طوفان الاقصیٰ آپریشن: اسرائیل کا نائن الیون
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 12 / اکتوبر / 2023
6اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ جسے ’’جنگ کپور‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اس کی پچاسویں برسی پر غزہ کی جہادی تنظیم حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کر ایسا دھاوا بولا کہ گویا یہودیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔
اسرائیل کی آہنی و کنکریٹ کی حفاظتی دیوار بلڈوزروں کی مدد سے کئی مقامات پر توڑ ڈالی گئی۔ حماس کے جہادی جانباز اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے ’’آپریشن الاقصیٰ طوفان‘‘ کے عین مطابق یہودیوں پر ٹوٹ پڑے، چاہے کوئی عسکری ڈیوٹی پر تھا یا عام سویلین جو بھی سامنے آیا گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ یا زندہ پکڑ کر یرغمالی بنا لیا گیا۔ ایک صحرائی مقام پر سینکڑوں یہودی نوجوان کسی میوزک کنسرٹ میں جمع تھے جو بھاگ سکا وہ بھاگ گیا باقی مار ڈالے گئے۔ یوں حماس کے جہادی اسرائیل کے بائیس کلو میٹر اندر اوفاکم اور اشکلون جیسے شہروں میں جا گھسے۔ یہ حملہ محض زمینی نہیں تھا پیرا شوٹ کے ذریعے شوٹر بھی اترے اور پیراگلائیڈرز بحری راستوں سے بھی آئے، ساتھ ہی اسرائیلی شہروں پر پانچ ہزار یا ساڑھے سات ہزار بارودی راکٹس کی برسات کر ڈالی گئی۔
آناً فاناً اسرائیلی سڑکوں پر یہودیوں کی لاشیں گری پڑی تھیں، بڑی بڑی عمارتوں سے آگ کے الاؤ اٹھ رہے تھے اور یہودیوں کے ہسپتال زخمیوں سے بھر نے شروع ہو گئے۔ پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج رہے تھے اور ذرائع ابلاغ سے اعلان ہو رہے تھے کہ کوئی اسرائیلی باہر نہ نکلے جہاں ہے وہیں دبک کر بیٹھ یا لیٹ جائے۔ ایسی بہت سی وڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں یہودیوں کے بچے سہمے ہوئے ہیں یا ان کی مائیں اموات پر رو رہی ہیں اور کچھ کو پکڑ کر حماس کے مجاہدین گھسیٹتے ہوئے گاڑیوں میں ڈال رہے ہیں۔ اسرائیلی پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو ٹی وی پر نمودار ہوتے ہوۓ اپنی قوم کو اور پوری دنیا کو یہ افسوسناک اطلاع دے رہے ہیں کہ حماس نے آج یوم کپور کی صبح ہمارے ملک کے اندر گھس کر ہم پر حملہ کر دیا ہے اور ہم حالت جنگ میں ہیں۔ یہ کوئی جھڑپ نہیں ہے پوری جنگ ہے جس کا ہم جواب دیں گے۔
دوسری طرف پورے عالم اسلام میں بالعموم اور غزہ و فلسطین میں بالخصوص جشن کا سماں ہے، یہ لوگ خوشی سے ناچ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دی جا رہی ہیں کہ ہمارے جہادیوں نے اسرائیل کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ انہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے، اب ان کے آباد کار ادھر آباد ہونے سے پہلے سو بار سوچیں گے ہم انہیں تباہ کر دیں گے۔ حماس کے رہنما اسماعیل حانیہ کو ساتھیوں سمیت خوشی سے سجدہ شکر بجا لاتے دکھایا گیا ہے۔ پوری دنیا میں بحث چھڑ گئی ہے کہ جس اسرائیلی طاقت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا وہ کہاں گئی ہے؟ ہر کوئی اسے اسرائیلی انٹیلیجنس کی ناکامی قرار دے رہا ہے۔ بھرپور ٹریننگ، فنڈنگ اور مخبروں کے باوجود موساد پیشگی اطلاع دینے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔
