست نتیجہ ہے، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی شامل ہیں۔ جو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کو تسلیم کرتی ہیں۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان، اسرائیل کے حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں کے سنگین نتائج کے خلاف خبردار کرتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر معمولی سنگین صورتحال عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو کم کرنے کے لیے جنگ بندی میں سہولت کاری کے لیے فعال کردار ادا کرے۔

اسرائیل کی طرف فلسطینی شہری آبادی پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے جہاں اقوام متحدہ کے حقوق ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری اجتماعی سزا کے برابر ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کرتے ہوئے لاکھوں متاثرین تک کھانے پینے کی اشیا، ایندھن سمیت اہم ضروریات کی چیزوں کی فراہمی کا راستہ روک دیا ہے اور پانی کی سپلائی بھی منقطع کردی ہے جہاں حماس کی طرف سے اسرائیل پر اچانک حملے سے 12 سو افراد ہلاک ہوگئے۔

خیال رہے کہ فضائی اور زمینی حملوں میں اسرائیلی فورسز نے پڑوسی علاقوں، ہسپتالوں، اور اسکولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ اس وقت تک 12 سو فلسطینی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں اور تقریباً 3 لاکھ 38 ہزار افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے گروپ نے حماس کے جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے پہلے سے ہی متاثرہ لوگوں کے خلاف اندھادھند فوجی حملے کرنا شروع کردیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے حقوق گروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ کے لوگ 16 برس تک غیرقانونی محاصرے میں رہے ہیں اور 5 اہم جنگوں کا بھی سامنا کیا ہے۔

اسرائیلی بمباری اجتماعی سزا کے برابر ہے اور اس تشدد کے لیے کوئی جواز نہیں جہاں معصوم شہریوں پر اندھادھند حملے کیے جا رہے ہیں، چاہے وہ حماس کی طرف سے ہوں یا اسرائیلی فورسز کی جانب سے۔ یہ عالمی قانون کے تحت بالکل ممنوع ہے اور یہ جنگی جرم کے مترادف ہے۔ تنازعات میں شہریوں کو یرغمال بنانا بھی جنگی جرم ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کو ظاہر کیا جائے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن تل ابیب پہنچے ہیں۔ تاکہ واشنگٹن کی اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کر سکیں اور تنازع کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کام کر سکیں۔ انٹونی بلنکن دورہ اسرائیل کے بعد اردن جائیں گے، جہاں وہ شاہ عبداللہ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ واشنگٹن، غزہ میں شہریوں بشمول امریکیوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے پر بات چیت کے لیے کام کر رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ 500 سے 600 فلسطینی نژاد امریکی غزہ میں مقیم ہیں، ان میں سے کچھ باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ اور ہم محفوظ راستہ فراہم کرنے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