ایران، یمن، شام اور طالبان نے حماس کو اس زبردست کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پوری دنیا کے میڈیا میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ غریب فلسطینیوں کی تنظیم حماس نے اتنا بڑا قدام کیسے کر ڈالا؟ اس کی پشت پر کون ہے؟ اور اچانک اتنی بڑی یلغار کی وجہ کیا چیز بنی؟ امریکی سابق صدر ٹرمپ نے جوبائیڈن کے خلاف اپنا ابال نکالتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے محض ایک شخص کو چھڑانے کے لئے ایران کے ساتھ اتنی بڑی ڈیل کرتے ہوئے جو چھ ارب ڈالر فراہم کئے ہیں، وہ بھی اس کا باعث بنے ہیں اور یہ امر دنیا میں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے کہ شاہ کے بعد 1979 میں جب سے امام خمینی کا اسلامی انقلاب آیا ہے وہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کا کوئی موقع جانے نہیں دے رہا ۔
ایک طرف لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیلیوں کا ناک میں دم کر رکھا ہے تو دوسری طرف غزہ میں حماس اور اسلامی جہاد جیسی متشدد تنظیموں کی ایران مسلسل پشت پناہی، مالی و عسکری مدد کرتا چلا آ رہا ہے۔ ایرانیوں نے اسرائیل کے خلاف اپنی منافرت اور عملی کارروائیوں کو کبھی چھپا کر نہیں رکھا۔ اس سلسلے میں شام کے بشارالاسد کے ساتھ بھی ان کا ایکا ہے۔ ایک ایرانی صدر احمدی نژاد نے تو عالمی میڈیا کے سامنے یہ اعلان کرنے میں سفارتی آداب کو بھی پس پشت ڈال دیا تھا کہ ہم سرائیل کا ناپاک وجود صفحہ ہستی سے مٹا د ینا چاہتے ہیں۔
حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایرانی صدر خامنہ ای کی تازہ کتاب لہرائی جس کے چار سو صفحات پر محیط ساری بحث اسرائیلی ریاست کا وجود دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کے لئے ہے۔ ہم سب کو یہ بھی معلوم ہے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ’’ابراہام اکارڈ‘‘ کے نام سے جو دستاویز تیار کر رکھی ہے، اس کے ذریعے وہ ابراہمی مذاہب کے پیروکاران کو یہ تلقین کرتے رہے ہیں کہ اسرائیل کوتسلیم کرو۔ اب یہ پوری طرح امریکی پالیسی ہے کہ مسلم ممالک سے جس طرح بھی ممکن ہو اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرواتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی، سیاسی اور تجارتی تعلقات استوار کروائے جائیں۔ جی 20 کے بعد انڈیا، مڈل ایسٹ اور یورپ کاریڈور کی جو منظوری دی گئی اس میں عرب امارات، سعودی عرب، اردن اور اسرائیل کو ایک ریلوے ٹریک سے جوڑتے ہوئے ان کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھاوا دینے کا پلان بن چکا ہے۔ اس کی تفصیل نقشے کی مدد سے اسرائیلی پرائم منسٹر نے اقوام متحدہ میں بھی پیش کی ہےاور یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ تل ابیب سے اسرائیلی طیارے سرکاری وفود اور وزرا کو لے کر سعودی دارالحکومت ریاض میں لینڈ کئے ہیں، وہاں یو این کے تحت مشترکہ بات چیت یہاں تک پہنچی کہ سعودی کراؤن پرنس نے بھی میڈیا کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ ہم بعض شرائط کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اچھے تعلقات استوار کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
سعودی عرب کی حیثیت اس وقت بجا طور پر عالم اسلام کے لیڈر کی ہے۔ اگر سعودی عرب ہی اسرائیل کو تسلیم کرلیتا ہے تو پیچھے کسی اور کے لئے مخالفت کو بچتا ہی کیا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کی یکجہتی ایران کے لئے کتنی اذیت ناک ہوسکتی ہے اس کا تصور کیا جاسکتاہے۔ اسی طرح اس کے بعد فلسطین کے متشدد جہادی گروہ چاہے وہ حماس ہو یا اسلامی جہاد ان کا تو ایک طرح سے خاتمہ ہو کر رہ جاتا کیونکہ امریکا اور اس کے اتحادی ان انتہاپسند متشدد گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ فلسطینیوں کی نمائندہ وہ الفتح کو تسلیم کرتے ہیں جس کے قائد یاسر عرفات کے نائب محمود عباس ہیں۔ وہ ویسٹ بنک میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے صدر ہیں۔ حماس اور الفتح یا پی ایل او کی باہمی منافرت و مخاصمت قتل و غارت گری تک پہنچی ہوئی ہے جس کی قیمت غریب فلسطینی عوام اٹھا رہے ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں کہ حماس کے رہنما اسمعیل حانیہ جیسے لوگ اربوں ڈالرز کے مالک ہیں وہ ایسی یلغار کریں گے تو اسرائیل بھی جوابی اقدام اٹھائے گا اور پھر تعمیرنو اور بحالی کے نام پر عالمی امداد آئے گی تو اس سے حماس کی قیادت بھی مالا مال ہوگی۔
یہ وہ مکروہ دھندہ یا کاروبار ہے جو ان جہادیوں کا مطمع نظر ہے۔ جب تک ایسی سوچ اور ذہنیت چھائی رہے گی ارض مقدس میں امن کا قیام محض ایک خواب رہے گا۔ ہمارے عامۃ المسلمین کو بھی سوچنا چاہیے کہ اس نوع کی یلغار، مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ سے کیا اسرائیل کا خاتمہ ہو جائے گا؟ الٹے یورپی عوام پر یہ اثر پڑا ہے کہ بہت سے مغربی ممالک جو فلسطینیوں کی امداد کے لئے اچھی خاصی فن ڈنگ کر رہے تھے، اب وہ اس سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ فلسطینی عوام کے دکھ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے۔ ہزار جنازے اور اتنی تباہی اٹھانے کے بعد کیا اسرائیلی خاموشی سے گھر بیٹھ جائیں گے وہ حساب برابر کرنے کے لئے جوابی اقدام اٹھائیں گے تو پھر یہی بہادر جہادی دوسروں کے بچے مارنے والے اپنے بچوں کی تصاویر اٹھاۓ، مظلومیت کی چادر اوڑھ لیں گے۔
7اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کر جس طرح یہودیوں کو مارا ہے اس پر پوری دنیا ورطہ حیرت میں ہے کہ یہ کیسے ہو گیا کوئی اسے اسرائیل کی انٹیلیجنس فیلیر قرار دے رہا ہے تو کوئی صیہونی ریاست کی سکیورٹی کولیپس۔ وہ ملک جو ٹیکنالوجی مہارت میں سپر پاورز کا بھی باپ گردانا جاتا ہے جس کا سوفیسٹیکیٹڈ میزائل سسٹم ”آئرن ڈوم“ پیٹریاٹک میزائلز سے بھی کہیں آگے ترقی یافتہ، حساس تیز طرار یا سمارٹ ہے پوری دنیا میں اسرائیلی ٹیکنالوجی کی مانگ ہے اور پھر موساد جس کے سامنے ہماری آئی ایس آئی کیا، را اور سی آئی اے بھی پانی بھرتی ہیں۔ اسے بھی کانوں کان خبر نہ ہو سکی کہ حماس جو دانت دکھا رہی ہے وہ مسکرانے والے نہیں کاٹ کھانے والے ہیں۔ وہ لوگ مہینوں سے باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ اس بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے اسرائیلی طرز کا ایک گاؤں بنا کر اس میں حملوں کی پریکٹس کرتے رہے مگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پائی۔ چند گھنٹوں میں پورے اسرائیل کے اندر بارودی راکٹس کی جو برسات ہوئی ہے پہلی رپورٹ کے مطابق پانچ ہزار اور دوسری ڈیٹیل کے مطابق ساڑھے سات ہزار راکٹس اسرائیلی آبادیوں پر داغے گئے ہیں جو مغربی یروشلم اور تل ابیب تک مارکرتے گئے ہیں اور جس طرح چھاتہ بردار اترے ہیں اورانہی لمحات میں کچھ جہادی سمندری پیراگائیڈرز کے ذریعے بھی داخل ہوئے ہیں کہیں کنکریٹ اور کہی آہنی دیواریں بلڈوزروں کے ساتھ توڑ ی گئی ہیں تو یہ سب پلان کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ آخر اسرائیلی انٹیلیجنس اور حساس دفاعی ادارے ان سب سے بے خبر کیوں کر رہے؟
کہیں ایسے تو نہیں ہے کہ اسرائیلی سیاست و جمہوریت ان دنوں عدم استحکام کا شکار ہے بنجمن نیتن یاہو اگرچہ تجربہ کار اور منجھے ہوئے وزیراعظم ہیں لیکن حالیہ برسوں میں جتنی حکومتی اکھاڑ پچھاڑ ہوئی ہے شاید کچھ لوگوں کا دھیان ادھر جائے کہ اس وجہ سے ادارہ جاتی کمزوری آئی اور یہ امر بھی واضح ہے کہ پچھلے دو برسوں سے حماس نے کوئی ایسی بڑی شرارت نہیں کی۔ یہ جنگجو متشدد تنظیم بظاہر یہ شو کروا رہی تھی کہ وہ اپنے لوگوں کی معاشی ابتری مزید ابتر کرنا نہیں چاہتی وہ تو ان کے لیے اسرائیل کے اندر روزگار کے مواقع دلانے کے لیے پرامن رہنا چاہتی ہے اس سے اسرائیلیوں کو ایک نو کا اطمینان و اعتماد محسوس ہو رہا تھا ۔
اس سے بھی بڑی حقیقی اور اصل بات پر آتے ہیں جس کی طرف ہمارے میڈیا میں کسی نے بھی درست طور پر نشاندہی نہیں کی۔ سب نے یوم سبت کا تو حوالہ دیا ہے کہ ہفتے والے دن یہود اپنے عقیدے کی بنیاد پر کوئی کام کاج نہیں کرتے صرف عبادت کرتے ہیں۔ دوست احباب کو ملتے ہیں یا آرام کرتے ہیں ہمارے عامتہ الناس کو ادراک نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے مذہب، تہذیب اور تاریخ میں ”یوم کپور“ کی کیا اہمیت ہے۔ یوں سمجھیے کہ جس طرح ہمارے شیعہ مذہب میں عشرہ محرم کی اہمیت ہے اور آخری دسویں محرم کو “یوم عاشورہ” کے طور پر منایا جاتا ہے، اس سے بھی کچھ بڑھ کر یہودی مذہب میں “احکام عشرہ” کی اہمیت ہے جو ان کے مذہب کی جان ہیں۔ تورات اور قرآن میں بھی ان کے تذکرے موجود ہیں۔
ہالی وڈ کی تو ایک زبردست شاہکار فلم بنی تھی جس کا نام تھا “ٹین کمانڈمنٹس” درویش اپنے تمام دوست احباب کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ تورات میں بیان کردہ بہت سے حقائق اور موجودہ صورتحال کے پس منظر کو سمجھنے کیلیے اس غیر معمولی تاریخی فلم کو ضرور دیکھیں جو تمام واقعات پر محیط ہے بائیبل اور قرآن کے مطابق سیدنا موسیؑ سینائی میں کوہ طور پر 40 دن کے لیے جاتے ہیں اور “ٹین کمانڈمنٹس” یا “احکام عشرہ” خداوند کی طرف سے لے کر اپنی قوم کے پاس لوٹتے ہیں لیکن اپنی قوم میں سامری اور بچھڑے کا کھیل دیکھتے ہوئے سخت مضطرب اور رنجیدہ ہو جاتے ہیں بالآخر خداوند سے اپنی قوم کی کوتاہی پر معافی کے طلبگار ہوتے ہیں اس پس منظر میں بس یوں سمجھیے کہ “یوم کپور” خدا اور بندگان خدا سے معافی طلب کرنے کا مقدس ترین دن ہے عبرانی یا ھیبرو کیلنڈر کے مطابق
The Holiest day of Jewish year Yom Kippur means "day of atonement", it takes place on the tenth day of Ishri, the first month of the civil year & the seventh month of the religious year in the Lunisolar Hebrew.
احکامِ عشرہ کی یاد میں یہ دس دن روزوں کے ہوتے ہیں جن میں کھانا، پینا، نہانا، دھونا، جنسی عمل کرنا حتیٰ کہ سر یا جسم کو آئل لگانا یا چمڑے کے جوتے پہننا تک ممنوع ہوتے ہیں، یوں سمجھئے کہ ہمارے رمضان اور عید کی طرح ان کے بھی یہ دس دن روزوں اور عید کے ہوتے ہیں۔ جومسیحی مہینوں ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے شروع میں آتے ہیں۔ ان کی عید کا دن بہت سخت ہوتا ہے یعنی یومِ کپور کا روزہ جمعہ کو سورج غروب ہونے سے شروع ہوتا ہے اور ہفتے کی شام سورج غروب ہونے پر چوبیس گھنٹے بعد اختتام پذیرہوتا ہے۔ یہود یہ پورا دن شُول یا سیناگاگ جسے عبادت گاہ یا ہیکل کہہ لیں، عبادت کرتے، تورات پڑھتے، توبہ تائب ہوتے گزارتے ہیں اپنے بچھڑے ہوئے دوستوں عزیزوں کے لیے خازان کے ساتھ مل کر اجتماعی توبہ اور اپنے تمام احباب سے معافی مانگی جاتی ہے۔ شام کو شول میں یا اپنے گھر آ کر فیملی اور عزیزوں میں اجتماعی افطاری کی جاتی ہے جس میں اچھے اچھے کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔
فلسطینیوں سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ یہود یا اسرائیلیوں کے نزدیک “یوم کپور” کی کیا اہمیت ہے اور دنیا و مافیہا سے بے خبر وہ کس دلجمعی سے اپنے روزے عبادت دعا اور توبہ و معافی میں مشغول ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلمان عرب ان پر جب بھی حملہ آور ہوتے ہیں ان کی پلاننگ یہی ہوتی ہے کہ عین یوم کپور کے روز ان پر بے خبری میں دھاوا بولا جائے۔ 6 اکتوبر 1973کی جو چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ ہوئی تھی اسے اسرائیلی تاریخ بلکہ مڈل ایسٹ کی ہسٹری میں یوم کپور کی وار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس افسوسناک جنگ کے 50 سال مکمل ہونے پر حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کر جو دھاوا بولا ہے۔ وہ بھی عین یوم کپور اور یوم سبت کی صبح تھی جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے یہودیوں کی تعداد گیارہ سو سے تجاوز کر چکی ہے، 3 ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں اور 130 کے قریب یرغمالی بنا کر غزہ لے جائے گئے ہیں۔
اسرائیل نے خود کش حملوں سے بچاؤ کی خاطر جو آئرن کے جنگلے اور کنکریٹ کی دیوار بنا رکھی ہے غزہ کی طرف سے اس میں چھ کراسنگ پوائنٹس ہیں جبکہ ساتواں پوائنٹ مصر کی طرف ہے حماس کے جہادی آپریشن الاقصی فلڈ کے مطابق کئی مقامات سے حملہ آور ہوئے ہیں اور 22 کلومیٹر اندر تک گئے ہیں۔ لبنان کی طرف سے حزب اللہ بھی حملہ آور ہو چکی ہے۔ شام کی سرحد سے بھی جھڑپیں ہوئی ہیں یہود نے اپنی حالیہ نصف صدی میں ایسی تباہی نہیں دیکھی جسے آج اسرائیل کا ”نائن الیون“ ،” پرل ہاربر“ یا “ہولو کاسٹ” قرار دیا جا رہا ہے۔
اہل مشرق ہی نہیں پورا مغرب بھی اسرائیل کی سب سے بڑی انٹیلیجنس ناکامی پر حیرت زدہ ہے جس طرح عام بے گناہ سویلینز کو ٹارگٹ کرتے ہوئے مارا گیا ہے، وہ بھی ان کی عبادت والے مقدس دن، کیا اس جہاد کا اخلاقی جواز وضاحت طلب قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے برعکس حماس والے جہادی از خود عورتوں بچوں اور عام شہریوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے عین گنجان آبادیوں کے اندر سے تباہی والے راکٹس اور میزائلز چلاتے ہیں تاکہ مابعد مظلومیت کا لبادہ اوڑھا جا سکے۔ اب ردعمل آنے پر مظلومیت کارڈ بے دردی سے کھیلا جائے گا۔ درویش کا گمان ہے کہ اسرائیل کی آئندہ نسلیں دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہو کر اپنا ” یوم کپور” سوچ سمجھ کر ہی منائیں گی۔